menu close menu

قبروں کی زیارت پر جانے والوں کی اقسام واحکام – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Types and rulings of the people who visit graves – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

قبروں کی زیارت پر جانے والوں کی اقسام واحکام   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ   المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوی نور علی الدرب (نصیۃ): التوحید والعقیدۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: بارک اللہ فیکم۔ کیا ایسے شخص کا ذبیحہ کھانا جائز ہے جو مزاروں پر جاتا ہے اور ان سے تبرک حاصل کرتا ہے، وسیلہ بناتا ہے، اور کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے، وجزاکم اللہ خیراً؟

جواب: دراصل مزاروں پرجانے والوں کی کچھ اقسام ہیں:

پہلی قسم: جو مزاروں پر اس  لیے جاتے ہیں کہ اسے پکارتے ہیں، پناہ طلب کرتے ہیں، مدد طلب کرتے ہیں، اور اس سے رزق طلب کرتے ہيں تو ایساکرنے والے شرک اکبر کے مرتکب مشرک ہیں۔ نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ ہی نماز میں امامت کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ  ۭوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا﴾ (النساء: 116)

(بے شک اللہ تعالی  اس بات کو نہیں معاف کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے البتہ اس کے سوا جو گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف فرمادیتا ہے، اور جس نے اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا)

ایک اور آیت میں ہے:

﴿ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ﴾ (النساء: 48)

(یقیناً اس نے بہت عظیم گناہ اور بہتان باندھا)

دوسری قسم: وہ لوگ جو مزاروں پر اس لیے جاتے ہیں کہ قبر کے پاس اللہ تعالی سے دعاء کریں گے یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ اس کے پاس دعاء کرنا مسجد یا اپنے گھر میں دعاء کرنے سے افضل ہے اور بلاشبہ یہ گمراہی، غلطی اور جہالت ہے لیکن یہ کفر کی حد تک نہیں پہنچتی ، کیونکہ وہ خالص اللہ تعالی سے دعاء کے لیے گیا تھا مگر اس کا یہ گمان تھا کہ اس قبر پر اس کا دعاء کرنا افضل ہے اور قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

تیسری قسم: جو قبروں کا طواف اللہ تعالی کی تعظیم کے لیے کرتا ہے یہ سوچ کرکہ  یہ صاحب قبر اولیاء اللہ میں سے ہے اور ان کی تعظیم کرنا دراصل اللہ تعالی ہی کی تعظیم ہے تو ایسا شخص بدعتی ہے مگر شرک اکبر کرنے والا مشرک نہیں کیونکہ وہ صاحب قبر کی تعظیم کے لیے طواف نہیں کررہا بلکہ وہ تو اللہ تعالی کی تعظیم کے لیے طواف کررہا ہے ۔ لیکن اگر وہ واقعی صاحب قبر کی تعظیم میں طواف کرے تو قریب ہے کہ وہ شرک اکبر والا مشرک بن جائے گا۔

چوتھی قسم: جو قبروں پر شرعی زیارت کے لیے جاتا ہے اور فوت شدگان کے لیے دعاء کرتا ہےتو یہ شرعی زیارت ہے جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ‘‘([1])

(بلاشبہ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، لیکن اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ بے شک یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گی)۔

اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع قبرستان جاکر فوت شدگان کے لیے دعاء مانگا کرتے تھے۔ اور اس زیارت کے دوران جو دعاء مستحب ہے وہ یہ ہے کہ:

’’السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنكُم وَالْمُسْتَأْخِرِينَ و نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ وَ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُم‘‘([2])

(مومن قوم کی آرام گاہ تم پر سلامتی ہو، اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، اللہ تعالی ہمارے اور تمہارے گزرے ہوؤں اور پیچھے رہ جانے والوں پر رحم فرمائیں، اور ہم اللہ تعالی سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ کرنا اور ان کے جانے کے بعد ہمیں کسی فتنے میں مبتلا نہ کرنا، اور ہماری اور ان کی بخشش فرمادے)۔

اور یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ قبروں کو سجانا یا اس پر عمارت (مزار) تعمیر کرنا جائز نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں پر تعمیر کرنے یا انہيں چونا گچ پکا کرنے یا صاحب قبر کے لیے کسی بھی طرح کی خاص تعظیم بجالانے سے منع فرمایا ہے۔حالانکہ صاحب قبر تو اس سجاوٹ سے بالکل مستغنی ہے یہ سب سجاوٹیں وغیرہ اسے کوئی نفع نہیں پہنچائیں گی، کیونکہ وہ زمین کے پیٹ میں مٹی تلے دفن ہیں۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب سجاوٹ اور مزار تعمیر کرنا وغیرہ صاحب قبر کی تعظیم کے لیے ہے حالانکہ صاحب قبر کو تو اس تعظیم کا شعور ہی نہیں اور نہ اسے اس کا کوئی فائدہ موصول ہوسکتا ہے۔ بلکہ یہ تو وسائل شرک میں سے ایک اہم وسیلہ ہے اگرچہ کچھ عرصہ بیت جانے کے بعد ہی ہوآخر یہ شرک کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

پس قبروں کی زیارت کرنے والوں کی مندرجہ بالا اقسام کے پیش نظر ہی ان کے احکام بنیں گے کہ وہ شخص مشرک بنتا ہے یا نہیں تو اسی صورت میں اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں۔ اور یہ جاننا چاہیے کہ قول راحج یہی ہے کہ کسی فاسق وگنہگار کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اگر اس کے پیچھے نماز پڑھنا اس امام کے لیے اس دھوکے کا سبب نہ بنے کہ میرا گناہ کرنا صحیح ہے یا کسی دوسرے مقتدی وغیرہ کے دھوکے کا سبب بنے کہ جب آپ کو اس فاسق کے پیچھے نماز پڑھتا دیکھے تو سمجھے کہ وہ گنہگار امام نہیں ۔ البتہ جو کافر ہو یعنی اس کی بدعت کفر کے درجے تک پہنچنے والی بدعت مکفرہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ کافر کی نماز نہیں ہوتی۔

 


[1] مسند احمد 1240۔

[2] صحیح مسلم، ابن ماجہ ومسنداحمد وغیرہ کی احادیث سے ماخوذ۔

November 11, 2017 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, توحید, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com