menu close menu

مکہ مکرمہ پر حوثی شیعوں کے حالیہ حملے کے تعلق سے مسلمانوں کو نصیحت – مختلف علماء کرام

Advice to the Muslims concerning the latest attack of the Houthi Shia on Makkah Mukarramah – Various 'Ulamaa

 

مکہ مکرمہ پر حوثی شیعوں کے حالیہ حملے کے تعلق سے مسلمانوں کو نصیحت   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: انٹرنیٹ سے آڈیو/ویڈیو کلپس و بیانات۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ۔۔۔لیکن اللہ تعالی نے ان کو ناکام کردیا پھر ہماری فوج نے نہایت پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا،سائل کہتا ہے آپ اس تعلق سے کیا رہنمائی فرمائيں گے، اور اس بارے میں مسلمانوں پر کیا واجب ہے؟

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ:

ہم اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں کہ اس نے ان کے اس مکر کو مسجد الحرام سے پھیر دیا۔ ان کے خلاف ہم بددعاء کرسکتے ہيں کیونکہ یہ عقوبت کے مستحق ہيں۔ اور یہ کوئی پہلے لوگ نہیں جنہو ں نے یہ حرکت کی ہے۔ قرامطہ  (شعیوں کے ایک فرقے) نے بیت اللہ کے ساتھ کیا کچھ کیا ، اور ان سے بھی پہلے حبشہ کے بادشاہ (ابرہہ) نے جو کعبۃ اللہ کو منہدم کرنے کا بدارادہ کیا تھا (اس کا کیا حشر ہوا)، چناچہ اللہ تعالی ایسے لوگوں کی گھات میں ہوتا ہے (اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیتا ہے)۔

۔۔۔یہ حبشہ کا بادشاہ کعبۃ اللہ کو منہدم کرنے کے لیے بہت بڑی ہاتھی بردار فوج لایا تھا لیکن اللہ تعالی نے اسے ایسا کرنے نہ دیا، پھر ان پر پرندوں کے ابابیل (یعنی جھنڈ کے جھنڈ) بھیج دیے  جن میں سے ہر پرندے کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں ہوتی اور دو پنجوں میں، جب وہ ان کے بیچ پہنچتے تو وہ کنکریاں ان پر مار دیتے، اوروہ کنکریاں کافروں کے سر میں گھس کر آر پار ہوتی ہوئی اس کے دبر سے خارج ہوتیں، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انہيں اسی جگہ ہلاک کرکے رکھ دیا، ان میں سے کوئی بھی نہ بچا۔  فرمان باری تعالی ہے:

﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ، اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ، وَّاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ، تَرْمِيْهِمْ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ، فَجَــعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ﴾ (الفیل: 1-5)

(کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو بےکار نہیں کردیا؟، اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے، جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی کنکریاں پھینکتے تھے، تو اس نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (چورا چورا) کر دیا)

اور اس سال کو ’’عام الفیل‘‘ (ہاتھی والا سال) کا نام دیا گیا۔ یہ وہی سال ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔

اسی طرح قرامطہ کو دیکھیں انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا! حجاج کرام کا مسجد الحرام میں اور عرفہ میں بھی قتل عام کیا اور ہجر اسود کو اٹھا کر اپنے خود ساختہ کعبہ میں لے گئے([1]) جسے وہ ’’۔۔۔‘‘  کا نام دیتے ہيں، انہوں اسے وہاں لے جاکر نصب کردیا اور وہاں یہ بیس برس سے بھی زیادہ رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اسے واپس کعبۃ اللہ پہنچا دیا۔ یہ اعمال رہے ہيں شیعہ روافض کے اللہ تعالی کے حرم کے ساتھ، اور آج تک یہی شیعہ ہيں جیسا کہ یہ حوثی لوگ یہ بھی شیعہ ہیں روافض ہيں ، لہذا یہ اپنے آباء واجداد کی میراث پر ہی چل رہے ہيں ، لیکن اللہ تعالی ہمیشہ سے ان کی گھات میں ہے۔

دوسرے موقع پر ’’الاخباریۃ‘‘ میڈیا کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں جس کا مختصر مفہوم ہے:

یہ حوثی لوگ ابرہہ کی تاریخ کو دوہرانا چاہتے ہيں تو ان کا بھی انجام وہی ہوگا اور ہوا جو اس کا ہوا تھا، کہ الحمدللہ اللہ تعالی کی رحمت ونصرت سے ان کے مکر اور حملے کو بے کار وناکام کردیا گیا ۔ یہ لوگ اسلام کا دعویٰ کرتے ہيں لیکن اللہ تعالی خود ان کی اس قسم کی خبیث وناپاک حرکتوں کے ذریعے ان کی اصلیت آشکارا فرمادیتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس بیت کو بیت العتیق کا بھی نام دیا ہے کیونکہ اللہ تعالی اس کو ایسے جابروں کے قبضے سے محفوظ رکھتا ہے جو اس کے ساتھ بدارادہ رکھتے ہیں۔

اسی طرح سے مفتی مملکت شیخ عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ ’’الاخباریۃ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اللہ تعالی اپنے گھر کا محافظ ہے۔ وہ ان حوثیوں کے مکر کو انہی پر پلٹا دے گا۔ ان کا بیت اللہ پر حملہ کرنے کی جسارت کرنا دلیل ہے ان کے بیت اللہ سے بغض کی، اور بیت اللہ سے بغض رب العالمین سے بغض کی دلیل ہے۔ مزید تاکید کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ان حوثیوں کا بلیسٹک میزائل سے مکہ کو نشانہ بنانا ایسا قبیح فعل ہے جو نفاق، کفر وگمراہی کی ہی پیداوار ہوسکتا ہے۔

اپنی ویب سائٹ پر ’’عکاظ‘‘ سے بروز اتوار گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس حملے کو ناکام بنادینا اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور اللہ کی جانب سے اس حکیمانہ قیادت وحکومت کو توفیق دی گئی ہے کہ وہ اس وطن عزیز اور مقدس مقامات کی حفاظت کرتی ہے، اللہ تعالی ہر خیر کی انہيں توفیق دے۔ فضیلۃ الشیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پورے معاشرے اور عوام کو اس قسم کے سازشی عناصر اور دہشتگردوں کے خلاف ایک ہاتھ بن کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

اسی طرح سے وطن میں مقیم بعض غیرملکیوں کا ایسے وطن مخالف سیلز کو تقویت دینے میں کردار ادا کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اس ملک میں تقریباً 10 ملین کے قریب غیرملکی رہتے ہیں جنہيں یہاں سے عزت واکرام ہی ملتا ہے، ان کی جان ومال محفوظ ہوتے ہیں، اور ان پر کوئی ظلم وناانصافی نہيں ہوتی لہذا اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے ناکہ اس قسم کی حرکتوں کے ذریعے ناشکری۔

شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا کہ ذریعے بھی اس قسم کے عناصر کی خبر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، اور امت کی طرف سے ہم پر واجب ہے ، تاکہ ہم ان کے ناپاک عزائم کو مل کر خاک میں ملا سکیں اور امت، قوم وملت کی حفاظت کرسکیں، ہمیں ایسوں سے نہيں ڈرنا چاہیے  اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھی ایسے عناصر کی خبر پہنچانی چاہیے۔

اسی طرح امن وامان کو اللہ تعالی کی توفیق سے قائم رکھنے والی اور ہمارا دفاع کرنے والی ہماری افواج بھی شکریہ کی مستحق ہے، اللہ تعالی انہيں اجر عظیم دے، اور ثابت قدمی دے تاکہ وہ اس قسم کے فسادیوں کی روک تھام اور ان کا خاتمہ کرسکیں۔

(مختصر مفہوم)

شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه.

أما بعد: مسلمان اچھی طرح سے جانتے ہيں جو بڑی بڑی گمراہیاں روافض کے یہاں پائی جاتی ہيں جن کا شمار ہی نہیں۔

جن میں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مسلمانوں کی تکفیر کرنا، اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کے تعلق سے غلو کرنا (اللہ تعالی کے یہاں یہ اہل بیت ان روافض اور ان کے غلو سے بَری ہیں)۔

اور اس غلو میں سے ان کا اپنے آئمہ کے متعلق یہ کہنا بھی ہے کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں اور کائنات کے ذرے ذرے میں تصرف کرتے ہیں! آخر روافض نے اس کائنات میں اللہ تعالی کے لیے کیا (اختیار) چھوڑا ہے؟! اور اس باب میں کتنی ہی ان کے پاس کفریات پائی جاتی ہيں!

اور ان کٹھن ایام میں جن میں روافض نے مسلم ممالک میں تباہ کن جنگیں چھیڑ رکھی ہیں جیسے یمن اور شام میں جس میں انہوں نےان کے  سینکڑوں ہزاروں لوگوں کے خون کو حلال کرلیا ہے، اور ان کی اولادوں کو بگاڑ رہے ہیں کہ انہیں رافضی بنارہے ہيں کہ جو ان کے کفریہ عقائد میں اور اہل اسلام کا خون بہانے میں شریک ہوں۔

ان وحشیانہ حرکتوں پر بھی بس نہيں، ان کے دلوں میں رچے بسے حسد ونفرت نے انہيں اب اس بات تک پر ابھار دیا کہ وہ بلیسٹک میزائل مکہ مکرمہ کی طرف پھینکیں، تاکہ اللہ تعالی کی حرمتوں کو پامال کریں جن پر ان کا ویسے ہی ایمان نہیں، نہ اس کی کوئی قدروقیمت ہے ان کے یہاں۔

انہی کے جیسے اعمال  کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ﴾ (الحج: 25)

(اور جو بھی اس (حرم) میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے)

ان سے پہلے ان کے اسلاف قرامطہ بھی اس قسم کا الحاد وظلم کرچکے ہيں چناچہ انہوں نے سینکڑوں حجاج کا اللہ کے حرم میں اور اس کے بیت عتیق میں قتل عام کیا، اور حجر اسود تک کو اٹھا کر لے گئے اور اسے اپنے دارِ الحاد ہجر (الاحساء) میں واقع اپنے کعبے میں رکھ دیا۔

لہذا حوثی روافض کی جانب سے یہ عمل اسی کی تجدید وتجسیم ہے، جوان کے اسلاف اور بڑوں یعنی قرامطہ کے سینوں میں چھپا دلی ارمان وخواب تھا۔

حسین الموسوی اپنی کتاب ’’لله ثم للتاريخ‘‘  ص 91-92 میں اپنی خمینی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’امام کے ساتھ خاص مجلس میں انہوں نے مجھ سے کہا: سید حسین اب وہ وقت آچکا ہےکہ ہم اپنے آئمہ (صلوات الله عليهم) کی وصیتوں کی تنفیذ کریں،  ہم عنقریب ناصبیوں کا خون بہائیں گے، ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے، ان میں سے ہرگز بھی کسی کو نہ چھوڑیں گے کہ وہ سزا وعقاب سے بچ پائے،  اور عنقریب ان کا سارا مال خالصتاً اہل بیت کے شیعہ کے لیے ہوگا، اور عنقریب ہم مکہ اور مدینہ کا وجود ہی روئے زمین سے مٹا دیں گے،  کیونکہ یہ دونوں شہر اب وہابیوں کا گڑھ بن چکے ہيں، لازم ہے کہ اللہ تعالی کی مبارک ومقدس سرزمین کربلاء نماز میں لوگوں کا قبلہ ہو،  اور اس طرح سے ہم اپنے آئمہ علیہم السلام کے خواب کی تعبیر کرسکتے ہيں، ہماری اپنی ریاست قائم ہوچکی ہے جس کے قیام کے لیےہم نے کئی برس جدوجہد کی، اب سوائے تنفیذ کے اور کچھ بچا نہیں!!‘‘

میں یہ کہتا ہوں: یہ بات کوئی بعید نہيں کہ حوثی اپنی اس بہت بڑی فتنہ انگیزی میں جو یمن میں مچارکھی ہے اور جو مکہ اور مملکت عربیہ سعودیہ کی یہ مخالفت کرتے ہيں اسی خبیث مذہب کا شاخسانہ ہے جو خمینی رافضی اہل بیت کی طرف منسوب کرتا ہے (اللہ تعالی کے یہاں اہل بیت ان سے بَری اور منزہ ہیں)، لہذا حوثیوں کی یہ کارروائیاں یہی اپنے باطنیہ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے سلسلے میں ہے کہ مکہ ومدینہ کو منہدم کردیا جائے، اور کعبہ کی تحویل وثنی (شرک وبت پرستی کے مظہر) کربلاء کی طرف کردی جائے جسے جھوٹ وفجور سے کام لیتے ہوئے خمینی مقدس کہہ رہا ہے، جبکہ اسی پل اس کے باطنیہ نفس نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ مقدس کا وصف مکہ اور مدینہ کے لیے استعمال کرے۔

اللہ تعالی ان زندیق روافض کی تمناؤں کو خاک میں ملا دے، اور بلاد حرمین کی ان کے جرائم سے حفاظت فرمائے، اور اسلام ومسلمانوں کی نصرت فرمائے، اور ان کی حکومت کو تہس نہس کردے جیسے اس نے ان کے اسلاف قرامطہ اور باطنیہ کی ریاستوں کو تہس نہس فرمایا تھا۔ بے شک وہ دعائوں کا سننے والا ہے۔

كتبه/

ربيع بن هادي عمير المدخلي

30/1/1438 ھ

 


[1] یہ سن 317ھ بمطابق 908ع کا واقعہ ہے۔ (کتب تاریخ)

 

October 31, 2016 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com