menu close menu

لاالہ الااللہ کےاعراب، ارکان اورشرائط – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Grammatical analysis, pillars and conditions of the Kalimah – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

لاالہ الااللہ کےاعراب، ارکان اورشرائط   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: لا إله إلا الله مكانتها، فضلها، وأركانها، شروطها، معناها۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جب کسی بھی جملےکی معرفت موقوف ہےاس کےمعنی کےفہم پرتوپھرلاالہ الاللہ، لہذا اسی کے پیش نظر علماءاکرام رحمہم اللہ نے لاالہ الاللہ کےاعراب بیان کرنےکااہتمام فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ لا نافیہ ہے جنس کے لیے، اورالہاس کااسم ہےجو اس کےساتھ فتح (زبر) پر مبنی ہے، اوراس کی خبرمحذوف ہےجس کی تقدیر حق ہے یعنی لاالہ حق ( کوئی الہِ حقیقی نہیں)۔

اورالااللہاستثناءہےاس خبرِمرفوع سے۔

اور الہ کامعنی ہےالمألوہ بالعبادۃ (یعنی محبت اورتعظیم کےساتھ جس کی عبادت کی جاتی ہے)۔ وہی ہے جس کی جانب دل کھینچے چلےجاتےہیں اور اس کا قصد کرکے متوجہ ہوتےہیں،اس سے فائدےکےحصول یانقصان سےبچنےکی رغبت کرتےہوئے۔

اوروہ لوگ غلطی پرہیں جنہوں نےاس کی خبراس فقط اس کلمے موجودیامعبود  کو قرار دیا (یعنی معبودحقیقی کی جگہ اللہ کےسواکوئی معبودنہیں یا موجودنہیں انہوں نےقراردیا)۔ کیوں کہ حقیقت یہ ہےکہ معبودات تو بہت سےموجودہیں بت ہیں مزارات وغیرہ ہیں، لیکن معبودحقیقی صرف اللہ تعالی ہےاوراس کےسواجتنےمعبودات ہیں وہ باطل ہیں، اوران کی عبادت بھی باطل ہے۔تویہ لاالہ الاللہ کےدونوں ارکان کا تقاضہ ہے۔

لاالہ الاللہ کےدو ارکان

اس کےدورکن ہیں:   پہلارکن نفی ہے،اوردوسرارکن اثبات ہے۔

1- نفی  سےمرادہےکہ اللہ تعالی کےسواہرایک کی الوہیت کی نفی جس میں تمام مخلوقات شامل ہیں۔

2- اوراثبات سےمراد ہے،اللہ تعالی کےلئےالوہیت کااقرارکہ وہ الہِ حق (معبودحقیقی) ہے،اوراس کےسواجتنےمعبودات ہیں جومشرکین نےبنارکھےہیں وہ سب کےسب باطل ہیں۔

اللہ تعالی کا فرمان:

﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ ﴾ (سورۃالحج:62)

(یہ اس لئےکہ بلاشبہ اللہ تعالی ہی حق ہے، اوراس کےسواجن کوپکاراجاتاہےوہ باطل ہیں)

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتےہیں:کہ لاالہ الااللہ کی جو الوہیت کوثابت کرنے پردلالت ہے،وہ اس سےکئی بڑھ کر ہے کہ یہ کہاجائے “الله إله” (اللہ معبودہے)وہ اس لئےکیوں کہ اللہ معبودہے  کے قو ل میں اللہ کےسواغیروں کی الوہیت کی نفی نہیں کی گئی ہےبرخلاف اس قول کے کہ یہ کہاجائےلاالہ الاللہ یہ کلمہ اس بات کاتقاضہ کرتاہےکہ الوہیت کومحصورکردیاصرف اللہ تعالی میں اوراس کےسواجوبھی ہےاس سےاس کی نفی کی۔ چناچہ وہ لوگ بھی فاش غلطی پرہیں جنہوں نے الہ کامعنی  فقطالقادر على الإختراع“ (پیدا واختراع کرنےپرقادر) کیا ہے۔

شیخ سلیمان بن عبداللہ کتاب التوحیدکی شرح میں فرماتےہیں:

اگریہ کہاجائےکہ  الإله اور الإلهية،کامعنی تو واضح ہوگیاتوپھراس بات کاجواب کیاہے،کہ کہنےوالایہ کہےکہ الہ کامطلب ہےالقادر على الإختراع“ (پیدا واختراع کرنےپرقادر) یا اس جیسی کوئی عبارت کہے؟

اس کاجواب دوپہلوؤں سے دیاجاتاہے:

پہلا یہ کےیہ قول نیابدعتی قول ہے، ہم نہیں جانتےکہ اہلِ علم میں سےکسی نےکہاہو نہ ہی آئمہ لغت نے، بلکہ جوعلماء کاکلام ہےیاآئمہ لغت کاوہ وہی ہےجوہم نے پہلے ذکرکیالہذا یہ قول باطل ہے۔

دوسرا پہلو یہ کہ اگرہم اسےتسلیم کریں بالفرض تویہ الہ ِحق کی تفسیرباللازم کہلائےگی یعنی الہ ِحق ہون ےکا لازمی تقاضہ یہی ہےکہ جوخالق ہو اورپیدا کرنے پر قادرہو،اگر وہ پیداکرنےپرقادرناہوتووہ الہِ حقیقی نہيں ہوسکتاہے،اگرچہ اسے  لوگ الہ کہتے پھریں۔ ان کی اس سےمرادہرگز یہ نہیں ہےکہ جو  یہ مانتا ہو کہ بے شک الہ کا معنی ہے جو پیدا کرنے پر قادر ہو تو وہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے،اور اصل مراد اور دارالسلام (جنت) کی چابی کو پالیتا ہے۔یہ بات تو کوئی بھی نہیں کہتا۔ کیوں کہ اس سےتویہ بات لازم آئےگی جوکفارعرب تھےوہ بھی مسلمان تھے۔ اگر یہ  بات بھی مان لی جائے کہ بعض متاخرین نے یہی مراد لی ہوگی تو ہو اس میں غلطی پر ہيں  اوران کاردمختلف دلائل سمعیہ اور عقلیہ  (کتاب و سنت و عقلی دلائل) سےکیاجاتاہے۔

”لاالہ الاللہ“ کی شرائط

کیوں کہ اس کاپڑھنا پڑھنے والے کو فائدہ نہیں دیتاجب تک اس کی یہ ساتوں شرائط نہ پائی جائيں:

1- علم:

اس کامعنی ہےنفی اوراثبات دونوں کاعلم ہو۔ جواس کواداکرتاہےزبان سے،جبکہ وہ اس کامعنی اورتقاضے نہیں جانتاتوپھروہ اس کوفائدہ نہیں دےگا۔کیوں کہ جس چیزپریہ کلمہ دلالت کرتاہےوہ اس کااعتقادہی نہیں رکھتا،جیساکہ کوئی شخص ایسی زبان میں کلام کرےجس زبان کووہ جانتاہی ناہو۔

2- یقین:

جواس کلمے کے  علم کاکمال ہے،جوکہ شک اورشبہہ کےمنافی ہے۔

3- اخلاص:

جوکہ شرک کےمنافی ہے۔اوراسی بات پرلاالہ الاللہ دلالت کرتاہے۔

4- صدق:

یعنی سچائی جوکہ نفاق کےمنافی ہے۔کیوں کہ منافقین بھی یہ کلمہ محض اپنی زبان سے اداکرتےتھے  لیکن یہ کلمہ جس بات پر دلالت کرتا ہے اس کا وہ اعتقاد نہيں رکھتے تھے۔

5-محبت:

اس کلمہ  اورجس چیزپریہ دلالت کرتاہے اس سے سےمحبت ہو اوراس سے وہ خوش برخلاف منافقین کے۔

6- انقیاد:

یعنی اس کےحقوق کی ادائیگی کی جائے،جوکہ وہ واجب اعمال ہیں کہ جنہیں اللہ تعالی کےلئےاخلاص کےساتھ اور  اس کی رضاطلب کرتےہوئے ادا کیا جائے۔ کیونکہ دراصل یہی اس کاتقاضہ ہے۔

7- قبول:

جوکہ ردکےمنافی ہے،وہ اس طورپہ کےجتنےبھی اللہ تعالی کےاوامرہیں انہیں مانا جائے اور بجاآوری کی جائےاورجن سےمنع کیاگیاہےاس سےپرہیزکیاجائے۔

ان سات شرائط کو علماءکرام نےکتاب وسنت کےان نصوص سےجوخصوصی طورسےاس عظیم کلمے کےبارے میں، اس کے حقوق وقیود کے بیان میں آئےہیں سےاستنباط کیاہے، اوریہ کہ یہ ایساکلمہ نہیں ہےکہ جسےبس زبان سےاداکردیاجائے(بلکہ اس کی شرائط پوری کی جائیں اورتقاضوں پرعمل کیاجائے)۔

April 7, 2018 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, توحید, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com