menu close menu

شادی کے لیے سلفی رشتوں کا معیار – شیخ محمد بن عمر بازمول

The criteria for choosing a Salafee spouse – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

شادی کے لیے سلفی رشتوں کا معیار   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: بازمول ڈاٹ کام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(شادی کے رشتے کے لیے) ایک صالحہ سلفیہ عورت (یا مرد) کے لیے یہ شرط نہيں  کہ وہ تمام جماعتوں اور  احزاب کو جانتی ہو۔

نہ ہی یہ شرط ہے کہ علماء اور سلف کے کلام کو بارہا ذکر کرتی ہو۔

نہ ہی یہ لازم ہے کہ وہ فلاں فلاں کی جرح کو جانتی ہو۔

نہ ہی یہ شرط ہے کہ وہ سلفی مشایخ کا علم رکھتی ہو۔

نہ ہی یہ شرط ہے کہ اسی جو کچھ (دعوتی) منظر عام پر آجکل چل رہا اس کی معلومات ہوں۔

نہ ہی یہ شرط ہے کہ وہ ایام بیض اور ہر پیر و جمعرات کے روزے رکھتی ہو، اور نہ ہی یہ کہ وہ روزانہ قیام اللیل کرتی ہو۔

بلکہ اس کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کرتی ہو، رمضان کے روزے رکھتی ہو، اور اپنے اور شوہر کی عزت کی حفاظت کرتی ہو، اور اپنے گھر بار اور بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہو([1])۔

اور اس کا گھر ہی اس کی مملکت ہو، اور اس کا شوہر اس کا امیر و سربراہ ہو، اور ا س کی اولاد اس کی رعایا ہو([2])۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (نیک بیوی) کے تعلق سے اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا کہ:

اپنے بچوں پر شفیق ہو، اپنے شوہر کے پیچھے اس کی عزت و مال کی محافظ ہو، ساتھ میں اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتی ہو۔

دراصل لوگ اس (سلفی رشتے کے معیار ) میں مبالغہ کرتے ہيں اور حد سے تجاو زکرجاتے ہيں، آخر آپ مسلمانوں کی بیٹیوں سے چاہتے کیا ہيں کہ وہ کیا بن جائيں؟!

ایک وضاحت:

جو کچھ میں نے بیان کیا وہ صرف اس طور پر کیا ہے کہ یہ شرط نہيں ہے۔ لیکن ظاہر ہے اگر کوئی لڑکی ان سب پر عمل پیرا ہو تو یہ بے شک افضل ہے۔

لیکن میں نے بعض نوجوانوں کو دیکھا کہ رشتے کے سلسلے میں  لڑکیوں میں ان تمام صفات  کا ہونا ضروری قرار دیتے ہوئے غلو سے کام لیتے ہيں۔

اسی طرح سے میں نے بعض لڑکیوں میں بھی دیکھا  کہ وہ بھی (رشتے میں) یہ سب  کچھ طلب کرتی ہیں اور اس قدر تعمق و گہرائی میں جاتی ہيں([3])۔

لہذا اسی وجہ سے میں نے وہ اصل بیان کردی کہ جو ایک عورت میں دیکھی جانی چاہیے، اور صرف ان کے پائے جانے سے بھی وہ ایک صالحہ سلفیہ عورت کہلائی جاسکتی ہے، یہ یہ باتیں جو ذکر ہوئیں کوئی شرائط میں سے نہيں ہے۔

جس علم کی عورت کو ضرورت ہوتی ہے وہ بس وہی ہے جو اس کے صنف نازک ہونے کے تعلق سے اس کے ساتھ خاص ہوتے ہيں۔

اور جو اس سے زائد علم ہے تو وہ مرد اس کا شوہر اسے سکھا دے گا، کیونکہ وہ ان چیزوں میں اس کے تابع ہے، او رکیونکہ بلاشبہ وہ اس کا امیر اور نگران ہے۔

واللہ اعلم۔

 


[1] عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ‘‘

 (مسند احمد 1664، صحیح الترغیب 1932 حسن لغیرہ)

(اگر عورت اپنی پنج وقتہ نماز پڑھے (اس کی پابندی کرے)، اور اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھے، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، اوراپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کرے، تو اسے (بروز قیامت) کہا جائے گا: تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجا)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْأَمِيرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (صحیح بخاری 4909)

(تم میں سے ہرکوئی نگہبان ہے اور ہر ایک سےاس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایک امیر نگہبان ہے۔ اور ایک مرد بھی نگہبان ہے اپنے گھر والوں پر، اور ایک عورت بھی نگہبان ہے اپنے شوہر کے گھر پر اور اس کی اولاد پر، پس تم میں سے ہرکوئی نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا)۔  (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 ’’إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ أو عَرِيضٌ‘‘ (صحیح ترمذی 1085 وغیرہ میں مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے)

(جب تمہارے پاس کوئی ایسا (مرد کا رشتہ) آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے شادی کروادو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ  اور بہت بڑا یا بہت وسیع وعریض فساد ہوگا)۔

 

January 11, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن عمر بازمول, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com