menu close menu

نواقض اسلام اور تکفیر کے اصول و ضوابط کا صحیح علم نہ ہونے کی خطرناکی – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Dangers of the ignorance from the nullifiers of Islaam and the rules & regulations of Takfeer – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

نواقض اسلام اور تکفیر کے اصول و ضوابط کا صحیح علم نہ ہونے کی خطرناکی

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس فى شرح نواقض الإسلام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پس ان نواقض کی معرفت حاصل کرنے کی بڑی اہمیت ہے تاکہ انسان بصیرت پر رہے۔ نہ خوارج کے ساتھ ہو نہ ہی مرجئہ کے۔ بلکہ وہ صرف اہل سنت والجماعت ہی کے ساتھ ہو کہ جو ان نصوص کو جمع کرتے ہیں اللہ تعالی کے اس فرمان کی تعمیل کرتے ہوئے کہ:

﴿ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ  ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا  ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ، رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً  ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ، رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ﴾

(آل عمران:  7-9)

( وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ دوسری متشابہات (ایک سے زیادہ معانی رکھتی ) ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں کجی  ہوتی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو متشابہات  ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی تاویل (اصل مراد) کی ٹوہ کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ، اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر وہی جو عقلوں والے ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کرنا، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا ءفرما، بےشک تو ہی الوہاب (بےحد عطا ءکرنے والا) ہے۔ اے ہمارے رب ! بےشک تو سب لوگوں کو اس دن کے لیے جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا)

اور جن لوگوں کے دل میں ٹیڑھ پن ہوتا ہے ان میں سے خوارج و مرجئہ بھی ہیں۔ پس خوارج متشابہات کو لیتے ہیں  اور مرجئہ بھی متشابہات کو لیتے ہیں   یہ دونوں ہی متشابہہ کو محکم کی طرف نہيں لوٹاتے۔ کیونکہ بے شک قرآن کا بعض حصہ بعض حصے کی تفسیر کرتا ہے، اور بعض بعض کی وضاحت کرتا ہے۔ جبکہ جو اہل سنت والجماعت علم میں راسخین ہیں وہ ان دونوں امور کو لیتے ہيں کہ متشابہہ کو محکم کی طرف لوٹاتے ہیں اور متشابہہ کی محکم سے تفسیر کرتے ہیں۔پس اللہ نے انہیں حق کی جانب ہدایت عطاء فرمائی:

﴿وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾  (اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے) خواہ محکم ہوں یا متشابہہ۔ اور اللہ کے کلام میں تضاد نہيں ہوسکتا، اسی طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں بھی تضاد نہیں ہوسکتا۔ لہذا انہوں نے اِسے اور اُسے جمع کردیا، اور اِس کی اُس سے تفسیر کی، اُس کو اِس سے مقید کیا۔ یہ ہے علم میں راسخ لوگوں کا طریقہ۔ جبکہ جو اہل ضلالت و گمراہی ہوتے ہيں  وہ بس ایک طرف کی بات کرتے ہیں یعنی متشابہہ کی۔

چناچہ جو آیات وعید میں متشابہات ہیں انہیں خوارج نے لیا، اور جو وعدوں کی آیات سے متعلق متشابہات ہیں انہيں مرجئہ نے لیا، اور دونوں سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔لہذا مسلمانوں پر خوف وخدشہ دو طرف سے ہے:

پہلی طرف:

ان امور کے متعلق جہالت اور ان کی عدم تعلیم، اور حق و باطل میں تمیز نہ کرنا۔

دوسری طرف:

اللہ تعالی پر بغیر علم کے بات کرنا۔ کیونکہ بہت سے نام نہاد علم کے دعویدار آج اس قسم کے بڑے مسائلِ عقیدہ پر بات کرنے کی جرأت کرتے ہیں، اس پر کلام کرتے ہیں، فتوے دیتے ہیں اور اپنی جہالت و گمراہی کے ساتھ لوگوں پر حکم لگاتے ہیں، العیاذ باللہ۔

حالانکہ ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اہل حق کا راستہ اپنائے ، مگر ہاں یہ ممکن نہيں ہے  جب تک اللہ کے دین کی تعلیم و تفقہ نہ حاصل کیا جائے۔ صرف نصوص کو یاد کرلینا کافی نہیں ہے۔ کیونکہ بعض ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں صحیح بخاری و مسلم و سنن (سب احادیث کی کتب حفظ ہیں!) لیکن ان کے معنی کا صحیح فہم نہیں، نہ ان کی تفسیر کا علم ہے، بلکہ اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔یا پھر اس کی تفسیر گمراہوں سے لیتے ہیں جیسے خوارج یا مرجئہ سے اور یہی اصل خطرہ ہے۔ لہذا علم صرف حفظ کرلینے کا نام نہيں ہے۔ بلکہ اصل علم تو حفظ کے ساتھ فقہ اور معانی کی معرفت کا نام ہے۔ حقیقی حفظ تو حاصل ہو ہی نہیں سکتا جب تک علم حاصل نہ کیاجائے اور اسے علماء در علماء حاصل کیا جائے اور ان کے ساتھ مل کر اسے پڑھا جائے۔یہ ہے صحیح علم اور صحیح فقہ۔ لہذا ہم پر واجب ہے کہ  ہم اس بات کا  شدت کے ساتھ اور بہت زیادہ خصوصی اہتمام کریں تاکہ ایسا نہ ہو  کہ  مبادہ ہم ان گمراہ جماعتوں میں داخل ہوجائيں کہ جن کا اب اوڑھنا بچھونا ہی بس باہمی لڑائیاں، زبانی بمباریاں، ایک دوسرے کوبلابصیرت و علم و فقہ کے  گمراہ، بدعتی و فاسق قرار دینا بن چکا ہے۔ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تو یہ ایک عظیم پہلو ہے  جس کے تعلق سے ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کا اہتمام کریں اور اس پر متنبہ ہوں، اور بغیر معانی کی فقہ، اور علماء کے ہاتھوں احکام کی بصیرت و تفاصیل جانے بغیر صرف کتب کے مطالعے یا متون و نصوص کے حفظ پر اکتفاء نہ کریں۔خوارج تو گمراہ ہی نہ ہو‏ئے مگر اسی طریقے سے یعنی بنا فہم کے محض حفظ۔اسی لیے امام ابن القیمرحمہ اللہان کے متعلق فرماتے ہیں:

ولهم نصوص قصروا في فهمها                 فأتوا من التقصير في العرفان

ان کے یہاں نصوص تو تھے اور حفظ بھی، دن رات قرآن پڑھتے، پوری رات نمازیں پڑھتے، پوری زندگی روزے رکھتے، لیکن ان کے پاس رتی بھر بھی فقہ نہ تھی۔ اس لیے وہ جس چیز میں واقع ہوئے سو ہوئے۔ لہذا فقہ کا معاملہ بہت عظیم ہے۔ فقہ ہی نصوص کا اصل فہم ہے۔ لازم ہے کہ آپ دوائی کے اجزاء کو پہلے جان لیں، پھر اس بیماری کو پہنچانیں  جو کسی مریض کو ہے  اور اسے دوائی اس کے مناسب حال دیں۔ پس اگر دواء بیماری کے موافق ہوئی تو اللہ کے اذن سے نفع دے گی۔ اور اگردواء بیماری کے  موافق نہ ہوئی  تو نقصان دے گی۔ تو ایک عالم کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے ایک طبیب کی مریض کےساتھ ۔ جس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دونوں باتوں کی جانکاری رکھتا ہو دوائی کو جانتا ہو اور جن مواقع پر دوائی استعمال ہونی ہے ان کو بھی جانتا ہو۔اور ہر مریض کو اس کے مناسب حال دواء دے۔یہ مثال بالکل صحیح ہے اگر آپ اس پر ذرا غور وفکر کریں لیکن اس کے لیے بھی کچھ فقہ و بصیرت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے بھائی آج یہ سمجھتے ہیں کہ وہ علماء سے زیادہ سمجھ رکھتے ہیں، اسی لیے جس چیز میں وہ مبتلا ہیں سو ہیں، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ خوارج کا طریقہ ہے۔ خوارج نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور یہ سمجھتے رہے کہ صحابہ حق پر نہیں ہیں اور وہ صحیح سمجھ نہيں رکھتے، اور انہیں اللہ کے لیے کوئی غیرت نہیں ہے۔

امام ابن القیمرحمہ اللہفرماتے ہیں:

نص من القرآن أو من سنة           وطبيب ذاك العالم الرباني

بے شک آج خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ہم کہتے ہیں الحمدللہ نوجوانوں میں دین کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، یا جیسا کہ وہ کہتے ہیں ایک اسلامی بیداری([1]) کی لہر ابھر رہی ہے۔ لیکن اگر اس بیداری  اور اس دینی رجحان کو صحیح رہنمائی نہ ملی  تو یہ گمراہی بن کر رہ جائے گی۔ لازم ہے کہ اس کی اللہ کے دین کے ساتھ صحیح سمت میں رہنمائی و تصحیح و تہذیب ہو تاکہ یہ بیداری بصیرت، علم  و فقہ کے ساتھ ہو۔ورنہ تو یہ بیداری مسلمانوں کو نقصان دے گی اگر انہو ں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور نوجوانوں اور اللہ کے دین میں اپنے بھائیوں  کی رہنمائی نہ کی۔

والحمدللہ، وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔

 


[1] ہمارے شیخ کی اس اصطلاح اسلامی بیداری پر تعلیق کتاب الإجابات المهمة فى المشاكل الملمة 1/194 میں ملاحظہ کریں۔

 

 

 

October 20, 2018 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com