menu close menu

نماز کسوف وخسوف (سورج اور چاند گرہن) کے احکام – مختلف علماء کرام

Rulings regarding the solar and lunar eclipse prayer – Various 'Ulamaa

نماز کسوف وخسوف (سورج اور چاند گرہن) کے احکام   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحیح بخاری ومسلم اور دیگر کتب سنت کی اس تعلق سے احادیث کا خلاصہ:

اس کی حکمت:

1- دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند ابراہیم کی وفات کے موقع پرگرہن ہوا جس پر لوگ کہنے لگے کہ ان کی وفات کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، کیونکہ جاہلیت میں یہ اعتقاد رکھا جاتا تھا کہ کسی بڑی شخصیت کی پیدائش یا موت پر ایسا ہوتا ہے۔ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس باطل تصور کی بیخ کنی  فرمائی اور فرمایا:

"چاند او رسورج اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہيں اگر انہیں گرہن لگتے دیکھو تو اللہ کے ذکر، دعاء، استغفار ، صدقہ خیرات، غلام آزاد کرنے اور مساجد میں نماز ادا کرنے کی طرف لپکو"۔

نماز خسوف وکسوف کا حکم:

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: استحباب سے زیادہ وجوب کا قول قوی ہے، البتہ فرض کفایہ کے طور پر واجب ہے۔

نماز خسوف وکسوف کی کیفیت:

٭نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے باجماعت ادا فرمایا۔

٭ اس میں تلاوت جہرا ًکی جائے گی۔

٭اس کی 2 رکعتیں ہوتی ہیں۔

٭خواتین بھی  اس میں شرکت فرماتیں۔ اس کے علاوہ عورت گھر پر اکیلے بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔(شیخ ابن عثیمین)

٭طویل تلاوت مسنون ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سورۃ البقرۃ کے قریب قریب تلاوت فرماتے۔

٭اس نماز کی ایک رکعت میں دو رکوع کیے جاتے ہيں۔

٭ قیام کے بعد رکوع بھی بہت طویل فرمایا یہاں تک کہ قیام کی مانند رکوع فرمایا۔

٭رکوع سے سر اٹھا کر "سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد" کے بعد دوبارہ سے تلاوت شروع فرمائی، جو کہ طویل تلاوت تھی مگر پہلے قیام سے کچھ کم۔

٭اس کے بعد رکوع فرمایا جو کہ طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کچھ کم۔

٭دوسرے رکوع کے بعد بھی طویل قیام فرمایا جس میں اللہ تعالی کی حمد وثناء، تکبیر وتہلیل فرماتے رہے۔

٭پھر سجدہ بھی طویل فرمایا رکوع کی مانند، پھر دوسرا سجدہ بھی طویل مگر پہلے سجدہ سے کچھ کم۔

٭پھر دوسری رکعت کا قیام بھی طویل فرمایا جو کہ پہلی رکعت کے دوسرے والے قیام سے کچھ کم تھا۔

٭پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا فرمائی۔

٭جس کا کسی بھی رکعت کا پہلا رکوع رہ گیا ہو تو اس کی وہ رکعات شمار نہیں ہوگی، اور جو دوسری رکعت کے دوسرے رکوع میں پہنچا تو اس کی مکمل نماز فوت ہوگئی، سلام کے بعد وہ کھڑے ہوکر دو رکعتیں  چار رکوع اور چارسجدوں کے ساتھ ادا کرے۔(شیخ ابن عثیمین)

٭اگر نماز کسوف وخسوف کے درمیان کسی فرض نماز کا وقت آجائے، تو دیکھا جائے گا اگر وقت تنگ ہو تو تخفیف کرکے پھر فرض کو ادا کیا جائے گا، اور اگر وقت میں وسعت ہوتو اس کی طوالت کو جاری رکھا جائے گا۔ (شیخ ابن عثیمین)

نماز کے بعد خطبہ اور وعظ ونصیحت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اس کے بعد خطبہ بھی ارشاد فرمایا جس میں جاہلیت کے مذکورہ بالا اعتقاد کی نفی فرمائی۔ اور فرمایا:

*اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہيں اے امت محمد!اور اسے شدید غیرت آتی ہے کہ اس کا بندہ یا بندی زنا کرے۔

*اللہ کی قسم!جو کچھ مجھے معلوم ہے اگر تمہیں ہوجائے تو بہت زیادہ روؤ گے اور بہت کم ہنسو گے۔

*پھر بیان فرمایا کہ جو میں نماز میں آگے بڑھا تھا پھر پیچھے ہٹا تھا۔ تو مجھے جنت دکھائی گئی قریب تھا کہ میں اس سے کوئی پھل اٹھا لوں، اگر اٹھا لیتا تو تاقیامت وہ باقی رہتا، اسی طرح سے جہنم کی آگ کی لپیٹیں دیکھیں تو ڈر گیا۔ اور یہ سب سے خطرناک ترین منظر میں نے دیکھا تھا۔

*جہنم میں اکثر عورتوں کو دیکھا، جس کا سبب شوہر کی ناشکری بتایا کہ زندگی بھر بھلائی کرتے رہو، بس ایک خواہش پوری نہ ہو تو کہتی ہے کہ تم سے کبھی خیر دیکھی ہی نہيں!

*بنی اسرائیل کی عورت کو مبتلائے عذاب دیکھا جس نے ایک بلی کو باندھے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی۔

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے چور کو بھی دیکھا۔

*عمرو بن مالک بن لحی کوبھی دیکھا جو حاجیوں کے سامان اپنے لوہے کے بنے آنکڑے سے اچک لیتا تھا، اور عرب میں اس نے بتوں کو متعارف کروایا، وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچا جارہا تھا۔

*یہ بھی وحی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف فرمائی گئی کہ مسیح دجال کے فتنے کی طرح قبر کا فتنہ بھی ہوگا۔ او رمومن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں صحیح جواب دے کر جنت کی خوشخبری پائے گا، جبکہ منافق کہے گا: مجھے نہیں معلوم میں نے بس لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو کہہ دی! اس شک میں مبتلا شخص کو جہنم کی وعید سنادی جائے گی۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ طلب فرمائی اور اس کا حکم دیا۔

(صفة صلاة النبي ﷺ لصلاة الكسوف للألباني، ص: 108، 117)

سورج وچاند گرہن کی پیشگی اطلاع دینا اور ماہر فلکیات کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے نماز کی ابتداء واختتام کرنا:

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  جب اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں تو نماز شروع کریں اور اس کے چھٹ جانے پر ختم کریں، ناکہ فلکیات کے حساب سے یا دوربینوں کے ذریعے۔

اسی طرح شیخ ابن عثیمین وشیخ صالح الفوزان وغیرہ  فرماتے ہیں کہ:  اس کے واقع ہونےکی اطلاع پہلے سے کردینے سے بھی اچانک خوفزدہ ہوکر اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے کی حکمت فوت ہوجاتی ہے، اور لوگ اسے بھی ایک عام بات بلکہ تفریح کے طور پر لینے لگتے ہيں۔

(شرح الممتع ج 5، مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین ج 16 ص 298-303، سلسلة اللقاء الشهري، اللقاء الشهري – 38، البيان لأخطاء بعض الكتاب للشیخ الفوزان، ص:194)

August 7, 2017 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com