menu close menu

مشہور شرکیہ نعتیں

The famous Shirkiya Naats

مشہور شرکیہ نعتیں

جمع و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: قرآن و حدیث بفہم سلف صالحین۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شاہ مدینہ! یثرب کے والی سارے نبی تیرے در کے سوالی!!

نعوذ باللہ! خود تو شرک کرہی رہے ہیں، بلکہ سارے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام تک کو شرک کرتا ثابت کررہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ﴾  (الزخرف: 45)

(اور ان سے پوچھو جنہیں ہم نے تم سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیا ہم نے رحمٰن  کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں، جن کی عبادت کی جائے ؟!)

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ﴾  (فاطر: 15)

(اے لوگو! تم سب اللہ کی طرف فقیر ومحتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بےپروا، بے نیاز وغنی، اورتمام تعریفوں کے لائق ہے)

اللہ کے برگزیدہ اولوالعزم پیغمبر موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اس توحید خالص کا اظہار کرتے ہوئے دعاء فرماتے ہیں:

﴿رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ ﴾ (القصص: 24)

(اے میرے رب ! بے شک جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج وفقیر ہوں)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ [صحیح الترمذی 2156]

(جب تم سوالی بنو تو اللہ ہی کے در کے سوالی بنو)۔

(( جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے                         آباد عالم تیرے کرم سے باقی ہر اک شہ نقش خیالی))

حالانکہ ہر شے خالق کائنات کی وجہ سے اور اس کے کرم سے ہے۔ اللہ تعالی کے اسمائے حسنی ٰ وصفات عالیہ میں سے الْمُهَيْمِنُ (الحشر: 23) اور الوَكِيْلُ   (آل عمران: 173)  ہونا ہے جس کا مطلب ہر چیز پر ہر پل نگہبان وکارساز ہونے میں اکیلے ہی کافی ہونا۔سورۃ الزمرآیت  62 میں فرمایا کہ اللہ ہی ہر شے کا خالق بھی ہے اور نگہبان بھی سب اسی کے کرم سے رواں دواں ہے:

﴿اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ﴾  (الزمر: 62)

(اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہی  ہر چیز پر نگہبان  بھی ہے)

اورآیت 41  میں  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس ربوبیت کی صفت کی نفی فرمائی ہے:

﴿وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ﴾  (الزمر: 41)

(اور تم ہرگز ان پر کوئی ذمہ دار و نگہبان نہیں)

اور فرمایا:

﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ڬ وَلَىِٕنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَـهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭاِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا﴾  (فاطر: 41)

 (بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور یقیناً اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے بعد کوئی ان دونوں کو تھامنے والا نہیں، بے شک وہ  نہایت برد بار، بےحد بخشنے والا ہے)

اسی معنی کو سورۃ الحج آیت 22 میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ:

﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ  ۭ وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ﴾ (الحج:  65)

( کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے تمہاری خاطر مسخر کردیا ہے جو کچھ زمین میں ہے، اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہ آسمان کو تھامے رکھتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بے شک اللہ  تعالی یقیناً لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے)

((تیرے لئے ہی دنیا بنی ہے                   نیلے فلک کی چادر تنی ہے              تو اگر نہ ہوتا دنیا تھی خالی))

حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہےکہ  موت و حیات کا سلسلہ اللہ تعالی نے اس لیے قائم فرمایا ہےکہ کون اچھے اعمال کرتا ہے:

﴿الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا   ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ﴾  (الملک: 2)

(وہ جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے،  اور وہی سب پر غالب، بےحد بخشنے والا ہے)

اور جن و انس کی تخلیق کا مقصد بھی واضح طور پر بیان فرمایا  کہ:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ﴾  (الذاریات:  56)

(میں نے نہيں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اپنی عبادت کے لیے)

اسی طرح اپنے اسماء وصفات سے مخلوق کو متعارف کروانے کے لیے بھی:

﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ   ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ (الطلاق: 12)

(اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بے شک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ نے یقینا ًہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے)

البتہ  جو من گھڑت حدیث پیش کی جاتی ہے کہ اللہ فرماتا ہے:

  لولاك لما خلقت الأفلاك

(اے نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر تم نہ ہوتے تو میں یہ کائنات بھی پیدا نہ کرتا)۔

 شیخ البانی :  السلسلة الضعيفة280 میں فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہيں۔

تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کائنات بنی ہے؟ ۔

((مذ ہب ہے تیرا سب کی بھلائی     مسلک ہے تیرا مشکل کشائی           دیکھ اپنی امت کی خستہ حالی))

حالانکہ مشکل کشائی حاجت روائی اللہ تعالی کی صفات ہیں اور اسی کو اس مقصد کے لیے پکارا جاتا ہے، مسبب الاسباب اللہ تعالی کے سوا کوئی مشکل کشائی نہيں کرسکتا:

﴿وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ   ۭ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ  ۭ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ﴾  (یونس: 107)

(اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرلے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے اور وہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے)

اور فرمایا:

﴿ اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ﴾ (النمل: 62)

(یا وہ جو لاچار کی دعاء قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اورمشکل کشائی فرمادیتا ہے ،اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورمعبود حقیقی  ہے؟  بہت کم تم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو)

اور نا ہی وفات کے بعد انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اپنی امت کی خستہ حالی کو اس طور پر دیکھ سکتے ہیں، بروز قیامت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اپنی امت کے بگاڑ کا اللہ تعالی کو جواب دیں گے کہ:

﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ  ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ ﴾  (المائدۃ: 117)

(اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے)

[عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو تو زندہ اٹھا لیا گیا تھا، جبکہ دیگر انبیاء کرام بشمول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  وفات پاچکے ہیں]

چناچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق  بھی حدیث میں آیا ہے کہ بروز قیامت جب امت میں سے مرتد ہونے والوں اور بدعتیوں کو حوض کوثر سے روک دیا جائے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرشتوں سے کہیں گے کہ یہ میری امت کے لوگ ہیں آنے دو تو وہ بھی جواب میں یہی عرض کریں گے کہ:

لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

 (آپ نہيں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا  کچھ نئی باتیں (دین  میں) نکالیں)۔

پھر آپ بھی انہیں دور پرے کرنے کے ساتھ وہی بات فرمائيں گے جو عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمائی۔

[صحیح بخاری 4625، صحیح مسلم 7201]

((ہے نور تیرا شمس و قمر میں                  تیرے لبوں کی لالی گہر میں           پھولوں نے تیری خوشبو چرا لی))

حالانکہ زمین و آسمان کو اللہ تعالی اپنے قدرت کاملہ سے منور کرنے والا ہے اور نور اس کی صفات میں سے بھی ہے جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں احادیث اور آئمہ سلف کا کلام موجود ہے:

﴿ اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ (النور: 35)

(اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے)

لہذا غلو میں مبتلا عام لوگ اور شعراء اس قسم کی باتيں کرتے ہيں حالانکہ چاند و سورج کسی کے دم سے نہ روشن ہوتے ہيں نہ تاریک:

انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ انْكَسَفَتِ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ [صحیح بخاری 1060، صحیح مسلم 2116]

( جس دن (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے )ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن ہوا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ: گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:  بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں  ہیں، کسی کی موت و حیات کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ ہاں جب انہیں  دیکھو تو اللہ تعالی سے دعاء کرو ،اور نماز پڑھو یہاں تک کہ گرہن صاف ہو جائے)۔

یہ سیریز جاری رہے گی ان شاء اللہ، اور آخر میں اسے پی ڈی ایف کی صورت میں نشر کیا جائے گا۔

October 23, 2018 | توحید, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com