menu close menu

مسجد میں موبائل استعمال کرنے کے بعض احکام – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Few rulings regarding using mobile phones in Masjid – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

مسجد میں موبائل استعمال کرنے کے بعض احکام   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس و فتاوى في المسجد الحرام – المساجد۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:سائل پوچھتا ہے فضیلۃ الشیخ مسجد الحرام کے اندر سے کسی معتکف کا موبائل کے ذریعے رابطہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اسی طرح سے اپنے موبائل کو چارج کرنے کے لیے کیا مسجد الحرام کی بجلی استعمال کی جاسکتی ہے؟

جواب: جہاں تک بات ہے حرم میں موبائل کے ذریعے بات کرنے کی تو اس میں کوئی حرج نہيں۔جیسا کہ حرم میں جو آپ کے ساتھ بیٹھا ہو اس کے ساتھ بات کرنا جائز ہے، کیونکہ  دراصل یہ بھی آپ کسی سے بات ہی کررہے ہيں لیکن موبائل کے ذریعے سے، لہذا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ساتھ بیٹھے ہوئے سے بات کرنا۔ بشرطیکہ کہ موبائل کے آنے اور جانے والے سگنل اتنے کمزور نہ ہوں  کہ جن کی وجہ سے بہت بلند آواز میں بات کرنی پڑے جو لوگوں کو تشویش میں مبتلا کرے۔چناچہ اگر آنے جانے والے سگنل مضبوط ہوں تو کوئی حرج نہيں کہ جو آپ سے موبائل پر بات کرنا چاہتا ہے اس سے ایسی بات کریں  جو تشویش کا سبب نہ بنے،  اس میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن موبائل فون میں ایک اور تشویش بھی ہوتی ہے  اور وہ اس موبائل فون کی رِنگ ٹون ہوتی ہے جو کہ گھنٹی (بیل) ہوتی ہے۔ لہذا ایک انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی رِنگ ٹو  ن کیو آواز کو جس قدر کم کرسکتا ہے کرے، تاکہ لوگوں کی تشویش کا سبب نہ بنے۔

اسی طرح سے یہ بھی ٹھیک نہیں کہ موبائل کو لوگوں کے سامنے صف میں اسکرین کا منہ اوپر کی طرف کرکے رکھا جائے ۔ کیونکہ اگر وہ اس طرح سے رکھے گا تو کال آنے پر موبائل کی لائٹس آن ہوجائيں گے(اسکرین پر ڈسپلے ہونے لگے گا) اور آجکل لوگوں کا خشوع بہت کم ہوتا ہے تو آپ پائیں گے کہ جس کے سامنے یہ موبائل پڑا ہوگا کال آنے پر اس کی ساری توجہ ادھر چلے جائے گی اور وہ نماز سے غافل ہوجائے گا۔چناچہ اگر آپ کے پاس موبائل ہو تو آپ یا تو اسے اپنی جیب میں رکھیں اور اگر چاہیں تو اپنے سامنے رکھ لیں لیکن  اس کی اسکرین والا حصہ نیچے کی طرف کرکے ناکہ اوپر کی طرف۔

اب جہاں تک سوال ہے حرم کی بجلی کو موبائل چارجنگ کے لیے استعمال کرنا  تو یہ ایک بہت ہی بہترین اور اہم سوال ہے۔ لیکن اس کے مخاطب  حرم کے مسئولین ہونے چاہیے۔ حرم کے مسئولین سے پوچھیں کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں  کہ حرم کی بجلی سے میں موبائل چارجنگ کرسکتا ہوں یا نہيں؟ ا س کا جواب انہی کے پاس ہے۔

۔۔۔یہ عام طور پر بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص  حرم میں موبائل پر بات کرسکتا ہے کہ نہيں۔ البتہ جو معتکف ہے تو اسے چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی قرب دلانے والے اعمال، اطاعت و  عبادات میں مصروف رہے، زیادہ باتیں نہ کرے  نہ موبائل پر نہ موبائل کے علاوہ۔

سائل: اثابکم اللہ۔

November 27, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com