menu close menu

عرب و برصغیر کے بعض علماء کرام کا تذکرہ – شیخ محمد ناصر الدین البانی

Acknowledgment of few scholars from Arab and subcontinent – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

عرب و برصغیر کے بعض علماء کرام کا تذکرہ   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی  رحمہ اللہ

(محدث دیار شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلة الهدى والنور 301۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:اس زمانے میں علماء، فقہاء و مجتہدین میں سے آپ کن کو جانتے ہیں؟

جواب: میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ شیخ ابن باز (اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کے ذریعے مسلمانوں کو نفع پہنچائے)([1]) بہت سے مسائل میں اجتہاد کرتے ہيں، اگرچہ ہم جانتے ہيں کہ وہ حنبلی المذہب ہیں اور کسی بھی مذہب کے پڑھنے والی کی طبیعت کچھ یوں ہوتی ہے کہ جب وہ اسی پر تربیت پاتا ہے، پھر وہ متنبہ ہوتا ہے بعض ایسے مسائل کے موجود ہونے پر کہ جو شرعی دلائل کے مخالف ہوتے ہيں، لیکن اس کا یہ متنبہ ہونا ایک عرصے کے بعد ہوتا ہے، لہذا اس سبب سے یعنی دلیل کی اتباع کرتے ہوئے اس کی اس تنبیہ یا مذہب کی مخالفت   کرلینا دو باتوں پر دلالت کرتا ہے:

پہلی بات: کہ وہ اجتہاد کرتا ہے مقلد نہيں۔

دوسری بات: جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا تھا اس اجتہاد کا تناسب بہت کم ہوتا ہے([2])۔

پھر ان کے ساتھ فاضل شیخ ابن عثیمین   کا بھی اضافہ کرلیں، آپ بھی افاضل سعودی علماء میں سے ہيں کہ جن کے بارے میں ہم یہی گمان کرتے ہيں کہ اگر ان کے سامنے  کتاب وسنت سے ثابت شدہ دلائل کے ساتھ حقیقت سامنے آتی ہے تو وہ  اس کی طرف رجوع کرتے ہيں،  بلاشبہ وہ ایسا نہيں کرتے جیسے دوسروں لوگ کرتے ہيں کہ اپنے اس مذہب پر جمود اختیار کرتے ہيں کہ جس پر وہ رہتے آئے ہيں، بلکہ یہ دلیل کی پیروی کرتے ہیں۔

لیکن ان کے تعلق سے بھی اس کا تناسب بہت کم ہوتا ہے۔

یعنی جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ افسوس مجھے اتنوں کا معلوم نہیں (یعنی مجتہدین کا) یا تو جن کے بارے میں سوال کیا گیا (یعنی مجتہدین علماء) ان کے قلت وجود کی وجہ سے  یا میرے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے یا پھر میرے تنگ علمی دائرے کی  وجہ سے کہ اس قسم کی شخصیات کا وجود ملک کے اکناف و اطراف میں ہو۔لہذا میں اپنے حافظے کو کمزور پاتا ہوں کہ ان دو فاضل شخصیات جیسی  کوئی دیگر مثالیں یا نمونے پیش کروں۔

البتہ میں یہ یقین رکھتا ہوں جیسا کہ آجکل کہا جاتا ہے کہ ایک علمی بیداری کی لہر اٹھی ہے کہ جو اس بات کی جانب رہنمائی کرتی ہے کہ ہمیں ضرور کتاب وسنت اور جس چیز پر سلف صالحین تھے کے  شرعی دلائل  کی جانب رجوع کرنا چاہیے اور کسی مذہب پر جمود اختیار نہيں کرنا چاہیے۔لہذا ان جیسے  بہت سے نمونے   بہت سے اسلامی ممالک میں پائے جاتے ہيں سعودی میں، کویت، امارات میں اور خاص کر پاک و ہندمیں، اگرچہ وہ اتنے مشہور نہ بھی ہوئے ہوں یعنی ان میں سے وہ علمی شعبے میں مستقل طور پر ظاہر نہ ہوئے ہوں۔ لیکن بلاشبہ پاکستان میں اور ہندوستان کے مسلم علاقوں میں ایک بڑی جماعت یا گروہ پایا جاتا ہے جو علماء حدیث کہلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے درحقیقت ان ممالک میں عمل بالحدیث کے منہج کو نشر کیا، بلکہ کبھی تو ان کی دعوت دیگر اسلامی ممالک تک سرایت کرگئی۔ چناچہ انہوں نے عمل بالحدیث اور مذاہب کی عدم تقلید  کو نشر کیا خصوصاً ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں غالب ترین مذہب یعنی مذہب حنفی (کی عدم تقلید)۔لہذا ان ممالک میں ایک مستقل مذہب  مذہب اہل حدیث بن گیا۔ اور اس جماعت کو مذہب اہل حدیث کہاگیا۔

لیکن ہم اس زمانے میں ان (اہل حدیثوں) میں ایسے علماء نہيں جانتے کہ جن کی جانب انگلیوں سے اشارہ کیا جائے کہ وہ خود محنت و اجتہاد کرتے ہیں اور (اور اپنے سے پہلوں کی) تقلید نہيں کرتے۔ البتہ ہم بعض ایسے علمی آثار پاتے ہیں کہ جو ان علماء اہل حدیث میں سے بعض چھوڑ گئے  ہيں کہ  ان کے یہ آثار اس بات پر دلالت کناں ہیں کہ وہ ایک بلند علمی درجے پر تھے اور تقلید سے دور تھے۔ مثال کے طور پر شمس الدین، کیا نام تھا؟

سائل: عبدالحق آبادی۔

شیخ: عبدالحق آبادی(شیخ کی مراد صاحب عون المعبود شرح سنن ابی داود شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ ہیں)  اور تحفہ الاحوذی (شرح جامع الترمذی) والے (یعنی شیخ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ) اور ان کے علاوہ دیگر لوگ۔ یعنی ان کے بارے میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ کتاب وسنت پر عمل کرنے کے منہج کو نشر کرنے  اور مذہب کی اتباع سے روکنے میں ان کے احسانات ہیں۔ یا جیسا میں نے شاعر کا قول ذکر کیا کہ:

وكانوا إذا عدوا قليلا فصاروا اليوم أقل من القليل

(جب انہيں گننے پر آئیں تو قلیل نکلتے ہيں اور آج تو یہ اقل القلیل ہوگئے ہیں)۔

افسوس ہے کہ  اصول العلم  اور مختلف اقوال میں ترجیح دینے سے جہالت کی بنا پر آج بعض ایسے بھی پھیل گئے ہيں جنہيں  الفقهاء بالتلفيق (یعنی جو مختلف مذاہب کی صرف آسانیوں اور رخصتوں کو لیتے ہیں) کہا جاتا ہے۔ پس آپ بہت سے مشہور علماء کو پائيں گے خصوصاً مصر کے علاقوں میں کہ جو کسی مذہب کی پابندی نہيں کرتے لیکن افسوس کہ وہ کسی مذہب کی پابندی اپنی اہواء وخواہش پرستی کی وجہ سے نہيں کرتے ناکہ کسی ایسی دلیل کی اتباع یا اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے کی وجہ سے جو انہیں ان کے مذہب کی مخالفت پر مجبور کرتی ہو۔

اسی کیسٹ میں شیخ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

سائل: شیخنا کیا آپ کی شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ ([3])سے کوئی علمی یا عام ملاقات ہوئی ہے؟

شیخ: ہم ان کی زیارت سے مشرف ہوئے جبکہ ہم مکہ میں اپنے سسر دکتور رضا نعسان کے یہاں تھے۔ میرے خیال سے کسی حج وعمرے میں ہماری ملاقات رہی۔

سائل: کیا اس کے علاوہ بھی آپ کبھی ان سے ملے؟

الشیخ : واللہ! مجھے تو اس دفعہ کے علاوہ یاد نہيں۔

سائل: مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ عنیزہ وبریدہ (یعنی شیخ عثیمین رحمہ اللہ کے علاقے) کی طرف سے کسی زمانے میں گزرے تھے۔۔۔

شیخ: یہ بات تو صحیح ہے، لیکن میرا نہيں خیال کہ میں ان سے ملا تھا۔

سائل: شاید کہ آپ نے ان کے گھر پر قہوہ پیا تھا؟

شیخ: مجھے یہ یاد نہيں، کیا انہوں نے بالکل واضح طور پرایسا کہا؟

سائل: ہاں انہوں نے ایسا ہی کہا، اور یہ بھی کہا کہ آپ کے ساتھ زہیر الشاویش تھے۔

شیخ: ہاں میں نے کہا ناں آپ کو کہ میں ان علاقوں سے گزرا تھا اور واقعی زہیر الشاویش کے ساتھ ہی گزرا تھا، لیکن شاید  ان دنوں شیخ کے بارے میں مجھے اتنا علم نہيں تھا جتنا ان کی لائق شان ہے، بہرحال میری یادداشت میں یہ نہیں، برخلاف اس ملاقات کے جو یہاں ہوئی (جس کا میں نے پہلے ذکر کیا)۔ تو مجھے وہ اچھی طرح سے یاد ہے، اور آپ کے ساتھ بعض طلبہ بھی تھے اور ان میں سے ایک نے مجھ سے علم الحدیث و المصطلح سے متعلق سوال کیا۔

اور درحقیقت میں شیخ کے طریقۂ کار اور جب کبھی ان کو موقع ملے  ادب و سہولت کے ساتھ  تقلید سے نکل جانے سے بہت متاثر ہوا، وہ تقلید کہ جس نے ہر ملک میں علماء کی بڑی اکثریت کو زنگ آلود کررکھا ہے۔

 


[1] اس وقت شیخ حیات تھے رحمہ اللہ۔ (توحیدخالص ڈاٹ کام)

[2] شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا اس بارے میں کلام جاننے کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر مقالہ "آپ کا فقہی مذہب کیا ہے؟" از شیخ ابن باز رحمہ اللہ ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[3] اس وقت آپ حیات تھے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

January 3, 2018 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, سلف صالحین, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com