menu close menu

شیخ البانی رحمہ اللہ کی علمی ہیبت – شیخ مقبل بن ہادی الوادعی

The reverence of knowledge and the status of Shaykh Al-Albaanee – Shaykh Muqbil bin Hadee Al-Wada’ee

شیخ البانی رحمہ اللہ کی علمی ہیبت   

فضیلۃ الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ المتوفی سن 1422ھ

(محدث دیارِ یمن)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: إجابة السائل على أهم المسائل س 306۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ہم نے سنا ہے کہ آپ فضیلۃ الشیخ نے ان احادیث کا تتبع کیا ہے جس میں ہمارے شیخ الفاضل محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے اپنی الصحیحۃ اور الضعیفۃ میں غلطی کی ہے، وہ کیا ہیں ساتھ میں ان غلطیو ں کا بھی بیان کیجئے؟

جواب: مجھ سے فاضل سائل بھائی حفظہ اللہ نے  تحریری جواب بھی طلب کیا تھا لیکن میرے پاس اس کے لیے وقت نہیں تھا،  جبکہ زبانی جواب دینا میرے لیے زیادہ سہل ہے۔ پس وہ احادیث جس میں ہمارے خیال سے شیخ ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ ([1])نے  جو کہ اپنے وقت کے علم حدیث کے امام مانے جاتے ہیں تساہل فرمایا ہے، تو میں نے اپنی کتب ومؤلفات میں اسی چیز کو مقرر کیا ہے جسے میں حق سمجھتا تھا لیکن شیخ حفظہ اللہ سے تصادم کرنے کی پیش قدمی نہیں کرسکتا کیونکہ بلاشبہ میں ان سے ہیبت کھاتا ہوں، اور جو موجود ہے وہ یہ بات غیرموجود تک پہنچا دے۔

لیکن میرے پاس بعض رسائل آتے ہیں جیسے طائف سے ایک دینی بھائی نے شیخ پر بعض احادیث کے تعلق سے اعتراضات کیے اور مجھ سے طلب کیا کہ میں اس پر تقریظ لکھ دوں پس میں نے لکھ دی، اسی طرح سے الاحساء سے بھی ہمارے بعض دینی بھائیوں نے مجھ سے طلب کیا کہ میں نظرثانی کروں اور تقریظ لکھ دوں تو میں نے لکھ دی، اسی طرح سے مصر سے بھی ایک رسالہ آیا جس میں میں نے وہ احادیث دیکھیں اور اس فاضل بھائی کو نصیحت کی جو چاہتا تھا کہ ان احادیث کا تتبع کرے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے ان میں غلطی کی ہے ، نصیحت یہ تھی کہ وہ محض اس مخصوص چیز کا باقاعدہ اہتمام نہ کرے اگر اسے ضرور کرنا ہی ہے تو اس کے پاس بس ایک اسی موضوع کے لیے خاص نوٹ بک ہو ، پھر جب کبھی کوئی ایسی حدیث اس کے سامنے آتی ہے تو اس کا اس نوٹ بک میں اندراج کردے، لیکن یہ کہ باقاعدہ پوری ریسرچ ہی اس پر مقصود ہو تو بے شک اس میں تو اس کی پوری عمر لگ جانی ہے! کیونکہ بلاشبہ شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ جن کو علم حدیث میں اس دور کا سب سے بڑا عالم مانا جاتا ہے انہو ں نے زندگی کے پچاس برس سے بھی زائد اسی کام میں فناء کردیے، لہذا ان کی ایسی احادیث کا تتبع کرنے والے  کو ضرورت پڑے گی کہ وہ اتنا ہی وقت یا کچھ کم یا زیادہ اس پر لگائے!

شیخ اسماعیل الانصاری حفظہ اللہ کے تتبعات ہیں عورتوں پر گولائی دار سونے کی حرمت والے مسئلے کے تعلق سے جس میں میرے رائے میں حق شیخ اسماعیل الانصاری حفظہ اللہ کے ساتھ ہے۔ البتہ جو علم حدیث ہے تو اس میں شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کی برابری کا کوئی نہيں، اسی لیے مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ شیخ البانی نے خود یہ کام شروع کردیا ہے یعنی ایسی کتاب جمع فرمائی ہے کہ اس میں وہ احادیث ہیں جن کو آپ رحمہ اللہ نے پہلے صحیح کہا تھا مگر پھر مزید تحقیق پر ان کا ضعیف ہونا آپ پر آشکارا ہوا، اسی طرح سے بعض وہ احادیث جن کو ضعیف قرار دیا تھا تو ان کا صحیح ہونا آپ پر آشکارا ہوا، یہ خبر مجھے بعض دینی بھائیوں نے دی ہے، لیکن نہیں معلوم کہ کتاب طبع ہونے کے لیے تیار ہے یا نہیں، مسلمانوں کو اس کتاب کی شدید احتیاج ہے([2])۔

اور اے سائل میں آپ کو بتاؤں کہ بلاشبہ مجھے بہت تنگی محسوس ہوتی تھی (احادیث میں) بعض ان زیادات  کی وجہ سے جسے شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ، میرادل اس پر مطمئن نہيں ہوتا، ثقہ کی طرف سے زیادات مقبول ہیں اگر وہ اپنے سے راجح تر کی مخالفت نہ کرے، لیکن اگر اپنے سے راجح تر کی مخالفت کرے تو یہ زیادتی شاذ شمار ہوگی۔ ہمارے فاضل بھائی احمد بن سعید حفظہ اللہ کا رسالہ ہے تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں جس میں انہوں نے وضاحت فرمائی ہے کہ اسے ہلانے کے بارے میں شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے جو تصحیح فرمائی ہے وہ صحیح نہیں بلکہ وہ ضعیف ہے۔

پس آج ہی طلاب العلم الحمدللہ بعض زیادات پر نکیر کرلیتے ہیں اور اگر شیخ حفظہ اللہ کی وفات ہوئی(اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ آپ کی عمر میں برکت دے) تو عنقریب آپ زیادہ تنقیدیں دیکھیں گے لیکن لوگ شیخ سے ہیبت میں رہتے ہیں ، (آپ کو یاد ہوگا) ابو غدہ ([3])کا کیا حال کیا تھا؟ اور الکتانی کی درگت؟ اور ابوظبی کے وزیر اوقاف ([4])جس نے ان پر اعتراض کیا تھا؟ حالانکہ صحیح بات تو یہ کہ وہ ان کے لیے بس وضاحت ہی فرمارہے تھے یہاں تک کہ وزیر اوقاف اگر اس کے دل میں کچھ حیات ہے تو تمنا کرتا ہوگا  کہ مرجاتا لیکن کبھی شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ پر اعتراض نہ کرتا!۔

 


[1] اس وقت شیخ البانی رحمہ اللہ بقید حیات تھے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] یہ کتاب بعنوان ’’تراجع العلامة الألباني فيما نص عليه تصحيحا وتضعيفا‘‘ دو جلدوں میں شیخ مقبل رحمہ اللہ کی وفات کے ایک سال بعد اس کی پہلی جلد 1423ھ میں اور دوسری جلد 1424ھ میں شائع ہوئی۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[3] دیکھیں شرح عقیدہ طحاویہ کا مقدمہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[4] سنیں سلسلة الهدى و النورکیسٹ 10 وغیرہ۔(توحید خالص ڈاٹ کام)

 

May 16, 2017 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی, حدیث, سلف صالحین, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com