menu close menu

نوجوانوں سے متعلق چند مسائل رمضان – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Selected Ramadaan Fatawaa for youth – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

نوجوانوں سے متعلق چند مسائل رمضان   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: شرح کتاب اخصر المختصرات اور شیخ کی آفیشل ویب سائٹ سے فتاوی رمضانیۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اخصر المختصرات کے مصنف فرماتے ہیں:

جن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے۔۔۔’’یا ہاتھ سے منی خارج کرے‘‘

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

اپنے ہاتھ سے منی خارج کرنا (مشت زنی) اسے عادت سریہ (خفیہ عادت) بھی کہا جاتا ہےاگر کوئی ایسا کرے اور اس کی منی خارج ہوجائے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے (یعنی ٹوٹ جاتا ہے) کیونکہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں روزے دار نے میرے لیے کھانا پینا اور شہوت چھوڑدی۔ اور منی کا خارج ہونا یا مشت زنی وغیرہ اسی شہوت میں سے ہے کیونکہ یہ اپنے اختیار سے کوئی چیز اپنے بدن سے نکال رہا ہے تو اس کا روزہ باطل ہوگیا کیونکہ اس نے اللہ کے لیے اپنی شہوت نہيں چھوڑی۔

 

مصنف کہتے ہیں:

’’یا فرج سے باہر مباشرت کرے تو منی خارج ہوجائے یا مذی خارج ہو‘‘

شرح:

یعنی منی نکل آئے خواہ مشت زنی سے ہو یا عورت سے مباشرت کے ساتھ ہو یا اسے شہوت کے ساتھ اسے یا اس کی جلد کو چھونے سےمنی خارج ہوجائے اور فارغ ہوکر شہوت ٹوٹ جائے تو اس کا روزہ باطل ہوگیا ۔ البتہ مذی منی کے علاوہ چیز ہے۔ مذی وہ شفاف لیس دار مادہ ہوتا ہے جو شہوانی خیالات یا (حرکت سے بلاشعور )خارج ہوتا ہے۔ مذی بھی بعض مذاہب کے نزدیک شہوت کی اسی نوع میں سے ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

 

مصنف کہتے ہیں:

’’یا نظر سے کوئی شہوانی چیز دیکھتا رہا اور منی خارج ہوگئی‘‘

شرح:

یا پھر اس میں سے منی خارج ہوئی شہوت کے ساتھ عورتوں کو بازار وغیرہ میں دیکھنے سے خصوصاًجو بے پردہ اور بن ٹھن کر نکلتی ہیں تو وہ انہیں دیکھتا رہا یہاں تک کہ اس کی منی خارج ہوگئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ پس منی کا خارج ہونا خواہ مشت زنی سے ہو یا فرج کے علاوہ مباشرت سے ہو یا دیکھتے رہنے سے ہو روزے کو باطل کردیتا ہے کیونکہ یہ اس نے اپنے اختیار سے کیا ہے۔ اس پر واجب تھا کہ وہ اپنی نظروں کو نیچا رکھے فرمان الہی ہے:

﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ﴾ (النور: 30)

(مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ  اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بےشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں)

اور یہ حکم عام ہے خواہ روزے کی حالت میں ہو یا اس کے علاوہ لیکن روزے کی حالت میں تو یہ حرام ہے اگر اس کے نتیجے میں منی خارج ہو اور روزہ ہی باطل ہوجائے، ساتھ میں گناہ بھی سر ہو۔  ملاحظہ کریں کہ مصنف نے فرمایا شہوانی نظر سے باتکرار دیکھتا رہا  لیکن اگر کسی نے بس ایک نظر بلاقصد دیکھ لیا اور اس کی نظر کسی فتنہ پرور عورت پر پڑ گئی اور منی خارج ہوگئی تو اس پر کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ پہلی نظر یعنی جو بلاقصد اچانک پڑ جاتی ہے تیرے لیے ہے یعنی اس پر مواخذہ نہیں اور اس کے نتیجے میں جو کچھ بھی ہو وہ معاف ہے۔

(شرح کتاب اخصر المختصرات)

 

سوال: اس شخص کا کیا حکم ہے جو رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کرتا ہے اور اس کے ذمے کیا ہے اگر اس نے اس کی قضاء ادا نہیں کی اور اس پر ایک سے زائد رمضان گزر گئے؟

جواب: اگر وہ مشت زنی کرتا ہے تو یہ حرام ہے چاہے رمضان میں ہو یا اس کے علاوہ بھی۔ اگر اس کے کرنے سے انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ اس نے مشت زنی کے ذریعے منی کو خارج کیا ہے چناچہ اس کا روزہ ٹوٹ چکا ہے ساتھ ہی گنہگار بھی ہے۔ پس اس کے ذمے ہےکہ توبہ کرنے میں جلدی کرے اور ساتھ ہی اس کی جگہ قضاء روزہ بھی رکھے۔ اور دوسرا رمضان آنے سے پہلے قضاء روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہر توڑے گئے روزے کی قضاء کے ساتھ ساتھ ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے۔

 

سوال: اگر کسی کو رمضان میں دن کے وقت بلاقصد احتلام ہوجائے کیا اس سے اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا، حالانکہ اس کا سبب اس کی سوچ تھی؟

جواب: جسے احتلام ہوجائے تو اس کے ذمے کچھ بھی نہیں کیونکہ احتلام اس کے اپنے اختیار سے نہیں ہوا اور نہ ہی یہ اس کے روزے کو فاسد کرتا ہے۔ اسی طرح سے جو محرم (حج وعمرہ کرنے والا) ہے اس کا احرام بھی فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ احتلام انسان کے قصد واختیار سے نہیں ہوتا وہ تو بلااختیار ہی خارج ہوجاتا ہے۔ لیکن اس پر غسل جنابت واجب ہے۔

 

سوال: جو کوئی رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کرکے انزال کرلے تو کیا اس کے ذمے قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی ہے؟

جواب: آپ نے پہلے بھی جواب سن لیا کہ یہ حرام ہے اور اس سے توبہ واجب ہے۔ ساتھ ہی اس دن کے روزے کی قضاء بھی۔ مگر اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ کیونکہ یہ جماع نہیں بس شہوت ہے۔

 

سوال: کسی شخص نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی اور بیوی  کا انزال ہوگیا تو بیوی کے ذمے کیا لازم ہے؟

جواب: اس شخص نے یہ غلطی کی اور اپنی بیوی کے روزے کو فاسد کرنے کا سبب بنا۔ اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ اپنا روزہ بھی فاسد کرنے کا سبب بن جاتا۔ لہذا اس قسم کے فضول کام روزے میں نہ کیے جائیں۔ کیونکہ روزے دار نے تو اپنا کھانا، پینا اور اپنی شہوت اللہ تعالی کے لیے چھوڑی ہے۔ اور جب عورت کا انزال ہوگیا تو اس کا روزہ فاسد ہوگیا اور اس کے ذمے اس کی قضاء دینا ہے۔ اور مرد کو بھی اس کا گناہ ہوگا پس اسے چاہیے کہ اللہ تعالی کے حضور توبہ کرے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرے۔

 

سوال: آپ پر یہ بات مخفی نہیں کہ ماہ رمضان میں کس طرح انسانی شیطان لوگوں پر ٹی وی سیریلز وغیرہ کی شکل میں مسلط ہوتے ہيں ۔ یہ سائل پوچھتا ہے: آپ ایک طالبعلم کے لیے کیا توجیہ فرمائیں گے کہ وہ اس قسم کے شہوانی مناظر دیکھنے والوں کو کس طرح نصیحت کرے خصوصاً جب وہ اس کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں؟

جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ‘‘([1])

(تم میں سے جو کوئی منکر کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھوں سے بدل دے، اگر وہ اس کی استطاعت نہيں رکھتا تو اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو کم از کم دل سے تو برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے)۔

پس آپ منکر کا انکار اپنی استطاعت بھر کریں، لوگوں کو وعظ ونصیحت کی ضرورت ہے انہیں وعظ کریں، کیونکہ لوگوں میں غفلت، اعراض وجہالت بہت ہے۔ اگر آپ انہيں ڈرائیں گے، خبردار کریں گے، وعظ کریں گےاوریاددہانی کرائیں گے تو ہوسکتا ہے بہت سے لوگ ان میں سے اللہ تعالی کے حضور تائب ہوجائیں، اور یہ باتیں چھوڑ دیں یا کم از کم آپ تو برئ الذمہ ہوجائیں گے۔

 

سوال: آدمی نے اپنی بیوی کو رمضان میں دن کے وقت بوسہ دیا جس سے اس کی مذی خارج ہوگئی، تو کیا اس کا روزہ فاسد ہوگیا؟

جواب: فقط مذی روزے کو فاسد نہیں کرتی جو چیز روزے کو فاسد کرتی ہے وہ منی کا انزال ہے۔

 

سوال: اس نوجوان کا کیا حکم ہے جو روزے کی حالت میں فون پر لڑکیوں سے بات چیت کرتا ہے؟ اگر وہ دونوں آپس میں منگیتر ہوں؟

جواب: نوجوانوں کا فون پر لڑکیوں سے بات چیت کرنا حرام ہے کیونکہ اس میں بہت فتنہ ہے۔ الا یہ کہ لڑکی اس کی منگیتر ہو اور بات بھی محض منگنی کی مفاہمت ومصلحت سے تعلق رکھتی ہو۔جبکہ اس میں بھی اولیٰ اور محتاط روش یہی ہے کہ اس کے ولی سے مخاطب ہوا جائے ۔ البتہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کا بنا منگنی کے بات چیت کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں شدید فتنہ ہے، اور برائی میں واقع ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے۔

اور اگر ایسا روزے کی حالت میں کیا جائے تو یہ روزے میں نقص کی صورت میں اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک روزے دار سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے روزے کی حفاظت کرے ہر اس چیز سے جو اس میں خلل یا نقص کا سبب بنے۔ کتنے ہی اخلاقی مصائب واجتماعی جرائم اس لڑکے لڑکیوں کی فون پر بات چیت وتعلقات کی وجہ سے وقوع پذیر ہوچکے ہیں۔پس لڑکیوں کے اولیاء (سرپرستوں) پر واجب ہے کہ وہ انہیں اس خطرے سے منع کریں اور ان کی کڑی نگرانی کریں۔

 

سوال: مجھے اعتکاف کی حالت میں جنابت لاحق ہوگئی۔ یہاں وضوء خانوں میں غسل کرنے کی جگہ نہيں۔ اب میں کیا کروں کیا گھر چلا جاؤں؟

جواب: اگر آپ کو اعتکاف کی حالت میں جنابت لاحق ہوگئی تو ایسی جگہ چلے جائیں جہاں سکون سے مطلوبہ غسل کرسکیں چاہے ان وضوء خانوں میں ہوجو مسجد سے متصل ہیں یا اپنے گھر میں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

 


[1] صحیح مسلم 52۔

 

June 11, 2016 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com