menu close menu

علماء کرام کے قیام ِجمعیات کے جواز وعدم جواز کے اقوال میں مطابقت – شیخ ابو عبدالأعلى خالد بن محمد عثمان المصري

Reconciling between the speeches of 'Ulamaa about permissibility or impermissibility of forming Jamiats (orgs) – Shaykh Aboo Abdul 'Aalaa Khaalid Al-Misree

علماء کرام کے قیام ِجمعیات کے جواز وعدم جواز کے اقوال میں مطابقت   

فضیلۃ الشیخ ابو عبدالأعلى خالد بن محمد عثمان المصري حفظہ اللہ

(شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کے مشہور تلامیذ میں سے مصر کے سلفی محقق ومصنف)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مفاسد ومخاطر الجمعیات الدعویۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ کے مقالے ’’مفاسد ومخاطر الجمعیات الدعویۃ‘‘ (دینی دعوتی جمعیت کے مفاسد وخطرات) کے مقدمے میں فرماتے ہیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ واصحابہ، اما بعد:

امت کا گروہوں، احزاب اور فرقوں میں تقسیم ہوجانا کتاب وسنت کی نص اور اجماع علماء امت کے مطابق حرام ہے۔ لیکن اللہ تعالی کی کونی مشیئت وتقدیر واقع ہوکر رہتی ہے اور امت میں تفرقہ ہوا اور اس نے منہج حق پر مجتمع رہنے کے امر الہی کی مخالفت کی۔ پس ہر ایک حزب نے اپنا ایک خاص منہج بنالیا جس کے ذریعے سے وہ اس منہج نبوی سے جدا ہوگئے جس کے حامل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ اور ہر حزب اپنی منہج کے بارے میں مغرور ومگن ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے:

﴿فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا  ۭ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ﴾ (المؤمنون: 53)

(پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اِترا رہا ہے)

اور حزبیت کی ایک شکل جو زمانۂ قریب میں پیدا ہوئی ہے یہ سیاسی بدعی احزاب ہیں کہ جنہوں نے دین کو حکومت وصدارت حاصل کرنے جیسےاغراض ولالچ کے لیے اپنی سواری بنایا ہوا ہے۔

اسی وجہ سے علماء ربانی ان موجودہ احزاب کی جانب نسبت کی تحریم اور ان کے فاسد مناہج سے خبردار کرنے پر متفق ہيں جو قدیم بدعتی فرقوں کے اصولوں پر مبنی ہیں اور اب تک چل رہے ہیں۔

اور جب شیاطین الانس والجن نے منہج نبوت پر سلفیوں کے کلمے کو مجتمع دیکھا اور دیکھا کہ وہ ان احزاب کو خاطر میں نہیں لاتے۔ تو اس اجتماع کو توڑنے کے لیے کمر کس لی اور اسے تفرقے کی ایک نئی ومزین صورت دے دی۔ لیکن اسے دعوتی مصلحت کا لباس پہنا دیا گیا اور اس صورت کودعوتی جمعیات کا نام دے دیا۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب ہم دیکھتے ہيں کہ مصر میں تقریباً تین سال ہوئے جمعیت اہلحدیث والاثر قائم ہوئی۔ جو دروہ، المنوفیہ میں محمود الدروی (وفقہ اللہ) نے قائم کی۔ پھر اس کے پیچھے قریب سال کے اندر اس کی شاخ طرۃ البلد، قاہرہ میں بھی قائم ہوگئی۔

اور جب الدروی نے مجھ سے مشاورت کی اس جمعیت کو قائم کرنے کے تعلق سے تو میں نے بس سرسری طور پر دیکھتے ہوئے ظاہر رائے میں اس کی موافقت کردی۔ تاکہ یہ جمعیت انصار السنۃ کی اچھی جانشین بن جائے جسے علامہ محمد حامد الفقی رحمہ اللہ نے منہج سلف صالحین کے مطابق قائم کیا تھا۔ اور اس لیے بھی کہ مدارس حدیث کے لیے ایک سنگ بنیاد بن جائےجن کا جال پورے مصر کے طول وعرض میں پھیل جائے جیسا کہ یمن میں مدارس حدیث بنے تھے، جن کا سنگ بنیاد علامہ محدث مقبل بن ہادی رحمہ اللہ نے رکھا تھا۔ یا جیسے مدارس حدیث ہندوستان میں بھر گئے تھے۔ اور جن سے علماء کرام کی ایک عظیم جماعت فارغ ہوئی تھی۔ اور یہ جمعیت باقاعدہ قانونی طور پر سلفی دعوت کی مصر میں تنظیم ہو جسے حکمران بھی مانتے ہوں۔ اور اس کے ذریعے اہل علم اور طالبعلم اپنے دروس اور دعوت وسیع تر پیمانے پر مصر کے گوشے گوشے میں بنا کسی رکاوٹ کے نشر کرسکیں۔

لہذا میرا اس جمعیت کے قیام کی ترغیب دینا ان باتوں کو مدنظر رکھنے کی وجہ سے تھا: علم، تعلیم اور دعوت۔ اور راسخین طالبعلم کے اخراج کا ہدف کہ شاید اللہ تعالی ان میں سے کسی پر فضل فرمائے اور وہ عالم ربانی بن جائے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالی اس ملک کی حالت بدل دے۔ او ر اسے مظاہر شرک، وثنیت، بدعات ومحدثات سے پاک کردے۔ میرا اس جمعیت کا اقرار کرنا اس تحذیر (وارننگ) کے ساتھ مقید تھا کہ حزبیت میں نہیں پڑنا ہے، اور ایسے مشکوک معاملات میں نہیں پھسل جانا جو اس قسم کی جمعیات عام طور پر کرتی ہیں، اگرچہ وہ مصری قانون  کے مطابق جو کہ انہیں منظم کرتا جمعیت ہی کہلاتی ہے۔ لیکن میں اس مشہور ہیت وصورت میں جو ان دعوتی جمعیتوں کی ہے کہ جو کفالت یتامیٰ وغیرہ کے لیے چندہ جمع کرتی ہیں اقرار ی نہیں۔ بلکہ میرے تصور میں حدیث کا مدرسہ تھا جیسا کہ دماج میں علامہ مقبل بن ہادی رحمہ اللہ نے قائم کیاتھے۔

اور میں یہ بھی تاکید کے ساتھ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں اس جمعیت کو بنانے والا نہیں اور نہ ہی کسی بھی طور پر ان کی منتظمین میں شامل ہوں۔ میں نے تو بس اس جمعیت کا لوگو(مونوگرام) اپنی بعض مطبوعات پر شائع کردیا تھا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور سلفی دعوت کو تقویت ملے جسے یہ جمعیت بیان کرتی ہے برخلاف حزبی دعوتوں کے جو سلفی منہج کے خلاف جنگ کرتی ہیں۔

اسی طرح سے میرا اس مسجد میں درس دینا جسے ہم نے مسجد اہلحدیث والاثر کا نام دیا تھا اسی باب میں سےتھا۔ جمعیت کی اس مسجد کے یا میرے دروس کے تعلق سے کوئی خاص وصیت نہیں تھی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب جمعیت تحلیل ہوگئی تو بھی میرے دروس اس مسجد میں اسی طرح جاری وساری رہے جیسے پہلے تھے جمعیت کا تحلیل ہونا اس پر کچھ اثرانداز نہ ہوا اور نہ ہی کچھ کمی ہوئی۔

اور میں یہ بھی واضح کرنا پسند کروں گا کہ شیخ عبدالرحمن بن محیی الدین حفظہ اللہ (سابق استاذ الحدیث، جامعہ اسلامیہ) کا بھی اس جمعیت کی تعریف کرنا اسی باب میں سے تھا جس کے سبب سے میں نے بھی بھائیوں کے لیے اس کی قیام کا اقرار وتائید کی۔ جو یہی تھا کہ یہ ایک حدیث واثر کا مدرسہ ہو جو کتاب وسنت کی فہم سلف امت کے مطابق تعلیم پر قائم ہو۔ اور اس منہج کی جانب دعوت دے، اور اسے ہر جگہ پھیلادے۔ ناکہ دعوتی، فلاحی وخدمت خلق کی جمعیت ہو کہ جو اس جمہوری نظام کے تابع ہو۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جمعیت کی اس چھوٹی سی عمر میں بھی میں ہمیشہ اپنے بھائیوں کو جو جمعیت کے قائمین تھے اپنے راستے کو ٹھیک ٹھیک چلانے کی نصیحت کرتا رہتا تھا اور ہر اس دروازے کو بند کردینے کی نصیحت کرتا تھا جو کہ جمعیت کے اس اصل وواضح ہدف سے انحراف کا سبب بن سکتا ہوجو ہم نے ابھی بیان کیا۔

لیکن میں جس غلطی میں مبتلا ہوا وہ اس جمعیت کے اقرار میں جلدبازی تھی کہ میں نے اپنے آپ کو کافی وقت نہیں دیا کہ میں اس مسئلہ جمعیات کے قیام کے تعلق سے کچھ سوچ وبچار کرتا جو کہ ہم نے اس مقدمے کے شروع میں بیان کیا ساتھ میں اکابر اہل علم کے دلائل کا مطالعہ کہ جو اسے جائز کہتے ہیں اور جو منع کرتے ہیں۔

جان لو (اللہ تمہیں فہم وفراست دے) جن علماء نے دعوتی جمعیات قائم کرنے کی اجازت دی بھی ہے تو وہ ضوابط وقیود کے ساتھ دی ہے ناکہ مطلقاً۔ اور جن علماء نے ان جمعیات کے قیام کی شروع سے ہی مخالفت کی ہے انہوں نے بہت سے ایسے مفاسد وشرعی مخالفت کی وجہ سے اس سے منع فرمایا جو عام طور پر غالب احوال میں جمعیت سے جدا نہیں ہوسکتے چاہے کوئی بھی دعوتی جمعیت ہو۔ پس اس موضوع کے محتاط مطالعہ کے بعد کہ جس کا لب لباب میں نے اس تحقیق میں پیش کیا ہے مجھ پر یہ واضح ہوا کہ جن علماء نے اجازت دی ہے اور جنہوں نے منع کیا ہے ان کے فتاویٰ میں کوئی تعارض نہیں جو کہ عنقریب ہر منصف شخص جو اہوا پرستی کا شکار نہیں پر ظاہر ہوجائے گا۔ کیونکہ جنہوں نے اجازت دی ہے جیسا کہ بیان ہوا بعض معین ضوابط کے تحت اجازت دی ہے جن کی غالباً یہ جمعیات پابندی نہیں کرتیں۔ اور جنہوں نے منع کیا ہے تو اس کے ان ظاہر مفاسد کی وجہ سے منع کیا ہےجو ان جمعیات سے کبھی جدا ہونہیں سکتے۔

چناچہ جو شرعی دلائل پر غور کرے گا اور ان جمعیات کی حالت دیکھے گا تو وہ مکمل طور پر اس کا ادراک کرلے گا کہ ان جمعیات کی غالب اکثریت جنہوں نے اسے جائز کہنے والے علماء کے فتاویٰ کا سہارا لیا ہے ان ضوابط کی پابندی نہيں کرتیں جن کے ذریعے ان علماء نے اس کے جواز کو مقید فرمایا ہے۔ اسی طرح سے بعض ان مفاسد اور شرعی مخالفتوں میں بھی ضرور مبتلا ہیں جن سے جمعیت بنانے کے مخالفین علماء نےخبردار کیا ہے۔ اس لیے اس مسئلے میں ان کے لیے نہ کوئی زمین بچی نہ کوئی کھیتی اگی([1])۔ اور حق بات کی تحقیق کرنے والا جو اہوا پرستی کا شکار نہ ہو تو وہ یہ جانتا ہے کہ جرح مفسر (مکمل، مدلل، مفصل وواضح رد) تعدیل مجمل(محض عمومی اور ظاہری تعریف وتصحیح)  پر مقدم ہوتی ہے، اسی طرح سے حاظر (جس چیز سے منع کیا گیا ہے) مبیح (جو چیز مباح ہے) پر مقدم ہوتا ہے۔

اگر ہم بطور جدل یہ مان بھی لیں کہ بعض ایسے اہل علم ہيں جنہوں نے بناکسی ضوابط وقیود کے ان جمعیات کے قائم کرنے کی مطلقاً اجازت دی بھی ہے پھر دوسرے علماء آتےہیں اور اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ظاہر مفاسد ومحرمات کو بیان کرتے ہیں تو ہم کسے مقدم کریں گےحاظر وجارح جو جرح مفسر کرتا ہے یا مبیح جو کہ مجمل سی تعدیل کرتا ہے؟!

بلاشبہ حاظر کو مقدم کیا جائے گا کیونکہ اس کے پاس اس چیز کے بارے میں زیادہ علم ہے جسے لینا  اور لاپرواہی نہ برتنا ضروری ہے۔ اور عنقریب اے منصف قاری آپ پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ جب میں نے بعض یہ مفاسد ومحرمات ان اہل علم پر پیش کیے جو اس کی اجازت دیتے ہيں تو ان کے فتاویٰ بھی منع کرنے والوں کے فتاویٰ کے موافق ہوگئے۔

اور یہ بات بھی عنقریب آپ پر ظاہر ہوگی کہ یہ جمعیات جو بنتی ہیں اس وضعی قانون کے تابع ہوتی ہیں جو کہ جمہوری نظام کے مطابق چلتی ہیں کہ جن کے مفاسد سے بچنا بہت مشکل ہے۔ بلکہ علمی زاویے سے تو بعض سے بچنا مستحیل ہے([2])۔ کیونکہ ان مفاسد میں سے بعض تو جمعیات کے ذاتی مفاسد ہوتے ہیں جو اس سےکسی طور جدا نہیں ہوسکتے۔ اسی لیے میں تاکید کے ساتھ یہ کہوں گا میں اللہ تعالی کے سامنے اپنے آپ کو حزبیت سے بری کرتا ہوں اور ان حزبی جمعیات سے بری ہو۔ اور سب یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ جمعیت اہلحدیث کی تحلیل ہوئے ایک ماہ ہوچکا ہے کیونکہ ایسی علامات ظاہر ہونے لگیں جو کہ غیرتسلی بخش تھیں جن کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے۔ پس میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا تھا کہ وہ ضرور ہمارے شیخ علامہ ربیع بن ہادی حفظہ اللہ سے اس بارے میں نصیحت حاصل کرنے کے لیے رجوع کریں۔ اور واقعتاً انہوں نے میری موجودگی میں ان سے رابطہ کیا اور شیخ نے میرا سینہ ٹھنڈا کردیا بھائیوں کو اسی بات کی تاکید کرکے کہ جس نتیجے پر میں پہنچا تھا اور ان جمعیات کے خطرے اور مفاسد کو مدنظر رکھ کراس جمعیت کی تحلیل کردی تھی۔ اس مقالہ میں میں نے شیخ کی نصیحت مکمل شامل کردی ہے([3])۔ اور ہمارے بھائی محمود الدروی (جزاہ اللہ خیرا) حق کی جانب بہت جلد پلٹنے والے ثابت ہوئے۔ اور علامہ ربیع حفظہ اللہ سے رابطے کے فورا ًبعد اس جمعیت کے خاتمے کے لیے سرگرم ہوگئے۔

کتبہ:  ابو عبدالاعلی خالد بن محمد بن عثمان المصری([4])

ابتداء شوال 1429 اور اتنہاء تنقیح واضافہ جات کے بعد ربیع الثانی 1430۔

 


[1] خود شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ سے نے باقاعدہ چیلنج دیا کہ آج کوئی جمعیت ہوجو صحیح سلفی منہج پر قائم ہومجھے نام بتاؤ۔۔۔

یہ سوال شیخ ربیع حفظہ اللہ سے لیبیا سے کیا گیا:

شیخ احسن اللہ الیک اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے ان جمعیات کے تعلق سے سوال ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آجکل دعوت بہت پھیل رہی ہے۔۔۔بعض نوجوانوں نے بعض طالبعلموں سے رابطہ کرکے ان سے جمعیات قائم کرنے کے جواز کے بارے میں فتاویٰ حاصل کیے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان سے خبردار کرنے کے بارے میں کچھ فرمائیں اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے؟

جواب: ہم نے یہ بات پہلے بھی واضح کی ہے کہ جو بھی جمعیت سلفیت (اہلحدیثیت) کے نام سے بنتی ہے اس کا آخر انجام بربادی ہوتا ہے اور سعادت مند وہی شخص ہے جو دوسروں کو دیکھ کر عبرت پکڑے،بار ک اللہ فیک۔ ساری دنیا میں جتنی جمعیات ہیں جیسے سوڈان میں جمعیت انصار السنۃ، اور ایک دوسری جمعیت اورمصر کی جمعیات سب تباہ وبرباد ہوگئیں۔ علم بھلا دیا گیا اور ان کا تمام سروکار محض دنیا اور سیاست بن کر رہ گیا، بارک اللہ فیک۔ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے لیے خالص رکھ کر ان چیزوں سے بچو۔

اللہ کی قسم یہ بات مجرب ہے : میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ کسی بھی جمعیت کا نام لو جو آج سلفی منہج پر ثابت قدم ہو۔ ان جمعیات کے اہداف ومقاصد دنیاوی وسیاسی ہی ہوتے ہیں اگرچہ وہ تلبیس کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے اسے دین کا لبادہ ہی کیوں نہ اوڑھاتے ہوں۔

(لقاء طلبۃ العلم من مدینۃ مصراتۃ مع مشائخ المملکۃ حفظہم اللہ، اور یہ ریکارڈشدہ ہے) (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] جیسا کہ جمہوری نظام میں صرف ایک جمعیت یا جماعۃ واحدۃ کے قیام کی اجازت نہيں ہوتی بلکہ جتنی چاہے جمعیات قائم کرتے رہیں اور تفرقہ کرتے رہیں اجازت ہوتی ہے، اور پہلے قائم شدہ جمعیت دوسروں کو تفرقہ باز وحزبیت کا شکار گردانتی ہيں، اور اپنے سے الگ تنظیم وجماعت بنانا حرام قرار دیتی ہے، مگر جمہوری طور پر جیسے پہلی تنظیم وجمعیت کو اجازت تھی دوسروں کو بھی اسی طرح اجازت ہوتی ہے، لہذا شرعی طور پر مذموم ہونے کے باوجود اس پر تنقید بےجا اور اس سے روکنا بے سود ثابت ہوتا ہے، اور جمہوری طور پر یہ بالکل جائز ہوتا ہے۔ لہذا شریعت، سنت وسلفیت کے اہم ترین تقاضے اجتماع اور عدم تفرقے پر عمل ممکن نہيں رہتا۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[3] جو ہماری ویب سائٹ پر ٹیلی فونک مکالمے کی صورت میں ترجمہ شدہ بعنوان ’’کیا جمعیت اہلحدیث کے قیام کے بعد اسے ختم کیا جاسکتا ہے؟‘‘ موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[4] بلکہ اسی قسم کی بات شیخ اسامہ بن عطایا العتیبی حفظہ اللہ نے بھی ذکر فرمائی کہ: میں چاہتا ہوں کہ ایک اہم بات ذکر کروں جو جمعیات کے تعلق سے میں نے اپنے شیخ علامہ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ سے رابطہ کرکے کی تھی۔ اور یہ ٹیلی فونک گفتگو ہفتہ واتوار کی درمیانی شب کو ہوئی۔جس میں شیخ نے مجھ سے ان جمعیت کے متعلق بات کی اور آپ حفظہ اللہ نے واضح فرمایا کہ میرا فتویٰ ان جمعیات سے مطلقاً منع کرنے کا ہے۔ جس کا سبب اس میں پنہاں بہت سے مفاسد ہیں یا ان کی طرف لے جانے والی باتیں ہیں۔ کتنی ہی جمعیات ہیں کہ جو اپنی ابتداء کے وقت سلفی تھیں پھر اس کا انجام کار حزبیت وبدعت ہوگیا۔ اور شیخ اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ان کے دروس، دورے اور علمی مجالس وملاقات مساجد میں ہوں۔ اور اگر مساجد میں دروس دینا ممکن نہ ہو تو پھر اپنے گھروں میں اس کا اہتمام کریں۔

ہمارے شیخ حفظہ اللہ اس بات کو بیان کرنے کی حرص رکھتے تھے خصوصاً جو کچھ بعض اہل بدعت نےپروپیگنڈہ پھیلا رکھا ہے جیسے علی حسن الحلبی کے پیروکار وغیرہ نے ہمارے شیخ حفظہ اللہ پر تناقض کااتہام لگایا ہے۔ اور یہ شیخ پر کذب وافتراء ہے۔ کیونکہ ایک عالم کسی بات میں ایک فتویٰ دیتا ہے پھر بعد ازیں اس پر واضح ہوتا ہے کہ صواب اس کے برخلاف ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے بہت سے اقوال تبدیل کرلیے تھے جب وہ اپنی وفات سے پہلے مصر میں ٹھہرے۔ جس کے وجہ سے ان کے دو معروف مذہب بن گئے: قدیم اور جدید۔ کسی بھی عالم نے امام شافعی رحمہ اللہ پر تناقض کی تہمت نہیں لگائی۔ اسی طرح سے امام مالک واحمد رحمہما اللہ ان سے ایک ہی مسئلے میں کئی ایک روایات ملتی ہیں جسے کوئی بھی عاقل تناقض میں شمار نہیں کرتا جیسا کہ ویب سائٹ کل السلفیین کا گمان ہے۔ اللہ تعالی ہمارے شیخ ربیع اور تمام مشایخ سنت کی حفاظت فرمائے، اور انہیں ہر برائی سے محفوظ رکھے، اور مکروفریب کرنے والے کا مکر انہی کے گلے میں ڈال دے، اور مسلمانوں کو ان کے شر سے بچائے۔ واللہ اعلم۔ وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد۔ کتبہ: اسامہ بن عطایا العتیبی 24/1/1433ھ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

October 25, 2016 | شیخ ابو عبدالاعلی خالد المصری, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com