menu close menu

فتنوں کے موقع پر حکام کی اطاعت پر زور دینا – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

Emphasis on the principle of obeying the rulers in the times of tribulations – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

فتنوں کے موقع پر حکام کی اطاعت پر زور دینا

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

جب کبھی بھی امت کو حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرادی کے اصول کی زیادہ احتیاج ہوتی تھی سلف اس بارے میں جو سلف کا قاعدہ ہے اس کے اہتمام وعنایت پر مزید زور دیتے تھےتاکہ حکمرانوں کے خلاف خروج کے دروازے وراستے کا سدباب کیا جاسکے، جوکہ دنیا ودین میں فساد کی جڑ ہے۔

پھر جو کچھ آئمہ دعوت نجدیہ رحمہم اللہ نے اس باب میں اس وقت لکھا  جب اس بارے میں بعض بظاہر خیر وبھلائی کی جانب منتسب جماعتوں میں اس  قاعدے سے منحرف افکار سرایت کرگئے تھے تو آئمہ کی کاوش نے اس قاعدے کو مزید پختگی وجلا بخشی۔

چناچہ انہوں نے کثرت سے اس بات کا بیان فرمایا، اس پر روشنی ڈالی، اور اسے باربار دہرایا تاکہ یہ بات بھرپور واضح ہوجائے اور اس سے متعلق کوئی بھی شبہ ہو تو وہ زائل ہوجائے۔لہذا انہوں نے بس ایک بات یا کلمہ کہہ دینے پر یا ان میں سے کسی ایک شخص کے بیان کردینے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کی خطرناکی اور اس سے جہالت  کے سبب لاحق ہونے والے مصائب اور وسیع پیمانے پر پھیل جانے والی برائی کے پیش نظر اسے ہر ایک نے اور باربار بیان کیا۔

اسی وجہ سے شیخ امام عبداللطیف بن عبدالرحمن بن حسن آل الشیخ رحمہم اللہ نے اپنے زبردست کلام میں اس باب میں وارد کئے جانے والے شبہات میں سے بعض کی نقاب کشائی فرمائی اور جاہلوں میں سے جو اس کی نشرواشاعت کررہے تھے ان پر رد فرمایا:

’’کیا یہ فتنہ زدہ لوگ نہیں جانتے کہ مسلمانوں کے اکثر حکمران یزید بن معاویہ کے دور سے لے کر آخر تک سوائے عمر بن عبدالعزیز اور بنی امیہ میں سے الا ماشاء اللہ سب سے بغاوتیں، بڑے حادثات، خروج وفساد حکومت اسلامی میں رونما ہوا مگر مشہور ومعروف آئمہ اسلام کی سیرت بھی ان کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں معروف ومشہور ہے کہ انہوں نے ان کی اطاعت سے ہاتھ نہیں کھینچا شریعت اسلام اور واجبات دین سے متعلق ہر اس چیز کے بارے میں جس کا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا ہو۔

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں حجاج بن یوسف الثقفی کہ جس کا معاملہ امت میں بطور ظلم وستم، خون بہانے میں اسراف، محرمات الہی کی پامالی، امت کی عظیم شخصیتوں میں سے اس نے بہت سے قتل کئے جیسے سعید بن جبیرکو اورابن الزبیر کا محاصرہ کیا جنہوں نے حرم شریف میں پناہ لے رکھی  تھی، مگر اس نے اس کی حرمت کو بھی پامال کردیا، اور ابن الزبیر کو قتل کرڈالاباوجویکہ کہ ابن الزبیر کی اطاعت قبول کرلی گئی تھی اور اور اہل مکہ، مدینہ ویمن کی پوری عوام نےاور عراق کے بہت سے گروپوں نے ان کی بیعت کرلی تھی، اور حجاج امیر مروان کا نائب تھا پھر اس کے بعد اس کے بیٹے عبدالملک کا([1])۔ حالانکہ کسی بھی خلیفہ نے مروان کو نامزد نہیں کیا تھا اور نہ ہی اہل حل وعقد نے اس کی بیعت کی تھی لیکن اس کے باوجود کسی بھی عالم نے اس کی اطاعت سے اور ارکان اسلام واس کے واجبات میں سے جس میں فرمانبرداری کی جاتی ہے فرمانبرداری کرنے سے توقف نہیں فرمایا۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جس نے حجاج کا زمانہ پایا ان میں سے کسی نے بھی اس سے تنازعہ نہیں فرمایا، اور ایسے کسی بھی کام میں اس کی فرمانبرداری سے نہیں رکے جس سے اسلام کا قیام اور ایمان کی تکمیل ہوتی ہو۔

اسی طرح سے ان کے زمانے میں جو تابعین تھے جیسے سعید بن المسیب، حسن البصری، ابن سیرین، ابراہیم التیمی اور ان کے جیسی دیگر امت کی قدآور شخصیات۔

امت کے مشہور آئمہ کرام وعلماء عظام کا اس پر عمل جاری وساری رہا کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت، اس کے رسول کی اطاعت، اور فی سبیل اللہ جہاد کا ہر نیک وبد حکمران کے ساتھ حکم کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ یہ بات اصول دین وعقائد کی کتب میں معروف ہے۔

یہی حال بنوعباس کا تھا کہ انہوں نے امت پر غلبہ تلوار کے زور پر حاصل کیا جس میں کسی بھی اہل علم ودین نے ان کی اعانت نہ کی۔ انہوں نے بنو امیہ کے امراء ونوابوں میں سے ایک خلق کثیر اور جم غفیر کو قتل کیا۔ اور ابن ہبیرہ امیر عراق  اورخلیفہ مروان کو بھی قتل کیا۔ یہاں تک کہ نقل کیا جاتاہے کہ سفاح نے بنوامیہ میں سے ایک ہی دن میں اسی افراد کو قتل کیا اور ان کی لاشوں سے فرش کو سجا کر اس پر براجمان ہوا اور اکل وشرب نوش کیا۔

اس کے باوجود آئمہ کرام جیسے الاوزاعی، مالک، الزہری، اللیث بن سعد، عطاء بن ابی رباح وغیرہ کی سیرت ان حکمرانوں کے ساتھ کسی بھی شخص جس کا علم واطلاع میں کچھ حصہ ہو پر مخفی نہیں ۔

پھر اہل علم میں سے طبقۂ ثانیہ کے علماء کرام جیسے احمد بن حنبل، محمد بن اسماعیل، محمد بن ادریس، احمد بن نوح، اسحاق بن راہویہ اور ان کے دیگر ساتھی۔۔۔ان کے دور میں بھی حکمران بڑی عظیم بدعات اور انکار صفات الہی میں مبتلا ہوئے اور اس کی طرف (بالجبر) دعوت بھی دینے لگے، اور اس باطل عقیدے کا لوگوں سے امتحان لینے لگے، اور اس میں جو قتل ہوا سو ہوا جیسے احمد بن نصر وغیرہ لیکن اس کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کسی نے ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا ہو یاان کے خلاف خروج کرنے کی رائے رکھتا ہو۔۔۔‘‘([2]

پس اس بے نظیر کلام پر غور کریں اور انصاف کی آنکھوں سے اسے پرکھیں تو آپ پائيں گے کہ یہ سلف صالحین کے روشن چراغ جو کتاب وسنت اور بغیر افراط وتفریط کے عمومی قواعد ہیں ان ہی سے ماخوذ ہے۔

اور اس باب کے تعلق سے آئمہ دعوت نجدیہ سلفیہ رحمہم اللہ کا بہت سا کلام موجود ہے۔ جس کی کچھ جھلکیاں آپ کتاب ’’الدرر السنیۃ في الاجوبۃ النجدیۃ‘‘ کی ساتویں جلد میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

یہ سب باتیں عقیدے کے اس اصول کے خصوصی اہتمام کی ضرورت کو، غلبۂ جہالت میں اس کو راسخ کرنے کو اور منہج اہل سنت سے منحرف افکارکے افشاء ہونے کی صورت میں اس کی تعلیم وتربیت کو  بھی مؤکد کردیتی ہیں۔

بلاشبہ ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں یہ دو امور یکجا ہوگئے ہیں: ایک تو غلبۂ جہالت ہے اور دوسرا اس بارے میں منحرف افکار کا رواج پانا اور افشاء ہونا ہے۔

پس واجب ہے اہل علم اور ان کے طلاب پر کہ وہ اس میثاق عہد وپیمان کا التزام کریں جو اللہ تعالی نے اپنے اس کلام کے ذریعہ ان سے لیا ہے:

﴿لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ﴾ (آل عمران: 187)

(کہ تم لوگوں کوضرور  کھول کھول کر بیان کردو گے اور کچھ چھپاؤ گے نہیں)

لہذا اس اصول کو لوگوں کے لئے کھول کھول کر واضح طور پر بیان کریں۔ اللہ تعالی سے ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اس عمل کواس کے لئے خالص کرتے ہوئے۔

 


[1] حالانکہ معروف یہی ہےکہ وہ صرف عبدالملک بن مروان کا نائب تھا۔

 

[2] الدرر اللسنیۃ في الاجوبۃ النجدیۃ: 7/177-178۔

April 22, 2017 | الشیخ عبدالسلام بن برجس, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com