menu close menu

نیا ہجری سال منانے کا شرعی حکم – مختلف علماء کرام

Ruling regarding celebrating new Hijree year – Various 'Ulamaa

نیا ہجری سال منانے کا شرعی حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ

فضیلۃ الشیخ نئے سال کی آمد آمد ہے اور بعض لوگ آپس میں مبارکبادیوں کا تبادلہ کررہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ’’كل عام وأنتم بخير‘‘ (آپ ہرسال یا صدا بخیر رہیں)، اس مبارکبادی کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على عبده ورسوله، وخيرته من خلقه، وأمينه على وحيه، نبينا وإمامنا وسيدنا محمد بن عبد الله وعلى آله وأصحابه ومن سلك سبيله، واهتدى بهداه إلى يوم الدين. أما بعد:

نئے سال کی مبارکباد دینے کی ہم سلف صالحین سے کوئی اصل نہیں جانتے، اور نہ ہی سنت نبوی یا کتاب عزیز اس کی مشروعیت پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی آپ سے اس کی پہل کرے تو اس کے جواب میں خیرمبارک کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگرکوئی آپ سے کہے کہ ’’کل عام وأنت بخیر‘‘ یا  ’’فی کل عام وأنت بخیر‘‘ کہے تو کوئی مانع نہیں کہ آپ بھی اسے ’’وأنت کذلک‘‘ (آپ  بھی ہرسال بخیر رہیں) اور ہم اللہ تعالی سے ہر بھلائی کے اپنے اور آپ کے لئے دعاءگو ہیں یا اسی سے ملتا جلتا کوئی کلمہ کہہ دے۔ البتہ خود اس میں پہل کرنے کے بارے میں مجھے کوئی اصل بنیاد (دلیل) نہیں معلوم۔

(نور علی الدرب فتوی متن نمبر 10042 شیخ رحمہ اللہ کی آفیشل ویب سائٹ سے ماخوذ)

 

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ

کتاب ’’الضياء اللامع‘‘  ص 702 میں فرماتے ہیں:

یہ سنت میں سے نہیں کہ ہم نئے ہجری سال کی آمد پر عید منائیں یا مبارکبادیوں کا تبادلہ کریں۔

بعض دوسرے مواقع پر بھی شیخ رحمہ اللہ سے یہی سوال کیا گیا:

سوال: فضیلۃ الشیخ! آپ نے نئے سال کا ذکر فرمایا، ذرا یہ بھی بتادیجئے کہ نئے ہجری سال پر مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے؟ اور مبارکباد دینے والوں سے کیسا سلوک کرنا واجب ہے؟

جواب: اگر کوئی آپ کو مبارکباد دے تو اس کا جواب دے دیجئے، لیکن خود کبھی پہل نہ کریں۔ یہی اس مسئلہ میں صواب مؤقف ہے۔ اگر کوئی شخص مثلاً  آپ کو کہے، آپ کو نیا سال مبارک ہو تو آپ جواباً کہیں کہ آپ کو بھی مبارک ہو اور اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیر وبرکت والا بنادے۔ لیکن آپ خود سے اس کی ابتداء نہ کیجئے، کیونکہ مجھے سلف صالحین سے یہ بات نہیں ملی کہ وہ نئے سال پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوں۔بلکہ یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ سلف تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور سے قبل محرم الحرام کو نئے سال کا پہلا مہینہ ہی تصور نہیں کرتے تھے۔

(اللقاء الشھري: 44، سن 1417ھ کے آخر میں)

 

سوال: فضیلۃ الشیخ آپ کی کیا رائے ہے نئے ہجری سال کی مبارکبادیوں کے تبادلے کے بارے میں؟

جواب: میری رائے میں نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شریعت سے ثابت نہیں۔ یعنی ہم لوگوں سے یہ نہیں کہیں گے کہ آپ کے لئے یہ سنت ہے کہ نئے سال کی ایک دوسرے کو مبارکباد دیں، لیکن اگر کوئی ایسا کرلے تو کوئی حرج نہیں۔ اور چاہیے کہ جب کوئی نیا سال مبارک کہہ دے تو وہ اسے اچھا جواب دے یعنی اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیروبرکت والا بنادے۔ ہماری اس مسئلے میں یہی رائے ہے، اور یہ امورِ عادیہ (عام عادات) میں شمار ہوتے ہیں ناکہ امورِ تعبدیہ (عبادت) میں۔

(لقاء الباب المفتوح: 93، بروز جمعرات 25 ذی الحجۃ سن 1415ھ)

 

سوال: کیا نئے سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

جواب: نئے سال کی مبارکباد دینے کی سلف صالحین سے کوئی اصل ثابت نہیں۔ اسی لئے آپ اس کی ابتداء نہ کریں، لیکن اگر کوئی آپ کو مبارکباد کہہ دے تو اس کا جواب دے دیجئے۔ کیونکہ فی زمانہ یہ بہت عام رواج ہوچکا ہے، اگرچہ اب اس میں کچھ کمی آرہی ہے الحمدللہ کیونکہ لوگوں کے پاس علم آنے لگا ہے، حالانکہ اس سے قبل تو نئے سال کی مبارکبادی والے کارڈوں

(new year greetings card) کا تبادلہ ہوا کرتا تھا۔

 

سائل: وہ کون سا صیغہ یا الفاظ ہیں کہ جس کے ساتھ لوگ نئے سال کی مبارکبادی دیتے ہیں؟

جواب: اگر وہ ایسے کہیں کہ نیا سال مبارک ہو، اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ آپ کے گزشتہ برس کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور آئندہ برس میں آپ کی مدد فرمائے، یا اس جیسا کوئی کلمہ۔

 

سائل: کیا یہ کہا جائے ’’كل عام وأنتم بخير‘‘؟

جواب: نہیں ’’كل عام وأنتم بخير‘‘ نہیں کہنا چاہیے، نہ عیدالاضحی میں، نہ عیدالفطر میں اور نہ ہی اس موقع پر۔

(لقاء الباب المفتوح: 202 بروز جمعرات 6 محرم الحرام سن 1420ھ)

 

اللجنۃ الدائمۃ  للبحوث العلمیۃ والافتاء

(دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات وفتوی نویسی، سعودی عرب)

نئے ہجری سال کی مبارکباد دینا جائز نہیں کیونکہ اس کی مبارکباد دینا غیرمشروع ہے۔

(فتوی نمبر 20795)

 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

سوال: اگر کوئی شخص کہے ’’کل عام وأنتم بخیر‘‘ (عرف عام میں: سال نو مبارک یا happy new year)، تو کیا ایسا کہنا مشروع (شرعاً جائز) ہے؟

جواب: نہیں یہ مشروع نہیں اور نہ ہی ایسا کہنا جائز ہے۔

(کتاب ’’الإجابات المهمة‘‘  ص 230)

October 2, 2016 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com