menu close menu

مسلمان حکومت کی جانب سے پابندی ونظربندی وغیرہ پر حیلے تراشنہ منہج سلف نہیں   

Making excuses for not following Muslim government implemented bans is not from the Manhaj of the Salaf

مسلمان حکومت کی جانب سے پابندی ونظربندی وغیرہ پر حیلے تراشنہ منہج سلف نہیں   

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عبدالحمید بن عبداللہ بن یسار رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

جب امام ابن سیرین رحمہ اللہ  کو (لوگوں کو مضر صحت تیل کی فروخت کے بجائے ضائع کرکے اپنے سر 40 ہزار قرض لینے پر، مقروض ہونے کے سبب) جیل میں ڈالا گیا تھا تو جیل کے رکھوالے نے ان سے کہا: جب رات ہوا کرے تو آپ اپنے گھر والوں کے پاس چلے جایا کریں اور جب صبح ہو تو واپس آجایا کریں۔ اس پر آپ رحمہ اللہ  نے فرمایا:

’’لا والله! لا أعينك على خيانة السلطان‘‘

(اللہ کی قسم! میں ہرگز بھی حکمران کے خلاف خیانت پر تمہاری مدد نہيں کرو ں گا)۔

(تاریخ بغداد ج 2 ص 418، سیر اعلام النبلاء  ج 4 ص 616 ترجمہ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ)

سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حکمرانوں کے لیے جائز نہيں کہ لوگوں اور ان منابر کے درمیان حائل ہوجائیں الا یہ کہ انہیں معلوم ہو کہ کوئی شخص باطل کی جانب دعوت دے رہا ہے، یا وہ دعوت دینے کا اہل نہيں، تو ایسے کو چاہے وہ کہیں بھی ہو روکا جائے گا‘‘۔

(مجموع الفتاوی 5/81)

اور علامہ محمد بن صالح العثیمین  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جب مسجد میں پیاز لہسن کھا کر آنے کو منع کیا جاتا ہے تو پھر جو لوگوں کا دین خراب کرے اس کا کیا حکم ہوگا!  کیا ایسا شخص منع کیے جانے کا زیادہ حقدار نہيں ہوگا؟ کیوں نہيں، اللہ کی قسم! لیکن بہت سے لوگ غافل ہیں‘‘۔ (شرح اربعین النووی)

اور فرمایا:’’اگر حکمران اپنے رائے میں یہ بہتر سمجھے کہ  میرے دروس پر پابندی لگادے تو مجھے ان کی اطاعت کرنی ہوگی اس کا یہ مطلب نہيں کہ اس نے سب پر پابندی لگادی ہے، یہ فرض کفایہ کوئی اور بھی ادا کرسکتا ہے، البتہ اس بہانے حکومت کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا جائز نہيں‘‘۔

(مختصر مفہوم: کیسٹ طاعۃ ولاۃ الامر – تسجیلات منھاج السنۃ)

November 3, 2018 | الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com