menu close menu

مختصر سوانح حیات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Short biography of Sahabi Abu Hurayrah (radiAllaaho anhu) – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

مختصر سوانح حیات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ و فوائد: طارق علی بروہی

مصدر: تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آپ ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخر الدوسی رضی اللہ عنہ ہيں۔ آپ نے فتح خیبر والے سال اسلام قبول فرمایا اور اس میں شریک بھی ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملازمت (ہمیشہ کا ساتھ) اختیار فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  احادیث کا خصوصی اہتمام فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث کی حرص کرنے کی گواہی دی۔ او رابن عمر رضی اللہ عنہما نے آ پ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

آپ نے ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ اختیار کیے رکھا ہے، او ر ہم سب سےزیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا علم رکھتے ہیں۔

اسی طرح کی بات خود عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

اور امام بخاری  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے دور کے جتنے بھی راویان حدیث ہیں ان میں سے سب سے زیادہ حافظ تھے۔

اور اہل علم نے ذکر فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے 5374 احادیث روایت کی گئی ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 75ھ میں مدینہ نبویہ میں ہوئی۔اھ

صحیح الادب المفرد سے ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ احادیث

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا:

’’مَا سَمِعَ بِي أَحَدٌ، يَهُودِيٌّ وَلا نَصْرَانِيٌّ، إِلا أَحَبَّنِي، إِنَّ أُمِّي كُنْتُ أُرِيدُهَا عَلَى الإِسْلَامِ فَتَأْبَى، فَقُلْتُ لَهَا، فَأَبَتْ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ K فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ لَهَا، فَدَعَا، فَأَتَيْتُهَا، وَقَدْ أَجَافَتْ عَلَيْهَا الْبَابَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَسْلَمْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ K فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلِأُمِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَبْدُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأُمُّهُ، أَحِبَّهُمَا إِلَى النَّاسِ‘‘

(میرے بارے میں کوئی بھی نہیں سنتا خواہ یہودی ہو یا نصرانی مگر وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں چاہتا تھا کہ میری ماں اسلام لے آئے لیکن وہ انکار کرتی تھی۔ پھر میں نے دوبارہ پیش کیا مگر اس نے انکار کردیا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے پاس آیا اور عرض کی: ان کے لیے اللہ تعالی سے دعاء کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعاء فرمائی۔ پھر میں اپنی ماں کے پاس لوٹا تو انہوں نے مجھ پر دروازہ بند کیا ہواتھا۔ اور (اندر سے)بولیں: اے ابوہریرہ! میں اسلام لے آئی ہوں۔ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبردی۔ پھر میں نے عرض کی: اللہ تعالی سے دعاء کریں میرے اور میری والدہ کے لیے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعاء فرمائی: اے اللہ! تیرا بندہ ابوہریرہ اور اس کی ماں، انہيں تو لوگوں کے یہاں محبوب بنادے([1])

محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انہوں نے فرمایا:

’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، وَلأُمِّي، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُمَا‘‘

(اے اللہ ابوہریرہ اور ان کی والدہ اور جو کوئی ان دونوں کے لیے مغفرت کی دعاءکرے  اسے بخش دے)۔

محمد کہتے ہیں: پس ہم ان دونوں کے لیے استغفار کرتے تھے تاکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس دعاء میں شامل ہوجائیں۔

 


[1] اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء قبول ہوئی لہذا ہر مومن آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے، اور جو اسلام کا نام لے کر بھی آپ سے بغض رکھے تو اس کے گمراہ اور برباد ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

September 23, 2018 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, سلف صالحین, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com