menu close menu

ماضی اور حال میں خوارج کا خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا – شیخ علی بن یحیی الحدادی

Exploitation of women by the Khawaarij in the past and present – Shaykh Alee bin Yahyaa Al-Haddadee

ماضی اور حال میں خوارج کا خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا   

فضیلۃ الشیخ علی بن یحیی الحدادی حفظہ اللہ

(کلیۃ اصول الدین فیکلٹی سنت اور اس کے علوم میں لیکچرر، جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض)

مترجم: طارق علی بروہی

مصدر: خطبۂ جمعہ بعنوان: استغلال الخوارج للمرأة في الماضي والحاضر (11جون، 2010ع).

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

أما بعد:

چونکہ یہ بات معلوم ہے کہ عورت کی جذباتیت اس چیز کی طرف بہت قوی ہوتی ہے جسے وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اس بنا پر بدعقیدہ اور غلط افکار والے لوگ اس بات کی حرص رکھتے ہيں کہ وہ اس نسوانی عنصر کو اپنے صفوں میں ضرور جذب کریں کیونکہ ان کا ان میں شمولیت اختیار کرنےکا مطلب ہے ان کے اہداف پر قائم آگے کے مراحل تک وصول ، کیونکہ بلاشبہ یہ خواتین اپنے اس حلقے میں جس میں وہ رہتی ہیں اثر انداز ہوں گی جیسے بیوی اپنے شوہر کو بہت محبوب ہوتی ہے جیسے چاہے اسے پھیرسکتی ہے، اور وہ ماں جو اپنی اولاد کے اعتماد ودلوں کو جیت چکی ہوتی ہے وہ اپنے افکار کی غذاءو تربیت انہیں دیتی ہے اور ان کی موافقت میں ان کو ڈھالتی ہے خصوصاً عمر کے ابتدائی مراحل میں کیونکہ باپ تو یہاں وہاں مشغول رہتا ہے۔

چناچہ ایک عورت دیگر خواتین کے ساتھ میل جول رکھتی ہے، اور خواتین معاشرے کا ایک نہایت جذباتی گروہ ہوتا ہے جنہیں ایک بات یا کلمہ یا مؤقف تک یوں متحرک کردیتا ہے کہ وہ اس کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار ہوجاتی ہیں۔

انہی گروہوں میں سے جو عورت کو اپنی صفوں میں جذب کرنے کی حرص رکھتے ہیں فرقۂ خوارج بھی ہے۔ کیونکہ یہ تحریک ایسی ہے کہ اس کے لیے افراد اور مال اور خفیہ وپوشیدہ سرگرمیوں کی ضرورت پڑتی ہے، اور عورت ان میں سے بہت سے مقاصد کی تکمیل کی ذمہ دار بنتی ہے۔ اگر کسی عورت میں کوئی فکر پروان چڑھ جائے تو وہ اپنے خاوندو اولادکو بھی اس کا قائل کرکے چھوڑتی ہے، ساتھ ہی اپنے جیسی بہت سے خواتین کو بھی اس کا قائل بنالیتی ہيں ساتھ میں ان خواتین کے بھی شوہر اور اولاد کوشامل کرلیجئے۔

اور وہ اس بات کی بھی بھرپور استطاعت وصلاحیت رکھتی ہیں کہ خواتین کے ذریعے مال (فنڈز) جمع کریں کیونکہ خواتین کو اگر مؤثر طریقے سے خرچ کرنے پر ابھارا جائے تو وہ اس میں خوب تیزی دکھاتی ہیں، اور پرتاثیر طریقے سے ابھارے جانے پر آمادہ ہوجانا مردوں سے زیادہ عورتوں میں پایا جاتا ہے۔

ساتھ ہی وہ اس بات کی استطاعت وصلاحیت رکھتی ہیں کہ سرگرمی کو خفیہ رکھا جائے کیونکہ عورت حجاب کے پیچھے رہتی ہے غالباً سوائے محارم یا اپنے جیسی عورتوں کے کسی سے ان کا اختلاط نہیں ہوتا، لہذا ان تک یا ان کی سرگرمیوں کی حقیقت تک پہنچنا سوائے بہت زیادہ مشقت اور مشکلات کے ممکن نہيں۔

تاریخ نے ہمارے لیے بہت سے سنگین نسوانی مواقف محفوظ کیے ہیں جن کا تعلق خوارج کی تحریک اور ان کے طریقے سے رہا ہے۔ چناچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے پیچھے قطام نامی خارجی عورت کا ہاتھ تھا، جس نے اپنے حسن وجمال اور شیریں گفتگو سے ایک ایسے شخص کے دل پر قبضہ جما لیا جو کہ اہل خیر واصلاح میں سے تھا، پس اس نے اسے نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے قبول کرلیا، مگر اس سے کم مہر پر راضی نہ ہوئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قتل کیا جائے، پس وہ بدبخت اور بیوقوف اس پر راضی ہوگیا اور اس پاک وطیب نفس کے قتل کا وبال سر لے کر لوٹا۔ اسی بارے میں ان کا شاعر (اللہ تعالی اسے رسوا کرے) نے کہا:

فلا مهر أغلى من علي وإن غلا  ولا فتك إلا دون فتك ابن ملجم

اسی طرح سے تاریخ نے اس باب میں جو کچھ ہمارے لیے محفوظ کیااس میں سے شبیب خارجی کا قصہ ہے کہ جس نےاپنے باکثرت فتنوں، خون خرابہ اور مسلمانوں پر خروج کے ذریعے بنی امیہ کے ناک میں دم کر رکھا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اسے نہر دجلہ میں غرق کرکے اس کے شر سے خلاصی دلائی ، اس شخص کے پیچھے بھی دو عورتوں کا ہاتھ تھا جو اسے اس بات پر ابھارتیں اور برانگیختہ کرتیں اور اس کے منصوبوں اور جنگوں میں اس کی شریک کار ہوا کرتی تھیں، اور وہ تھیں اس کی ماں جہبرہ اور اس کی بیوی غزالہ۔ اس کی قوت میں کمزوری نہیں آئی اور شان  وشوکت نہيں ٹوٹی جب تک اس کی بیوی غزالہ قتل نہ ہوئی۔

تاریخ میں سے اگر ہر ایک واقعے کی تلاش کی جائے تو بات بہت طویل ہوجائے گی لیکن ہمارا مقصود تو بس مثال کے ذریعے اشارہ کرنا تھا۔

میرے دینی بھائیو!

اس زمانے میں ہم پاتے ہيں کہ فتنہ باز لوگ اس بات کی حرص کرتے ہيں کہ عورتوں کو فوج بناکر اپنی صفوں میں شامل کرلیا جائے، اور انہیں ہر اس چیز کا پابند بنادیا جائے جو اس وظیفے کی ادائیگی میں انہيں کرنا پڑے، جیسے عورتوں میں گمراہ افکار کو نشر کرنا، نیک دل اور سخی خواتین سے فلاحی کاموں کی آڑ میں مال وفنڈز جمع کرنا کہ ہم یتیموں اور فقراء وغیرہ کی کفالت اور اس جیسے دیگر نیکی اور خیر کے مقاصد کے لیے  یہ جمع کررہے ہیں جبکہ اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔

اور بعض ان لوگوں پر جو زمین میں جرائم اور دنگا فساد کرتے ہیں پردہ ڈالنے کے لیے بھی انہیں استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ بسا اوقات تو ان کے ذمہ داری اس حد تک بڑھا دی جاتی ہے کہ انہیں خودکش حملے کے لیے بھی روانہ کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دے، جیسا کہ بہت سے ان ممالک  میں ایسا ہوا جن میں اس فکر کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں([1])۔

جہاں تک سوال ہے کہ وہ ہماری بہن بیٹیوں تک پہنچے کیسے یا کیسے پہنچتے ہیں تو اس کے بہت سے وسائل ہیں۔ جن میں سے یہ ہے کہ لڑکی کا حصول ِتعلیم کے دوران اپنی کسی کلاس فیلو یا دوست سے متاثر ہونا جس سے یہ فکر پروان چڑھتی ہے، اور حدیث کے مطابق انسان اپنے دوست کے دین پر ہی ہوتا ہے۔ اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ بعض نسوانی سرگرمیوں کو غنیمت جان کر اس فکر کے حامل  افراد کچھ ہیرپھیر کے اسالیب استعمال کرتے ہوئے ان کے ذریعے اپنے افکار کو بدستور پہنچاتے رہتے ہیں۔

ان میں سے انٹرنیٹ کے ذریعے بھی یہ کام ہوتا ہے پس خوارج کی ویب سائٹس وغیرہ بیسیوں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہيں جن میں سے بعض دونوں جنسوں (یعنی مرد وعورت) کو مخاطب کرتی ہیں اور بعض خواتین کے لیے خاص ہیں۔

ان وسائل میں سے وہ اناشید (نظمیں/ترانے ) ہیں جنہیں جھوٹ بہتان کے ذریعے اسلامی کہا جاتا ہے ، جنہیں نہایت پرسوز اور پرتاثیر آوازوں کے ساتھ گایا جاتا ہے کہ جو ان کی حلاوت اور تاثیر میں مزید ا‌ضافہ کردیتی ہیں، اور عورت اپنی فطرت کے مطابق طرب وجذبات کو ابھارنے والے نغمات کی طرف مائل ہوتی ہے، اور ان اناشاید کے بہت سے کلمات میں ہیجانی اور جوش دلانے والے پیغامات ہوتے ہیں جس سے سننے والا رفتہ رفتہ ان گمراہ کن افکار اور جماعتوں میں مدغم ہوتا چلا جاتا ہے۔

ان میں سے ایک طریقہ شادی کے ذریعے بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی گمراہ فکر والا منحرف شخص کسی ایسی لڑکی سے شادی کرتا ہے جس کے پاس کوئی علم وبصیرت نہیں ہوتی کہ جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرسکے، تو یہ گمراہ شوہر اپنے فاسد عقیدے کی طرف اسے پھیر دیتا ہے۔

اسلامی بھائیو! یہ اسالیب ہم پر یہ فرض عائد کرتے ہیں کہ ہم مکمل ہوش میں رہیں اور خبردار رہیں کہ کہیں یہ ہماری بیٹیوں یا بیٹوں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں، اور اس کے لیے مستقل طور پر چوکس رہنا ہوگا ساتھ میں صحیح وسلیم منہج پر کامیاب تربیت اور اس کے مخالف باتوں سے خبردار کرنا بھی جاری رکھنا ہوگا۔اور بقدر استطاعت ان ویب سائٹس اور ویب پیجز کے بارے میں یقینی دہانی کرتے رہنا ہوگی جسے ہمارے بیٹے یا بیٹیاں انٹرنیٹ پر وزٹ کرتے ہیں ، اور ان چینلز کے بارے میں بھی جو وہ مسلسل دیکھتے رہتے ہیں، اور ان کیسٹوں کے بارے میں جو وہ سنتے ہیں، اور ان کتابوں کے بارے میں جو وہ پڑھتے ہيں تاکہ اس میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو ان کو ان کے عقیدے وافکار کے اعتبار سے نقصان پہنچائے ، کیونکہ عقیدے میں گمراہی یقیناً جہنم کا راستہ ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ﴾ (التحریم: 6)

(اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ تعالی انہیں حکم دے اس میں وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں)

بارك الله لي ولكم في القرآن العظيم ونفعني وإياكم بهدي سيد المرسلين أقول هذا القول وأستغفر الله العظيم الجليل لي ولكم من كل ذنب فاستغفروه إنه هو الغفور الرحيم.

دوسرا خطبہ:

اما بعد:

بے شک ایک مسلمان عورت کو آج ایک شدید جنگ کا سامنا ہے اس پر دشمنوں کی ایک تعداد نے حملہ کررکھا ہے جن میں سے ایک دشمن تو وہ ہیں جو اسے اسلام سے ہی مکمل نکال دینا چاہتےہیں۔

اور ان میں سے بعض دشمن وہ ہیں جو انہیں سلف صالحین کے عقیدے سے نکال کر (حدیث کے مطابق) جہنم کے کتوں خوارج کے عقائد میں لے جانا چاہتے ہیں۔

ان میں سے وہ دشمن بھی ہیں جو چاہتے ہيں کہ یہ اپنا پردہ، عفت وحشمت اتار پھینکے اور بن سنور کر بے پردہ باہر نکلے تاکہ اپنے جسم وگوشت کو لوگوں کی نظروں پر پیش کرسکے، اور مردوں کے ساتھ اختلاط کرے اور ان کے ہاتھوں کی رسائی کے قریب ہی رہے تاکہ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں اس پر دست درازی کرسکیں([2])۔

پس یہ مختلف محاذوں والی جنگ مسلمانوں کے ولاۃ امورحکمرانوں پر یہ واجب کرتی ہے کہ وہ مسلمان خواتین کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں اور ان کی حفاظت کے لیے کھڑے اور بیدار ہوجائيں اس طاقت کے ذریعے جو اللہ تعالی نے انہیں عطاء کی ہے۔ اور یہ بات علماء کرام اور طلاب العلم پر یہ واجب کرتی ہے  کہ جو کچھ قوت، جدوجہد ونشاط انہیں دی گئی ہے اس کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور نصیحت وخیرخواہی کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کے محاسن وخوبیاں بیان کریں اور اس میں جو خواتین کے احکام ہیں ان کی وضاحت کریں، ساتھ ہی ان شبہات کا رد بھی کریں جو اہل باطل اس بارے میں پھیلاتے ہيں تاکہ کہیں وہ لوگوں کو بیوقوف نہ بناسکیں۔

اور خود عورت پر یہ بات واجب ہوتی ہے کہ داعیان فتنہ اور اسباب فتنہ سے بہت زیادہ چوکنا اور خبردار رہے، پس اپنے آپ کو شرعی علم کے ذریعے محفوظ کرے، اور اپنے اخلاق، حیاء، دین وعقیدے سے چمٹی رہے، اپنے نفس کو ہر ہانکنے والے کی نذر نہ کردے جو آزادئ نسواں، حقوق نسواں، جہاد اور اللہ کی راہ میں قربانی کے نام پر اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔

اورہم سب پر واجب ہے کہ ہم سلامتی اور حفاظت کے اسباب کو اختیار کریں۔ ان اسباب میں سے صدق دل سے دعاء کرنا ہے اور اللہ تعالی کے حضور تضرع وزاری کے ساتھ ہدایت طلبی اور اس پر ثابت قدمی طلب کرنا ہے، کیونکہ بلاشبہ تمام دل اللہ سبحانہ و تعالی کے ہاتھوں میں ہی ہیں، فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ، وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ﴾ (الزمر: 36-37)

(اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں، اور جسے اللہ راہ پر لے آئے، پھر اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں)

اللهم اهدنا ولا تضلنا وثبت قلوبنا على الحق ولا تزغنا يا رب العالمين۔

 


[1] جیسا کہ ہمارے وطن عزیز میں بھی اس قسم کے افکار والوں نے خواتین اور ان کے مدارس کا خوب استعمال کیا، بلکہ بوقت ضرورت جب ان شرپسندوں کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے تو انہیں بطور ڈھال استعمال کرنے سے بھی دریغ نہيں کرتے، اسی طرح سے بہت سی خواتین بدنام زمانہ داعش جیسی دہشتگرد وخارجی تنظیم کے ساتھ جاکر مل جاتی ہیں، بلکہ حال ہی میں پاکستان سے بھی اس قسم کی لڑکی کو گرفتار کیا گیا جو اسی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال ہونے جارہی تھی، اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور مسلم ممالک کی ان جیسوں کے شر سے حفاظت فرمائے۔ (توحیدخالص ڈاٹ کام)

[2] اور بعض اپنی دینی سیاسی جماعتوں کے لیے انہیں بطور کارکنان ونمائندگان استعمال کرتی ہیں، اور جب چاہیں انہیں سڑکوں پر نکال لاتے ہيں۔ اللہ تعالی ایسوں سے ہماری ماؤں بہنوں کی حفاظت فرمائے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

April 20, 2017 | خواتین, شیخ علی بن یحیی الحدادی, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com