menu close menu

شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کا خط – شیخ عبداللہ بن عبدالرحیم البخاری

A letter of Shaykh Badee-ud-Deen Shaah Ar-Rashidee As-Sindee (rahimaullaah) – Shaykh Abdullaah bin Abdur Raheem Al-Bukharee

شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کا خط

فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحیم البخاری حفظہ اللہ

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ السنۃ ومصادرھا، کلیہ الحدیث الشریف و الدسارات الاسلامیہ، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کی ویب سائٹ سے مقالہ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدُ لله ربِّ العالمين والصَّلاة والسَّلام على نبيِّنا محمَّدٍ وآله وصحبه أجمعين، وبعدُ:

اللہ تعالی ہمارے شیخ العلامہ المحدث السلفی بدیع الدین شاہ الراشدی السندی پر وسیع رحمت فرمائے۔بلاشبہ ہمارے شیخ اپنے سنت سے تمسک اور اس کے دفاع کے تعلق سے بہت مشہور ومعروف ہيں، اور آپ کے متعصب مقلدین یا مختلف اصناف واقسام کے مخالفینِ سنت پر ردود بھی ظاہر وبین ہیں ہر اس شخص کے لیے جسے ان کی معرفت ہے۔

اور یہ جو میں یہاں ذکر کرنے جارہا ہوں وہ صرف ان کی اس بھلائی کے اعتراف  میں، اور ان کا جو ہم پر حق بنتا ہےاس سے وفاء کرتے ہوئے بیان کررہا ہوں۔ ان باتوں میں سے جو میں اس مقام پر ذکر کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میرے اور میرے شیخ علامہ بدیع الدین السندی رحمہ اللہ کے مابین خط ومراسلات آپ کی وفات سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہوئی، اور آپ رحمہ اللہ نے اس خط میں یہ لکھا کہ:

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله والصلاة والسلام على نبيه وخليله محمد المصطفى صلى الله عليه وسلم.

مکرم بھائی شیخ ابو اسامہ عبداللہ بن عبدالرحیم بن حسین البخاری ﷾ کی طرف،

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اما بعد:

مجھے آپ کا خط ملا جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں نے اس کے ذریعے آپ کی اپنے بھائی کے لیے سچی محبت کو پایا ، اور اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس  محبت کو گزرتے دنوں کے ساتھ قائم ودائم رکھے۔ آپ کی تجویذ کے مطابق میں آپ کی حسب منشاء روایت کی اجازہ ارسال کررہا ہوں۔ اور یہی تعلق ہوتا ہے اہل سنت کا آپس میں۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ اسے گزرتے ایام کے ساتھ دوام بخشے۔

اور میں آپ سے جلوت وخلوت میں میرے لیے دعاء کی درخواست کرتا ہوں، اور یہ کہ اللہ تعالی ہمیں اس پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان میں ثابت قدمی عطاء فرمائے، اور ہمیں دونوں شرف والی اصل یعنی کتاب وسنت پر عمل کی توفیق دیتا رہے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے ان دو کے سوا کوئی جائے پناہ اور راہ نجات نہيں، اور توفیق دینا تو محض اللہ تعالی ہی کے اختیار میں ہے۔

آخر میں میں اللہ تعالی سے اپنے، آپ کے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ایمان پر اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر ثابت قدم رکھے، اور ہمارا خاتمہ بالخیر ہو۔

اور اللہ تعالی اس بندے پر رحم فرمائے جو اس پر آمین کہے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

میں (عبداللہ البخاری) یہ کہتا ہوں کہ یہ خط مؤرخہ 15 رجب 1416ھ کا ہے، اور آپ (اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے اور بخشش فرمائے) کی وفات 18 شعبان 1416ھ کی ہے اس تحریر کے مطابق جو میں نے اس خبر کے ملنے کے فوراً بعد آپ کے خط پر درج کی تھی۔

آپ کے اس مشفقانہ خط میں غور کرنے والے کے لیے اس کا سنت سے بھرپور ہونا بالکل عیاں ہے، اور یہی آپ کی دعوت وسیرت تھی، اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے اور مغفرت فرمائے۔ میں اللہ تعالی سے اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمارے شیخ اور ان کے علاوہ بھی ہمارے تمام مشایخ کی مغفرت فرمائے۔ اور امت کو ان کا بہترین نعم البدل عطاء فرمائے، اور جو ان میں سے باقی ہیں ان کی حفاظت فرمائے، اور ہم تمام لوگوں کو اسلام وسنت پر ثابت قدمی دے یہاں تک کہ ہم اس سے ملاقات کریں، بلاشبہ وہ دعائوں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

وكتب

عبد الله بن عبد الرَّحيم البخاري

(تنبیہ: اس مقالے کی اصل شیخ حفظہ اللہ کا ویب سائٹ سحاب السلفیۃ پر 7، مارچ 2009ع میں طارق علی بروہی کی پوسٹ’’فکر آخرت: شیخ محدث بدیع الدین شاہ سندھی رحمہ اللہ کا آخری خطاب‘‘ پر تعلیق ہے ماخوذ ہے)

February 1, 2017 | الشیخ بدیع الدین شاہ راشدی, الشیخ عبداللہ البخاری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com