menu close menu

ظالم مسلمان حکمران کے فسق کی وجہ سے اس کی بیعت وحکومت منسوخ نہیں ہوتی – شیخ عبدالسلام بن برجس

The rulership and pledge of allegiance to a Muslim ruler cannot be abrogated or dissolved due to his oppression and Fisq – Shaykh Abdus Salam bin Burjus

ظالم مسلمان حکمران کے فسق کی وجہ سے اس کی بیعت وحکومت منسوخ نہیں ہوتی

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

امام حسن بن علی البربہاری رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’شرح السنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’من ولي الخلافة بإجماع الناس عليه ورضاهم به، فهو أمير المؤمنين، لا يحل لأحد أن يبيت ليلة ولا يرى أن ليس عليه إمام براً كان أو فاجراً … هكذا قال أحمد بن حنبل‘‘

(جو خلافت پر براجمان ہوجائے لوگوں کے اجماع اور ان کی رضا سے تو وہی امیرالمومنین ہے، کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ اس نظریہ کے ساتھ ایک رات بھی گزارے کہ نیک ہو یا بد اس پر کوئی امام وحکمران نہیں۔۔۔ایسا ہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا ہے)۔

اس بات پر صحیح مسلم(ح 1853 ،12/240 – النووي)کی حدیث دلالت کرتی ہے جو کتاب الامارۃ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یزید بن معاویہ کے دور میں جب حرۃ کا واقعہ ہوا عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے  تو عبداللہ بن مطیع نے کہا: ابو عبدالرحمن کے لیے گاؤ تکیہ لگاؤ۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہارے پاس بیٹھنے کے لیے نہیں آیا بلکہ میں تمہیں ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے:

’’مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً‘‘

(جس نے (حکمران کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچا تو وہ اللہ تعالی سے بروزقیامت اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہوگی، اور جو اس حال میں مرا کہ اس کے گلے میں (اس حکمران کی)  بیعت نہ تھی، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی)۔

عبداللہ بن مطیع دراصل ابن الاسود بن حارثہ القرشی العدنی المدنی ہیں۔ ان کے بارے میں ابن حبان رحمہ اللہ ’’الثقات‘‘ 3/219 ط الہند میں فرماتے ہیں:

’’له صحبة ولد في حياة رسول ومات في فتنة ابن الزبير‘‘

(ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کچھ صحبت ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں پیدا ہوئے اور سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے فتنے والے واقعہ میں فوت ہوئے)۔

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’التقریب‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’له رؤية وكان رأس قريش يوم الحرة، وأمره ابن الزبير على الكوفة، ثم قتل معه سنة ثلاث وسبعين‘‘

(انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، یوم حرۃ والے دن وہ قریش کے سردار تھے، انہیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کوفہ پر امیر مقرر فرمایا تھا، پھر وہ انہی کے ساتھ سن 73ھ میں قتل کردیئے گئے)۔

امام ذہبی رحمہ اللہ ’’العبر‘‘ 1/67 میں سن 63ھ کے واقعات کے تحت فرماتے ہیں:

’’كانت وقعة الحرة، وذلك أن أهل المدينة خرجوا على يزيد لقلة دينه فجهز لحربهم جيشاً عليهم مسلم بن عقبة‘‘

(واقعۂ حرۃ رونماہوا، وہ اس طرح کے اہل مدینہ نے یزید کے خلاف اس کی دینی کوتاہیوں کے سبب خروج کیا، پس اس نے ان سے لڑنے کے لیے ایک فوج تیار کی اور ان پر مسلم بن عقبہ کو مقرر کیا)۔

’’تاریخ الخلفاء‘‘ للسیوطي: ص 209، ط محيی الدین عبدالحمید میں ہے:

’’وكان سبب خلع أهل المدينة له أن يزيد أسرف في المعاصي‘‘

(اہل مدینہ کا یزید کی بیعت توڑ دینا اس کی معاصی وگناہوں میں حد سے تجاوز کرنے کے سبب سے تھا)۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ 8/232 ط السعادۃ  میں فرماتے ہیں:

’’ولما خرج أهل المدينة عن طاعته – أي: يزيد -، وولوا عليهم بن مطيع، وابن حنظلة، لم يذكروا عنه – وهم أشد الناس عداوة له – إلا ما ذكروه عنه من شرب الخمر وإتيانه بعض القاذورات… بل قد كان فاسقاً، والفاسق لا يجوز خلعه، لأجل ما يثور بسبب ذلك من الفتنة ووقوع الهرج – كما وقع في زمن الحرة – وقد كان عبد الله بن عمر بن الخطاب وجماعات أهل بيت النبوة ممن لم ينقض العهد، لا بايع أحد بعد بيعته ليزيد كما قال الإمام أحمد: حدثنا إسماعيل ابن علية : حدثني صخر بن جورية، عن نافع قال : لما خلع الناس يزيد بن معاوية جمع ابن عمر بنيه وأهله، ثم تشهد، ثم قال : ((أما بعد، فإننا بايعنا هذا الرجل على بيع الله ورسوله، وأني سمعت رسول الله يقول : ((إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة، يقال : هذا غدرة فلان)). وإن من أعظم الغدر – إلا أن يكون الإشراك بالله – : أن يبايع رجل رجلاً على بيع الله ورسوله، ثم ينكث بيعته فلا يخلعن أحد منكم يزيد ولا يسرفن أحد منكم في هذا الأمر، فيكون الفيصل بيني وبينه. وقد رواه مسلم والترمذي من حديث صخر بن جويرية، قال الترمذي: حسن صحيح‘‘

(جب اہل مدینہ نے یزید کی اطاعت سے خروج اختیار کیا اور اپنے اوپر ابن مطیع وابن حنظلہ کو امیر مقرر کردیا۔ اتنی سخت دشمنی ونفرت کے باوجود بھی وہ یزید کے خلاف سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہتے تھے کہ وہ شراب نوشی اور دیگر گندگیوں میں ملوث ہے۔۔۔بلکہ چاہے وہ فاسق ہی کیوں نہ ہو، فاسق کی بیعت کو گردن سے نکال دینا جائز نہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں بہت فتنہ، فساد وحرج(قتل وغارت) واقع ہوتا ہے جیسا کہ واقعۂ حرۃ کے زمانے میں ہوا۔جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمربن الخطاب رضی اللہ عنہما اور اہل بیت نبوت کی ایک جماعت نے اپنی بیعت کو نہیں توڑااور یزید کی بیعت کے بعد کسی اور کی بیعت نہ کی، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند  8/131-132 اور 8/84، ط الشیخ احمد شاکر فرمایا: ہمیں اسماعیل بن علیۃ نے بیان کیا، کہا مجھے صخر بن جویریہ نے نافع سے بیان کیا، فرمایا: جب لوگوں (اہل مدینہ ) نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر w نے اپنی اولاد اور اہل وعیال کو جمع کیا اور انہیں گواہ بناتے ہوئے فرمایا: امابعد: ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت کی ہے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقرر کردہ بیعت کے موافق، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہر غدار کے لیے بروز قیامت ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی غداری ہے۔ اور سب سے بڑی غداری شرک کے بعد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی بیعت کرے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقررکردہ بیعت کے مطابق مگر پھر اس بیعت کو توڑ دے۔تم میں سے کوئی ہرگز بھی یزید کی بیعت نہ توڑے اور ہرگز بھی کوئی اس معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرےورنہ  یہی میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کن بات بن جائے گی(یعنی پھر میں اس کا حامی نہیں رہوں گا)۔صخر بن جویریہ کی حدیث کو مسلم اور ترمذی نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے)۔

میں یہ کہتا ہوں کہ بالکل یہی قصہ کتاب الفتن صحیح بخاری میں وارد ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری 13/68 فرماتے ہیں:

’’وفي هذا الحديث وجوب طاعة الإمام الذي انعقدت له البيعة، والمنع من الخروج عليه ولو جار في حكمه، وأنه لا ينخلع بالفسق‘‘

(اس حدیث میں دلیل ہے اس امام وحکمران کی اطاعت کے واجب ہونے کی جس کی بعیت ہوچکی ہو اور اس پر خروج کے حرام ہونے کی اگرچہ وہ اپنے فیصلوں میں ظلم ہی کیوں نہ کرتا ہو، مگر اس فسق کی وجہ سے اس کی بیعت منسوخ نہیں ہوگی)۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ولما رجع أهل المدينة من عند يزيد، مشى عبد الله بن مطيع وأصحابه إلي محمد بن الحنفية فأرادوه على خلع يزيد، فأبي عليهم. فقال ابن مطيع : أن يزيد يشرب الخمر، ويترك الصلاة ويتعدى حكم الكتاب. فقال لهم: ما رأيت منه ما تذكرون، وقد حضرته وأقمت عنده، فرأيته مواظباً على الصلاة متحرياً للخير، يسأل عن الفقه، ملازماً للسنة.  فقال: فإن ذلك كان منه تصنعاً لك. فقال : وما الذي خاف مني أو رجا حتى يظهر إلي الخشوع؟! أفأطلعكم على ما تذكرون من شرب الخمر؟  فلئن كان أطلعكم على ذلك: إنكم لشركائه، وإن لم يكن أطلعكم فما يحل لكم أن تشهدوا بما لا تعلموا. قالوا: إنه  عندنا لحق، وإن لم يكن رأيناه. فقال لهم: أبى الله ذلك على أهل الشهادة فقال: ﴿إِلاَّ مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾، ولست من أمركم في شيء. قالوا: فلعلك تكره أن يتولى الأمر غيرك، فنحن نوليك أمرنا۔ قال: ما استحل القتال على ما تريدونني عليه – تابعاً ولا متبوعاً -. قالوا: قد قاتلت مع أبيك – أي: على بن أبي طالب رضی اللہ عنہما؟  قال: جيئوني بمثل أبي أقاتل على مثل ما قاتل عليه. قالوا : فمر أبنيك أبا القاسم والقاسم بالقتال معنا. قال: لو أمرتهما قاتلت. قالوا: فقم معنا مقاماً تحض الناس فيه على القتال معنا. قال: سبحان الله! آمر الناس بما لا أفعله ولا أرضاه إذاً ما نصحت لله في عباده! قال: إذاً نكرهك. قال: إذا آمر الناس بتقوى الله، ولا يرضون المخلوق بسخط الخالق.وخرج إلي مكة‘‘

(جب اہل مدینہ یزید کے پاس سے لوٹےتو عبداللہ بن مطیع اور اس کے ساتھی محمد بن الحنفیہ کے پاس آئے اور چاہا کہ وہ یزید کی بیعت سے ہاتھ کھینچ لے مگر انہوں نے انکار کردیا۔ ابن مطیع نے کہا یزید تو شراب پیتا ہے، نماز چھوڑ دیتا ہے اور کتاب اللہ کے حکم سے سرکشی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا جو کچھ تم بتا رہے ہو میں نے توایسا کچھ نہیں دیکھا ہے ۔ میں اس کے پاس گیا تھا اور اس کے پاس رہا بھی تھا۔ پس میں نے تو اسے نماز کا پابند، نیکی کا حریص، دینی فقہ کے بارے میں سوال کرنے والا اور سنت کو لازم پکڑنے والا پایا ہے۔ انہوں نے کہا:  وہ تو تمہیں دکھلاوے کے لیے ایسا کررہا تھا۔آپ  نے جواب دیا:آخر میری طرف سے اسے کیا خطرہ ہوسکتا ہے یا مجھ سے کیا امید ولالچ ہوسکتی ہے کہ وہ میرے لیے بناوٹی خشوع ظاہر کرے؟! کیا وہ تمہارے سامنے شراب پیتا تھا؟ اگر ایسا ہے تو تم بھی اس کے اس جرم میں شریک ہو اور اگر تمہارے سامنے نہیں پی تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ ایسی بات کی گواہی دو جسے تم جانتے نہیں۔ انہوں نے کہا:  اس کے خلاف یہ سب باتیں ہمارے نزدیک حق وسچ ہیں اگرچہ ہم نے اسے کرتے دیکھا نہیں۔آپ نے کہا: اللہ تعالی تو گواہوں کے حق میں اس بات کو نہیں مانتے ، فرمان باری تعالی ہے:

﴿إِلاَّ مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ الزخرف: 86)

(الا وہ جو حق بات کی گواہی دیں اور انہیں اس کا علم بھی ہو)

لہذا میرا تمہارے کام سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہا: شاید کے آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ ہم آپ کے علاوہ کسی اور کو امیر بنارہے ہیں تو ہم آپ کو امیر بنائے دیتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا: جس چیز کے بارے میں تم مجھے قتال کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہو میں اسے حلال نہیں جانتا خواہ تابع ہوں یا متبوع (امیر) ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ نے اپنے والد یعنی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر بھی تو قتال کیا تھا؟! آپ نے کہا: صحیح ہے تم میرے والد کی طرح کا کوئی لے کر آؤ جن کے ساتھ مل کر میں ایسی اہم بات پر قتال کروں جس پر  انہوں نے کیا تھا۔ پھرانہوں نے کہا: (اگر خود نہیں) تو اپنے بیٹوں ابوالقاسم اور قاسم کو ہمارے ساتھ مل کر قتال کرنے کا حکم دیں۔ آپ نے کہا: اگر انہیں ہی حکم دینا ہوتا تو میں خود قتال نہ کرلیتا۔ انہوں نے کہا: پھر ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر لوگوں کو ہمارے ساتھ مل کر قتال کرنے پر آمادہ کریں اور ابھاریں۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! میں لوگوں کو ایسی بات کا کیسے حکم دے سکتا ہوں جو میں خود نہیں کررہا اور نہ ہی اس سے راضی ہوں! اگر میں نے ایسا کیا تو میں اللہ تعالی کی خاطر اس کے بندوں کی خیرخواہی چاہنے والا تو نہ ہوا۔ انہوں نے کہا:  پھر تو ہم آپ کو پسند نہیں کرتے۔ آپ نے کہا:تو پھر میں بھی لوگوں کو اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ تعالی کی ناراضی مول لے کر مخلوق کو راضی کرنے سے منع کروں گا۔ پھر آپ مکہ کی طرف چلے گئے)۔

November 27, 2016 | الشیخ عبدالسلام بن برجس, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com