menu close menu

قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْب – شیخ الاسلام ابن تیمیہ

Neither wealthy, nor knowledge of the unseen, nor an angel – Shaykh-ul-Islaam Imaam Ibn Taymiyyah

قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْب

شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ المتوفی سن 728ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مجموع الفتاوى

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ  ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ﴾ (الانعام: 50)

(آپ کہہ دیجئے میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالی کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو پیروی نہیں کرتا ہوں مگر صرف اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے)

اسی طرح سے سیدنا نوح علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی فرمایا۔ یعنی  جو سب سے پہلے اولوالعزم (بلند حوصلہ) اور سب سے پہلے رسول تھے جنہیں اللہ تعالی نے اہل زمین کے لیے بھیجا انہوں نے،  اور خاتم الرسل اور خاتم اولی العزم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں نے اس بات سے برأت کا اظہار فرمایا۔

یہ اس لیے کیونکہ کبھی وہ رسول سے علم غیب کا مطالبہ کرتے، جیسا کہ فرمایا:

﴿وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ﴾ (الملک: 25)

(اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟)

اور:

﴿ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا  ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ﴾ (الاعراف: 187)

(وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں اس کا وقوع  کب ہوگا ؟ کہہ دیجئے اس کا علم تو صرف میرے رب ہی کے پاس ہے)

کبھی (کائنات میں) تاثیر کا مطالبہ کرتے، جیساکہ فرمایا:

﴿وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا، اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةُ  قَبِيْلًا،  اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ  ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا﴾ (الاسراء: 90-93)

(اور انہوں نے کہا ہم ہرگز آپ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں، یا آپ کےلیے کھجوروں اور انگور کا ایک باغ ہو، پس آپ اس کے درمیان خوب نہریں جاری کردیں،  یا آپ آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دیں، جیسا کہ آپ نے دعویٰ کیا ہے، یا آپ  اللہ اور فرشتوں کو ہی ہمارے سامنے لے آئیں، یا آپ کے لیے سونے کا ایک گھر ہو، یا آپ  آسمان میں چڑھ جائیں، اور ہم آپ کے چڑھنے کا بھی ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ آپ  ہم پر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم پڑھیں ۔ آپ  کہہ دیجئے میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سوا کچھ نہیں جو رسول ہے)

کبھی بشری حاجتوں اور تقاضوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں عیب گردانتے، جیساکہ فرمایا:

﴿وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ  ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا،  اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا ﴾ (الفرقان: 7-8)

(اور انہوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا،  یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا)

پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ انہيں بتادیں کہ بے شک وہ غیب نہيں جانتے، نہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں، نہ وہ کوئی فرشتے ہيں کہ جو کھانے یا مال سے بے نیاز ہوں، بلکہ وہ تو صرف اور صرف اسی کی پیروی کرتے ہيں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے، اور جو کچھ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع ہی دین ہے، اور وہ اللہ تعالی کی اطاعت اور اس کی عبادت ہے علماً وعملاً،  باطناً وظاہراً۔

چناچہ ان تین چیزوں میں سے جو ذکر ہوئیں انہيں اتنا کچھ ہی حاصل ہے جتنا اللہ تعالی نے انہيں عطاء کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے اتنا ہی علم رکھتے ہيں جتنا اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھلایا، اور اتنی ہی قدرت رکھتے ہیں جتنی چیزوں پر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قدرت دی، اور انہی چیزوں سے بے نیاز ہیں جن سے اللہ تعالی نے آپ کو بے نیاز رکھاجو عام عادات سے یا غالب لوگوں کی عادات سے ہٹ کر تھے۔

June 26, 2016 | توحید, شيخ الاسلام ابن تيمية, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com