menu close menu

نواقض اسلام کے تعلق سے لوگوں کی اقسام – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Types of people regarding the nullifiers of Islaam – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

نواقض اسلام کے تعلق سے لوگوں کی اقسام

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس فى شرح نواقض الإسلام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ان نواقض کے تعلق سے لوگوں کی تین اقسام ہیں دو مختلف انتہاؤں پر اور ایک وسط و اعتدال پر ہیں۔

پہلی انتہاء:

 جو تکفیر اور لوگوں پر کفر کا حکم لگانے میں غلو کرتے ہیں، او ربلاسوچے سمجھے یا فقہ یا معرفت کے بس لوگوں کی تکفیر کرتے ہيں۔ یہی ان خوارج کی بنیاد ہے کہ جنہو ں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اورخلفائے راشدین کے دور میں، پھر بعد کے زمانوں میں خروج کیا۔ پس جو کوئی بھی ان کی مخالفت کرتا اس کی وہ تکفیر کرتے اور اس کے خون کو حلال سمجھتے۔ چناچہ خوارج کے پاس تین بنیادیں ہیں:

1- شرک سے کم تر کبیرہ گناہوں پر لوگوں کی تکفیر کرنا۔

2- مسلمان حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے خروج اختیار کرنا۔

3- مسلمانوں کے خون کو حلال قرار دینا۔

جس کا سبب صرف ایسے نصوص کو لینا  جن کا ظاہر کفر و شرک پر دلالت کرتا ہو  اسے اس کے ظاہر کے مطابق لینا بنا ان دوسرے نصوص کے ساتھ جمع کیے کہ جو اس کی تفسیر ووضاحت کرتے ہیں۔ کیونکہ کفر کی دو اقسام ہیں:

کفر اکبر اور کفر اصغر۔

اسی طرح سے شرک بھی دو اقسام میں تقسیم ہوتا ہے:

شرک اکبر او رشرک اصغر۔

شرک اکبر اور کفر اکبر  انسان کو دین سے خارج کرکے اسلام کو ختم کردیتے ہیں۔

شرک اصغر اور کفر اصغر  دین سے خارج تو نہیں کرتے لیکن یہ اسلام و ایمان میں کمی و نقص کا سبب بنتےہیں۔

تو یہ لوگ یعنی خوارج  اِس میں اور اُس میں کوئی فرق نہيں کرتے۔اور ان کے یہاں کوئی کفر اصغر ہوتا ہے نہ شرک اصغر، ان کے یہاں تو کفر وشرک صرف اور صرف ایک ہی طرح کا ہوتا ہے یعنی دین سے خارج ہونا۔ پس انہوں نے نصوص کے ظاہر کو لیا اور ان دوسرے نصوص کو چھوڑ دیا کہ جو ان امور کی تفصیل بیان کرتے ہیں اور انہيں دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے عدم فقہ، دین سے عدم معرفت اور علم میں عدم رسوخ کی وجہ سے، حال ان کا یہ ہوگیا کہ لوگوں  کی تکفیر کرتے ہیں اور بلافقہ، بلاسوچے سمجھے اور نصوص کو بے محل استعمال کرتے ہوئے تکفیر میں غلو کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس فقہ نہیں یہ محض پڑھنے والے قاری ہیں جو بس لفظ کو پڑھتے ہیں اس کے معنی کا فہم نہیں رکھتے پھر اسے لوگوں پر چسپاں کرتے ہیں۔

یہ تھے خوارج اور صد افسوس کہ انہی کے ورثاء  آج موجود ہیں جو لوگو ں کی تکفیر کرتے ہیں، تکفیر میں غلو کرتے ہیں اور خون بہانے کو حلال گردانتے ہیں اس حجت کے ساتھ کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ لہذا انہی کے جانشین ہمارے یہاں آج نوجوانوں، جاہلوں اور نام نہاد عالموں میں سے موجود ہيں۔

دوسری انتہاء:

اس پر مرجئہ ہیں جو کہتے ہیں ایمان بس دل میں ہوتا ہے اس میں عمل داخل نہیں، اور ان میں سے بعض کہتے ہیں: اس میں قول بھی داخل نہیں ایمان بس دل سے ہوتا ہے، اور عمل بھی اس میں داخل نہیں۔ انسان جو چاہے عمل کرتا پھرے  وہ کافر نہیں ہوتا، اور کہتے ہیں: ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ نقصان دہ نہیں، جیسے کفر کے ہوتے ہوئے کوئی نیک کام نفع بخش نہیں۔ یہ ہے ان کی بنیاد۔ انہوں نے محض وعدوں پر مبنی نصوص کو لیا جس میں اللہ تعالی نے مغفرت ورحمت کے وعدے فرمائے ہیں، مگر ان نصوص کو ان دوسرے نصوص کے ساتھ جمع نہیں کیا جس میں وعید ہے، جن میں کفر و شرک و گناہوں و نافرمانیوں سے ڈرایا گیا ہے۔انہوں نے محض وعدوں پر مبنی نصوص کو لیا اور صرف امید پر ہی  بھروسہ کرلیا۔ایک طرف وہ خوارج تھے کہ جنہوں نے محض وعید کے نصوص کو لیا اور وعدے، رحمت و امید کے نصوص کو چھوڑ دیا، تو انہو ں نے بس خوف کی جانب کو لیا اور وہ خوف ان پر شدت سے حاوی ہوگیا۔ اور ان پر لوگوں کی تکفیر کرنا، ان کی جان و مال کو حلال جاننا اس فاسد مذہب کی وجہ سے غالب آگیا۔

تیسرا معتدل گروہ:

یہ اہل سنت  والجماعت  ہیں جو کہ ان دونوں مذاہب کے مابین وسط پر ہےیعنی مرجئہ کا مذہب اور خوارج کا مذہب۔ پس یہ تمام نصوص کو جمع کرتے ہیں اور کہتے ہیں: بلاشبہ قرآن وسنت میں جو کفر کا لفظ آیا ہے تو وہ دو اقسام میں تقسیم ہوتا ہے، کفر اکبر اور کفر اصغر، اسی طرح شرک اکبر اور شرک اصغر۔ اور ایسے گناہ بھی ہوتے ہيں جو شرک سے کم تر ہوں اس کے مرتکب کی تکفیر نہیں کی جاتی۔

پس شرک اکبر اور کفر اکبر ملت اسلامیہ سے خارج کردیتے ہیں، جبکہ شرک اصغر اور کفر اصغر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتے برخلاف خوارج کے عقیدے کے، ہاں البتہ ان سے ایمان میں کمی ضرور ہوتی ہے برخلاف مرجئہ کے عقیدے کے۔یہ دونوں مختلف انتہاؤں پر ہیں۔ اور الحمدللہ اہل سنت والجماعت وسط و اعتدال پر ہیں، وہ وعدوں اور وعید کے نصوص کے مابین جمع کرتے ہیں، اسی طرح سے خوف و امید کے مابین بھی جمع کرتے ہیں۔ صرف امید کو ہی نہیں لے بیٹھتے جیسا کہ مرجئہ کرتے ہیں، نہ ہی صرف خوف کو لے بیٹھتے ہيں جیسا کہ خوارج کرتے ہیں۔

جس کسی نے اللہ کی عبادت صرف خوف کے ساتھ کی تو وہ خارجی ہے، اور جس نے اللہ کی عبادت صرف امید کے ساتھ کی تو وہ مرجئی ہے، اور جس نے اللہ کی عبادت صرف محبت کے ساتھ کی تو وہ صوفی ہے، ہاں جس نے اللہ کی عبادت خوف و امید و محبت و رغبت و ڈر کے ساتھ کی تو وہ توحید والا سنی ہے۔تو یہ اس عظیم مسئلے کی تفصیل تھی۔

October 19, 2018 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com