menu close menu

غالب آجانے والے حکمران کی بھی اطاعت واجب ہے اور خروج حرام ہے – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

It is obligatory to obey the dominating ruler and forbidden to revolt against him – Shaykh Abdus Salaam bin burjus

غالب آجانے والے حکمران کی بھی اطاعت واجب ہے اور خروج حرام ہے

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ  المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس عقیدے میں فرمایاجو ان سے عبدوس بن مالک العطار نے روایت کیا:

’’۔۔۔ومن غلب عليهم يعني: الولاة – بالسيف حتى صار خليفة، وسمي أمير المؤمنين، فلا يحل لأحد يؤمن بالله واليوم الآخر أن يبيت ولا يراه إماماً، براً كان أو فاجراً ‘‘([1])

(ان حکمرانوں میں سے جو تلوار کے زور پر غالب آگیا یہاں تک کہ وہ خلیفہ بن بیٹھا اور اسے امیر المومنین کہا جانے لگا، تو کسی شخص کے لیے بھی جو اللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے حلال نہیں کہ وہ رات گزارے اس حال میں کہ اسے ہی امام نہ سمجھتا ہو چاہے وہ امام نیک ہو یا بد)۔

امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول سے حجت پکڑی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

’’وأصلي وراء من غلب‘‘([2])

(۔۔۔اور میں ہر اس شخص کےپیچھے نماز پڑھوں گا جو غالب آجائے)۔

اسی طرح سے ابن سعد رحمہ اللہ نے "الطبقات" (4/193 ط دار صادر، بیروت)میں جید سند کے ساتھ عن زید بن اسلم سے روایت کی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمافتنے کے زمانے میں جو بھی امیر وحاکم آتا اس کے پیچھے نماز پڑھتے اور اپنے مال کی زکوۃ بھی اسے ہی دیتے تھے۔

صحیح بخاری (13/193) کتاب الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس (لوگ کس طرح امام کی بیعت کریں)  میں عن عبداللہ بن دینار روایت ہے کہ فرمایا: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے پاس اس وقت حاضر ہواجب لوگ عبدالملک پر مجتمع ہوچکے تھے، فرمایا:

 ’’كتب: أني أقر بالسمع والطاعة لعبد الله عبد الملك أمير المؤمنين، على سنة الله وسنة رسوله ما استطعت، وان بني قد أقروا بمثل ذلك‘‘

 (انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما)نے لکھا: میں عبداللہ عبدالملک امیر المومنین کی سننے اور اطاعت  کرنے کا اقرار کرتا ہوں، اپنی استطاعت بھر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق، اور ساتھ ہی میرے بیٹوں نے بھی یہی اقرار کیا ہے)۔

یہ فرمانا کہ لوگ عبدالملک پر مجتمع ہوچکے تھے سے مراد ابن مروان بن الحکم ہے۔ اور مجتمع ہونے یا اجتماع کرنے سے مراد : اجتماع کلمہ ہے جو کہ اس سے پہلے تفرقے کا شکار تھا۔ اور اس سے پہلے زمین میں دو خلیفہ تھے جو دونوں خلافت کے دعویدار تھے ، اور وہ عبدالملک بن مروان اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے۔

اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااس مدت میں ابن زبیر یا عبدالملک کی بیعت کرنے سے رکے رہے، لیکن جب عبدالملک غالب آگیا اور اس کی حکومت مستحکم ہوگئی تو اسی کی بیعت فرمالی([3])۔

یہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کیا کہ غالب ہونے والے حاکم کی بیعت کرلی اسی مؤقف پر آئمہ کرام تھے بلکہ فقہاء کرام کی طرف سے اس بات پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ پس امام شاطبی رحمہ اللہ کی کتاب "الاعتصام" (3/46 ط مکتبہ التوحید تحقیق الشیخ مشھور آل سلمان) میں ہے:

’’ان يحيى بن يحيى قيل له: البيعة مكروهة ؟ قال: لا. قيل له: فإن كانوا أئمة جور ؟ فقال : قد بايع ابن عمر لعبد الملك بن مروان ،وبالسيف أخذ الملك، أخبرني بذلك مالك عنه، أنه كتب إليه : وأقر لك بالسمع والطاعة على كتاب الله وسنة نبيه محمد صلي الله عليه وسلم قال يحيى بن يحيى: والبيعة خير من الفرقة‘‘

(یحییٰ بن یحییٰ سے کہا گیا کہ بیعت کرنا مکروہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ پھر ان سے کہا گیا: اگرچہ ظالم حکمران ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے عبدالملک بن مروان کی بیعت فرمائی حالانکہ وہ تو تلوار کے زور پر ملک پر غالب ہوا تھا، مجھے یہ بات مالک نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے حوالے سے بتائی ہے کہ انہوں نے اس کی طرف یہ لکھ بھیجا کہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق تمہاری سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں ۔ پھر یحیی بن یحیی نے فرمایا: بیعت کرلینا تفرقہ کرنے سے بہتر ہے)۔

اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے "مناقب الشافعی" (1/448 ط دارالتراث، تحقیق: السید احمد صقر) میں عن حرملۃ سے روایت بیان کی ہے کہ فرمایا:

’’سمعت الشافعي يقول : كل من غلب على الخلافة بالسيف حتى يسمي خليفة، ويجمع الناس عليه، فهو خليفة‘‘

(میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی بھی تلوار کے زور پر غالب آگیا یہاں تک کہ خلیفہ پکارا جانے لگا، اور لوگ اس پر مجتمع ہوگئے تو وہی خلیفہ ہے)۔

اس بات پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری 13/7 میں اجماع نقل فرماتے ہوئے فرمایا:

 ’’وقد أجمع الفقهاء على وجوب طاعة السلطان المتغلب والجهاد معه، وأن طاعته خير من الخروج عليه لما في ذلك من حقن الدماء، وتسكين الدهماء‘‘

(فقہاء کرام کا غالب ہوجانے والے سلطان (حاکم) کی اطاعت کے واجب ہونےاور اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنے  کے بارے میں اجماع ہے، اور یہ کہ اس کی اطاعت اس پر خروج کرنے سے بہتر ہے، کیونکہ خروج کی وجہ سے خون بہتا ہے، اور بلوائیوں کو دنگا فساد کرنے کا موقع ملتا ہے)۔

اس بارے میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے بھی اجماع نقل فرماتے ہوئے فرمایا:

 ’’الأئمة مجموعون من كل مذهب على أن من تغلب على بلد – أو بلدان – له حكم الإمام في جميع الأشياء‘‘([4])

(ہر مذہب کے آئمہ کرام  اس بات پر متفق ہیں کہ جو کوئی بھی کسی ایک یا اس سے زائد ممالک پر غالب آجائے تو تمام چیزوں کے بارے میں اس کا حکم امام کا ہوتا ہے۔۔۔)۔

اور شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن بن حسن آل الشیخ رحمہم اللہ نے فرمایا:

’’وأهل العلم …. متفقون على طاعة من تغلب عليهم في المعروف، يرون نفوذ أحكامه، وصحة إمامته، لا يختلف في ذلك اثنان، ويرون المنع من الخروج عليهم بالسيف وتفريق الأمة، وإن كان الأئمة فسقة ما لم يروا كفراً بواحاً ونصوصهم في ذلك موجودة عن الأئمة الأربعة وغيرهم وأمثالهم ونظرائهم‘‘([5])

(اہل علم کا طاقت کے بل بوتے پر غالب آجانے والے حاکم کی معروف میں اطاعت کے واجب ہونے کے بارے میں اتفاق ہے ، وہ اس کے احکام کے نافذ ہونےاور امامت کے صحیح ہونےکے ایسے قائل ہیں کہ اس بارے میں کسی دو میں بھی اختلاف نہیں، ساتھ ہی اس کے خلاف تلوار سے مسلح خروج سے اور امت میں تفرقہ مچانے سے منع کرنے کے قائل ہیں، اگرچہ یہ حکمران فاسق ہوں، جب تک کھلم کھلا کفر نہ کریں (خروج جائز نہیں)۔ اور اس بارے میں ان کے پاس آئمہ اربعہ اور ان جیسے دوسرے آئمہ کرام کے نصوص (دلائل) موجود ہیں)۔

 


[1] "الاحکام السلطانیۃ" لابی یعلی ص 23، ط الفقی، دیکھیں عقیدے پر یہ مکمل رسالہ "طبقات الحنابلۃ" لابن ابی یعلی 1/241-242 میں۔

 

 

 

[2] اسے القاضی نے "الاحکام السلطانیۃ" ص 23 میں ابی الحارث عن احمد کی روایت سے بیان کیا۔

 

 

 

[3] دیکھیں فتح الباری 13/194۔

 

 

 

[4] الدرر السنیۃ فی الاجوبۃ النجدیۃ  7/239۔

 

 

 

[5] مجموعۃ الرسائل والمسائل النجدیۃ  3/168۔

 

 

 

July 28, 2018 | الشیخ عبدالسلام بن برجس, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com