menu close menu

ملحدانہ تحریکوں اور جاہلی قومی ولسانی جماعتوں کی طرف انتساب کا حکم – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Ruling regarding affiliating towards secular, racist or nationalist groups and parties – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

ملحدانہ تحریکوں اور جاہلی قومی ولسانی جماعتوں کی طرف انتساب کا حکم   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

مصدر: عقیدۂ توحید اور اس کے منافی امور

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ملحدانہ تحریکوں کی طرف انتساب کا حکم

ملحدانہ تحریکوں جیسے کمیونزم، سیکولرزم، سرمایہ دارنہ نظام وغیرہ جو سراسر کفر والحاد پر مبنی ہیں کی طرف انتساب مذہب اسلام سے ارتداد ہے، ان تحریکوں کی طرف انتساب کرنے والا شخص اگر اسلام کا دعویٰ کرتا ہے تویہ نفاقِ اکبر ہے، اس لئے کہ منافقین بھی ظاہری طور پر اپنا انتساب اسلام کی طرف کرتے تھے لیکن اندرونی طور پر وہ کافروں کے ساتھ ہوتے تھے۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا، وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ  ۙ  قَالُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ  ۙ  اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ﴾ (البقرۃ:14)

(اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو(ان سے)کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم  (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں سے) تو یونہی مذاق  کیا کرتے ہیں)

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

﴿الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾  (النساء:141)

(جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں کہ اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو ان سے کہتے ہیں کیا ہم تمہارے نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟)

اس طرح کے دھوکہ باز منافقوں کے ہمیشہ دو رخ ہوتے ہیں ۔ایک رخ سے تو مومنوں سے ملتے ہیں اور دوسرے رخ سے اپنے ملحد بھائیوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ ان کی دو زبانیں ہوتی ہیں، ایک کے ذریعہ مسلمانوں سے شناسائی پیدا کرتے ہیں اور دوسری کے ذریعہ اپنے پوشیدہ راز کی ترجمانی کرتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا، وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ  ۙ  قَالُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ  ۙ  اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ﴾ (البقرۃ:14)

(اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو(ان سے)کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم  (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں سے) تو یونہی مذاق  کیا کرتے ہیں)

یہ کتاب و سنت سے ہمیشہ گزیر کرتے ہیں۔  کتاب و سنت والوں  کا  مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے کتاب و سنت کے احکام کی پیروی سے انہیں چڑ ہے۔ شریعت سے ان کو ازلی دشمنی ہے یہ اپنے دنیاوی علوم و فنون اور نظامہائے زندگی سے بہت خوش ہیں جبکہ اس نے اب تک انہیں برائی، تکبر و غرور میں ہی مبتلا رکھا ہے۔ لہٰذا انہیں آپ ہمیشہ صریح وحی اور کتاب و سنت کا مذاق اڑاتے ہوئے پائیں گے۔

﴿اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّھُمْ فِىْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَھُوْنَ﴾ (البقرۃ:15)

(ان(منافقوں) سے اللہ ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت اور سر کشی میں پڑے بہک رہے ہیں)

جب کہ اللہ تعالیٰ نے صراحت سے مومنوں کی طرف اپنا انتساب  کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد باری ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ﴾ (التوبۃ:119)

(اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں وسچوں کے ساتھ رہو)

یہ ملحدانہ تحریکیں آپس میں دست و گریباں ہیں، اس لئے کہ ان کی بنیاد باطل و فتنہ و فساد پر پڑی ہے، جیسے کمیونزم اللہ تعالیٰ (جو سارے جہانوں کا خالق و مالک ہے) کے وجود کا انکار کرتی ہے اور تمام آسمانی مذاہب و ادیان کو دنیا سے مٹانا چاہتی ہے، جو شخص اپنی دانش میں بلا عقیدہ جینا چاہتا ہے اور تمام بدیہی و عقلی یقینیات کا انکار کرتا ہو دراصل وہ اپنی عقل کا دشمن ہے اور اس سے کام لینا نہیں چاہتا ہے۔ اسی طرح سیکولرزم بھی تمام مذاہب و ادیان کا انکار کرتی ہے اور مادر پدر آزاد مادیت پراپنی بنیاد رکھتی ہے، جب کہ مادیت ایک ایسا مذہب ہے جس کی حیوانی زندگی کے سوا کوئی غرض و غایت نہیں۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کا تو کہنا ہی کیا؟ اس کا سارا فلسفہ صرف مال جمع کرنے پر قائم ہے چاہے وہ کسی طرح سے بھی آئے۔ اس میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں، فقراء و مساکین اور کمزور وں پر ان کے یہاں کوئی رحم و رأفت، شفقت و ہمدردی نہیں ،پھر اس کی معیشت و اقتصاد کا سارا دارومدار سود کی لعنت پر ہے، جب کہ سود کھانا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنا ہے۔ جس سے افراد و جماعت اور حکومت و ریاست سب کے سب تباہی و بربادی سے دو چار ہوجاتے ہیں۔ جو فقیر و غریب قوموں کے خون چوسنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان سب کے باوجود بھلا کون چاہے ایمان والا نہ بھی ہو کم از کم عقل رکھنے والا ہی ان نظاموں کے تحت زندگی بسر کرے گا؟ جس میں عقل ودین نام کی کوئی چیز ہی نہیں اور نہ ہی صحیح مقصد زندگی ہے کہ جسے ہدف بنایا جائے اور جس کی خاطر جدوجہد کی جائے۔ ان مذاہب نے اس وقت مسلمان ممالک پر حملہ کیا جب ان کی اکثریت صحیح دین سے عاری ہوگئی،جس نے ضیاع کاری اور ان (ملحدوں) کی محتاجی میں تربیت پائی۔

جاہلی، قومی ولسانی جماعتوں کی طرف انتساب کا حکم

 جاہلی، قومی اور نسلی (اور لسانی) جماعتوں اور پارٹیوں کی طرف انتساب بھی کفر و ارتداد ہے کیونکہ دینِ اسلام تمام برمبنیِ عصبیت و جاہلی نعروں کا شدت سے انکار کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا  ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ﴾  (الحجرات:13)

(لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر و، بے شک اللہ تعالی کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا تو وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ [ولیس منا من غضب لعصبیۃ]وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ‘‘([1])

(وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے ، وہ ہم میں سے نہیں جوعصبیت کے لئے لڑائی کرے، [وہ ہم میں سے نہیں جوعصبیت کے لئے غصہ ہو] اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت  پر مرے)۔

نیز فرمایا:

’’إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ أُوفَاجِرٌ شَقِيٌّ، اَلنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ ،[ وَلا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ إِلا بِالتَّقْوَى]‘‘([2])

(اللہ تعالیٰ نے دو رِجاہلیت کےتکبراور آباء و اجداد پر فخر ختم کر دیا ہے، اب یا تو کوئی متقی مومن ہوگا ،یا بدبخت فاجر ،تمام لوگ سیدنا آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ الصلاۃ والسلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں الا تقویٰ کے ذریعے)۔

دراصل یہ جماعتیں اور پارٹیاں مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالتی ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیکی و تقویٰ پراتحاد و اتفاق کا حکم دیا ہے ، اور افتراق و انتشار سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا﴾  (آل عمران:102)

(اور سب مل کر اللہ تعالی  کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا، اور اللہ تعالی کی اس نعمت  کو یاد کرو جب تم ایک دوسرےکے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے)

اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہو جائیں جو کامیاب و کامران حزب اللہ (اللہ تعالیٰ کی جماعت) ہو۔ لیکن آج عالمِ اسلام خاص طور پر یورپ کی سیاسی و ثقافتی یلغار کے بعد مختلف جاہلی، نسلی، وطنی عصبیتوں کی لعنت میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اور ان لعنتوں کو ایک علمی مسئلہ،طے شدہ حقیقت اور ناگزیر صورتِ حال سمجھ کر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ سارے جہان کے مسلم باشندے مغربی افکار کے اثرات سے متاثر ہو کر ان جاہلی عصبیتوں کی طرف تیزی سے بھاگنے لگے ہیں جن کو اسلام نے مٹا دیا تھا اور اس کے گیت گاتے ہیں، اس کے شعار کو زندہ کرتے ہیں اورقبل از اسلام دور پر فخر کرتے ہیں حالانکہ اسلام سے پہلے والے عصبیتی دور کو اسلام نے جاہلی دور کہا ہے اور اب بھی اسی نام سے یاد کرتا ہے ،اور اس تاریک ترین دور سے نکالنے پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان جتلایا ہے اور اس عظیم احسان و نعمت کا شکر ادا کرنے پر ان کو ابھارا ہے۔

یہ ایک طبیعی بات ہےکہ ایک مومن قدیم یا جدید زمانے کی جاہلیت کا تذکرہ ناپسندیدگی اور کراہیت کے ساتھ کرتا ہےجس سے اسے اتنی شدید نفرت ہوتی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ کیا جیل میں سخت ترین سزا کاٹنے والے کے رونگٹے اس وقت کھڑے نہیں ہو جاتے جب اس کے سامنے جیل کی قیدوبند کی صعوبتوں اور ذلتوں کا  ذکر کیا جائے؟ اور کیا سخت ترین بیماری اور موت کے منہ سے بچ نکلنے والا شخص اپنی بیماری کا تذکرہ کرتے ہی منہ نہیں بگاڑ لیتا اور اس کے چہرے کی رنگت نہیں تبدیل ہوجاتی؟([3]) لہٰذا ہر ایک کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے اور ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں میں یہ گروہ بندیاں دراصل اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے جسے وہ اپنی شریعت و مذہب سے اعراض کرنے والوں اور اپنے دین سے بدگمان ہونے والے بندوں پر مسلط کر دیا کرتا ہے۔ فرمان الہی ہے:

﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ﴾  (الانعام:65)

(کہہ دیجئے کہ وہ(اس پر بھی ) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے(سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھا دے)

اس سلسلہ میں رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:

’’وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بَيْنَهُمْ بِكِتَابِ اللهِ إِلَّا جَعَلَ بِأَسَهُمْ بَيْنَهُم‘‘([4])

(اور جب ان کے آئمہ کتاب اللہ سے حکم نہیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو آپس میں لڑا دیں گے)۔

جماعتوں اور پارٹیوں کے تعصب کی وجہ سے انسان اس  حق بات کو قبول نہیں کرتا جو دوسروں کے پاس موجود ہےجیسا کہ یہودیوں کے ہاں پیش آیا، انہی یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۤ وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ﴾  (البقرۃ:91)

(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) اللہ نے(اب ) نازل فرمائی ہے اس کو تو مانو، تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر(پہلے) نازل ہو چکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں(یعنی )یہ اس کے سوا اور(کتاب) کو نہیں مانتے۔ حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے)

اہل جاہلیت کا بھی یہی حال تھا حق کو چھوڑ کر یہ اپنے آباء و اجداد کی روش پر پڑے ہوئے تھے اور ان کے نقشِ قدم سے سر مو انحراف کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَاءَنَا﴾  (البقرۃ:170)

(اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو( کتاب) اللہ نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا)

آج کے حزبی جماعتی لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی اپنی جماعت و پارٹی کو اس اسلام کی جگہ پر لا کھڑا کریں جو تمام انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔

 


[1]أبو داود الأدب (5121).

 

[2]الترمذي المناقب (3955) ، أبو داود الأدب (5116). بریکٹ والے الفاظ الگ حدیث کے ہیں (المعجم الاوسط للطبرانی 4889)۔

 

[3] من رسالة : ( ردة ولا أبا بكر لها ) لأبي الحسن الندوي.

 

 [4]ابن ماجه الفتن (4019).

 

 

April 22, 2017 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com