menu close menu

نواقضِ اسلام کا تعارف – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Introduction to the nullifiers of Islaam – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

نواقضِ اسلام کا تعارف   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس فى شرح نواقض الإسلام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نواقض جمع ہے ناقض کی جو کہ کسی چیز کے نقض یعنی تحلیل، منہدم اور فاسد ہونے  سے اسم فاعل  ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَـنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا﴾ (النحل: 91)

(اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو)

اور فرمایا:

﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا﴾  (النحل: 92)

(اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا)

اور اسلام کا مطلب ہے:

’’الإستسلام لله بالتوحيد والإنقياد له بالطاعة، والبراءة من الشرك وأهله‘‘

(توحید کے ذریعہ اللہ تعالی کے لئے مکمل سرتسلیم خم کرنا، اور اطاعت گزاری کے ذریعہ مکمل انقیاد کرنا، اور شرک ومشرکین سے برأت کا اظہار کرنا)۔

یہ ہے اسلام کی تعریف۔

اور أَسلَمَ کا معنی ہے إستسلم۔ جو کہ اللہ کے لیے سر تسلیم خم کرنا ہے اس کی توحید اور غیروں کو چھوڑ کر اس کے لیے عبادت میں اخلاص اپنانا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالی کے لیے سر تسلیم خم نہیں کرتا  تو وہ متکبر ہے، اور جو اللہ کے لیے سر تسلیم خم کرتا ہے ساتھ میں غیر کے لیے بھی تو وہ مشرک ہے، البتہ جو اکیلے اللہ کے لیے سر تسلیم خم کرتا ہے تو وہ توحید پرست ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ : ’’الإستسلام لله بالتوحيد ‘‘ ہے ، اور توحید کا مطلب ہے’’ اللہ تعالی کو عبادت میں اکیلا قرار دینا‘‘ ۔ اس طرح کہ معبود کو ایک ہی معبود قرار دینا بجائے اس کے کہ بہت سے متفرق معبودات ہوں، صرف اور صرف ایک ہی معبود ہو جو کہ اللہ تعالی ہے:

﴿وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ (التوبۃ: 31)

(حالانکہ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں)

اور فرمایا:

﴿وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڏ حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ  وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ﴾ (البینۃ: 5)

(انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں، حنیف (یکسو) ہوکر،  اور نماز قائم رکھیں اور  زکوٰۃ  دیتے رہیں اور یہی محکم دین ہے)

یہ ہے اسلام اور یہی محکم دین ہے۔فرمایا:

﴿اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ  ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ  ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ﴾ (یوسف: 40)

(حکم تو صرف ایک اللہ ہی کا ہے، اس نے یہی حکم دیا ہے کہ عبادت نہ کرو مگر صرف اسی کی، یہی مضبوط دین ہے)

یہ ہے اسلام۔

اور آپ  رحمہ اللہ  کا یہ فرمانا:  ’’والإنقياد له بالطاعة ‘‘  یعنی وہ توحید کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے اوامر کو تسلیم کرتا ہے پس وہ انہیں بجالاتا ہے اور جس چیز سے اللہ تعالی نے منع فرمایا اسے چھوڑ دیتا ہے اور اجتناب کرتا ہے۔ کیونکہ اطاعت میں یہ دونوں باتيں شامل ہیں کہ جن چیزوں کا حکم دیا انہيں بجالایاجائے  اور جن  سے منع کیا انہیں چھوڑ دیا جائے۔ یہ کافی نہيں کہ بس اللہ کی وحدانیت کا عقیدہ ہو بغیر عمل کے۔

’’والبراءة من الشرك وأهله‘‘  کافی نہيں کہ انسان اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے بلکہ ضروری ہے کہ وہ شرک  اور مشرکین سے برأت کا بھی اظہار کرے اور ان کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھے، اور مشرکین کو کافر سمجھے، اور ان سے اللہ کی خاطر بغض و عداوت بھی رکھے۔آپ پر واجب ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے عداوت رکھیں اور اللہ کے دوستوں سے  محبت رکھیں۔ تو ان سے محبت کریں جن سے اللہ محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہيں، اور ان سے بغض رکھیں جو اللہ سے بغض رکھتے ہيں اور اللہ ان سے بغض رکھتا ہے۔ یہ ہے آپ کے اس قول ’’والبراءة من الشرك وأهله‘‘   کا معنی۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اور جو ان کے ساتھی تھے انہو ں نے مشرکین سے برأت کا اظہارکیا ،جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ  كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ﴾  (الممتحنہ: 4)

(یقینا ًتمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو،(انہوں نے ان سے اور ان کے معبودات سے برأت کا اظہار کیا)  ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ)

اور فرمایا:

﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ﴾ (المجادلۃ: 22)

( تم ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہیں پاؤ گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان)

اور فرمایا:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾  (التوبۃ 23)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں)

اور فرمایا:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ﴾ (الممتحنہ: 1)

(اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ)

یہ ہےوہ توحید جس کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے اور اس کے اہل (توحید پرستوں) کے ساتھ موالات و محبت کا حکم دیا ہے، اور ساتھ ہی شرک اور اس کے اہل (مشرکین) سے برأت کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ بلاشبہ یہ توحید کے منافی ہے۔

اسلام کے نواقض ہیں۔ ایک انسان اسلام میں داخل تو ہوتا ہے لیکن  کچھ ایسی  چیزوں کا ارتکاب کرتا ہے  جو اسے اسلام سے خارج کردیتی ہیں جسے وہ جانتا ہے یا انجانے میں۔ پس ایک انسان پر واجب ہے کہ وہ ان نواقض کی معرفت حاصل کرے۔

ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھ لیجئے شرک کے تعلق سے اپنے بارے میں ڈرتے ہیں  حالانکہ آپ ہی نے تو بتو ں کو توڑا تھا اور اللہ کی خاطر کتنی اذیتیں برداشت کی تھیں، اس کے باوجود  اپنے بارے میں بے خوف نہيں اور فرمایا:

﴿وَاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ، رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ (ابراہیم: 35-36)

((الہٰی!) مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا، میرے رب! بلاشبہ انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کر دیا)

جب آپ نے شرک او راس کے فتنے میں مبتلا  لوگوں کی کثرت دیکھی تو اپنے بارے میں خوف لاحق ہوا۔  اور انسان بشر ہے اور جو لوگ شرک میں مبتلا ہوتے ہيں وہ بھی بشر ہیں، لہذا ایک انسان اپنی پارسائی بیان نہیں کرتا نہ اپنے دین کے بارے میں بےخوف رہتا ہے بلکہ اسے چاہیے کہ اپنے دین کے بارے میں اپنی جان، مال و عزت سےبھی بڑھ  کر خوفزدہ رہے:

﴿وَاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ، رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ (ابراہیم: 35-36)

((الہٰی!) مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا، میرے رب! بلاشبہ انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کر دیا)

 اس  موضوع نواقض اسلام کا قدیم اور موجودہ علماء اہتمام فرماتے رہے ہیں، اور یہ واقعی اس اہتمام کے لائق ہے۔ پس انہوں نے اس بارے میں مستقل تالیفات  لکھیں، ساتھ ہی کتب فقہ میں اسے مستقل باب بنایا جسے  وہ ’’ باب حكم المرتد‘‘   (مرتد کا حکم) کے باب کا نام دیتے ہيں۔اس باب میں انہوں نے نواقض اسلام بیان کیے ہیں، اور جو کوئی ان میں سے کسی میں مبتلا ہوجائے تو اس کا حکم بیان کیا ہے۔ انہوں نے نواقض کی بہت زیادہ  انواع و اقسام ذکر کی ہیں کہ جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو لیکن اللہ ان پر رحم فرمائے  انہوں نے بہرحال انہيں شمار کیا اور وضاحت  فرمائی، اور جو ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہو  اس کے حکم کو بیان فرمایا۔

October 12, 2018 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com