menu close menu

محبت کی اقسام واحکام – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Types of love and the ruling concerning them – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

محبت کی اقسام واحکام   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: القول المفيد على كتاب التوحيد

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب التوحید میں عنوان قائم کرتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان:

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾

(البقرۃ: 165)

(اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو اللہ کے علاوہ غیروں میں سے کچھ اس کے برابر والے بنا لیتے ہیں، وہ ان سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ سب سے شدید ترین محبت اللہ سے ہی کرتے ہیں)

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مؤلف رحمہ اللہ نے اسی آیت کو باب کا عنوان بنالیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ اس عنوان سے آپ کی مراد ہو باب المحبۃ  (محبت کے بارے میں باب)۔

اور جتنے بھی اعمال ہیں ان سب کی اصل بنیاد محبت ہی ہوتی ہے۔ پس انسان کسی چیز کے لیے عمل نہیں کرتا مگر صرف اسی کے لیے جس سے وہ محبت کرتا ہے، یا تو نفع حاصل کرنے کی چاہت یا پھر ضرر ونقصان کو دور کرنے کی چاہت۔ اگر وہ کوئی کام کرتا ہے تو ضرور وہ اس سے محبت کرتا ہے یا تو بذاتہ محبت جیسے کھانے کی محبت، یا پھر کسی غیر سبب کی وجہ سے جیسے دواء استعمال کرنا (یعنی دواء کی بذاتہ محبت نہيں مگر اس کے علاوہ ایک چیز یعنی شفاءیابی کی چاہت ہے جو اللہ تعالی کے حکم سے اس کے ذریعے سے ملتی ہے)۔

اور اللہ تعالی کی عبادت بھی محبت پر مبنی ہے، بلکہ یہی تو عبادت کی حقیقت ہے۔ کیونکہ اگر آپ عبادت کریں بغیر محبت کے تو وہ محض کھوکھلا جسم بن کر رہ جائے گی جس میں کوئی روح ہی نہ ہو۔اور جب انسان کے دل میں اللہ تعالی کی محبت اور اس کی جنت کے پہنچنے کی محبت ہوگی تو وہ ضرور اس تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو مشرکین اپنے معبودات سے محبت کرتےہیں تو وہ یہی محبت ہوتی ہے جو ان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہےکہ وہ ان کی اللہ تعالی کے علاوہ یا اس کے ساتھ عبادت کرنے لگتے ہیں۔

محبت دو اقسام میں تقسیم ہوتی ہے:

پہلی قسم:

محبتِ عبادت: یہ وہ محبت ہے جو تذلل وتعظیم کا موجب ہوتی ہے۔اور محبوب کا ایسا اجلال وتعظیم انسان کے دل میں بیٹھ جائے  جو اس کے اوامر کی بجاآوری اور نواہی سے اجتناب کا تقاضہ کرے۔اور یہ خاص ہے صرف اللہ تعالی کے لیے۔ اور جو کوئی اللہ تعالی کے ساتھ کسی غیر سے محبت ِعبادت کرتا ہے تو وہ شرک اکبر کرنے والا مشرک ہے۔ اور علماء کرام اس محبت کی تعبیر محبتِ خاصہ سے کرتے ہيں۔

دوسری قسم:

للہ فی اللہ محبت کرنا یعنی اللہ تعالی کے لیے اور اس کی وجہ سے محبت کرنا: وہ اس طرح کہ اس محبت کا سبب اللہ کی محبت ہو جیسا کہ کوئی چیز اللہ تعالی کو محبوب ہو اشخاص میں سے جیسے انبیاءورسل کرام، صدیقین، شہداء وصالحین۔

یا اعمال میں سے جیسے نماز وزکوٰۃ اور دیگر اعمال خیر یا ان کے علاوہ۔ محبت کی یہ نوع اس پہلی قسم یعنی اللہ تعالی کی محبت ہی کے تابع ہے۔

دوسری قسم میں سے دوسری نوع کی محبت شفقت ورحمت والی محبت ہے: اس کی مثال جیسا کہ اولاد کی محبت، بچوں کی، کمزوروں  اور مریضوں سے محبت وشفقت۔

اسی طرح  سے تیسری نوع کی محبت، اجلال وتعظیم والی محبت ہے مگر بغیر عبادت کے۔ جیسا کہ انسان والد سے محبت کرتا ہے، یا اپنے استاد سے یا اہل خیر میں سے جو بڑے ہيں ان سے۔

چوتھی نوع: طبیعی محبت جیسے کھانے پینے کی محبت، پہننے وسواری ورہائش وگھر کی محبت۔

ان تمام انواع میں سے سب سے اشرف پہلی نوع ہے، اور باقی مباح کی قسم میں سے ہيں، الا یہ کہ ان (مباح والی) کے ساتھ ایسی چیز کو جوڑا جائے جو تعبد (عبادت گزاری) کی متقاضی ہو تو پھر یہ بھی عبادت بن سکتی ہيں۔

جیسے ایک انسان اپنے والد سے اجلال وتعظیم والی محبت کرتا ہے لیکن اگر وہ اس محبت کے ذریعے اللہ تعالی کی عبادت گزاری کی نیت کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے والد کے ساتھ نیک سلوکی کا حکم دیا ہے تو یہ بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اسی طرح سے وہ اپنی اولاد سے شفقت والی محبت کرتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم کا جو تقاضہ بنتا ہے اسے بھی پورا کرے جیساکہ اس اولاد کی اصلاح کرتا رہے تو یہ بھی عبادت بن جائے گا۔

اسی طرح سے جو طبیعی محبت ہے جیسے کھانے پینے، پہننے اور گھر کی محبت اگر اس سے نیت اللہ تعالی کی عبادت میں استعانت ومدد لینا ہو تو یہ بھی عبادت بن جائیں گے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ:

’’حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ‘‘([1])

(دنیا میں سے مجھے محبوب کردی گئی ہيں عورتیں اور خوشبو)۔

چناچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عورتیں محبوب کردی گئیں کیونکہ یہ انسانی طبیعت کا تقاضہ ہے اور اس میں عظیم مصلحتیں بھی ہيں، اسی طرح سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خوشبو محبوب کردی گئی کیونکہ یہ بھی انسانی نفس میں تازگی لاتی، راحت دیتی اور شرح صدر کا سبب بنتی ہے۔ کیونکہ بلاشبہ طیبات طیبین کے لیے ہیں([2])، اور اللہ تعالی طیب (پاک) ہے نہيں قبول فرماتا  مگر طیب([3])۔

الغرض ان چیزوں کو اگر انسان عبادت کی نیت سے لیتا ہے تو عبادت بن جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى‘‘([4])

(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو صرف وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی)۔

اور علماء کرام فرماتے ہیں:

’’جس چیز کے بغیر کوئی واجب ادا نہ ہوتا ہو تو وہ بھی واجب ہوتی ہے‘‘۔

اور فرماتے ہیں:

’’وسائل کا حکم ان کے مقاصد کا سا ہوتا ہے‘‘۔

اور اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے۔

 


[1] أخرجه أحمد (3/128، 199، 285)، والنسائي فى عشرة النساء، باب حب النساء، 7/61) وفى تعليق الألباني على المشكاة (3/1448) : إسناده حسن.

 

[2] اس آیت کی جانب اشارہ ہے: ﴿وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ﴾ (النور: 26) (اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں) (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[3] اس حدیث کی جانب اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا‘‘(صحیح مسلم 1016) (بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور نہیں قبول کرتا مگر پاک(کمائی سے خرچ کیا ہوا)) (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[4] أخرجه البخاري فى بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي، 1/13، ومسلم فى الإمارة، باب قوله صلی اللہ علیہ والہ وسلم: إنما الأعمال بالنيات 3/1515۔

 

December 19, 2016 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com