menu close menu

سچا مؤمن – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

The true believer – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

سچا مؤمن   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: [المجموع- شرح عقيدة السلف (٢/١٨٩-١٩٠)]۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک سچا اور قوی مومن اعمال صالحہ کرتا ہے مگر ساتھ میں خوف الہی سے لرزاں وترساں رہتا ہے کہ کہيں وہ اس کے اعمال مسترد نہ فرمادے، کیونکہ ہوسکتا ہے وہ شرائط وواجبات میں سے کسی ایسی چیز کے ادائیگی میں خلل وکمی کا مرتکب ہوگیا ہوجو اللہ تعالی نے مشروع قرار دی ہيں، (ایسے مومنوں کے بارے میں فرمان باری تعالی ہے) :

﴿وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ﴾ (المؤمنون: 60)

(اور وہ کہ جو دیتے ہیں (اللہ کی راہ میں) سو دیتے ہیں (لیکن اس کے باوجودان اعمال کے نامقبول ہونے کے خوف سے) ان کے دل لرزتے وڈرتے ہيں کہ یقینا ًوہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں)

وہ کہتے ہيں کہ: ہوسکتا ہے میں اپنے اس عمل میں مخلص نہيں تھا، ہوسکتا ہے مجھ سے کوئی تقصیر ہوگئی ہو، ہوسکتا ہے  ۔۔ ۔  وغیرہ۔ اسی لیے ہر فرض نماز کے بعد اور ہر عمل کے بعد استغفارکرنا مشروع ہے۔ نماز سے آپ فارغ ہوں، تو ہر نماز کے بعد اللہ تعالی سے استغفار کریں اور بخشش طلب کریں، حج سے فارغ ہوں تو اللہ تعالی سے استغفار کریں اور اس کا بہت زیادہ ذکر کریں، اسی طرح سے روزوں سے فارغ ہوکر بھی اور تمام اعمال صالحہ کے باوجود بھی۔ یہ ایک سچے اور کامل الایمان مومن کا حال ہوتا ہے۔

مگر جو گنہگار ونافرمان ہوتا ہے تو بلاشبہ اس کے پاس اس کے ایمان اور اللہ تعالی سے حیاء میں نقص ہوتا ہے اور اسی طرح اللہ تعالی کی نعمت کے شکرانے میں بھی کوتاہی ونقص پایا جاتاہے۔ اور یہ نقص ان کے گناہوں کے ارتکاب کے مختلف درجوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، العیاذ باللہ۔

پس ایک مومن کوچاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے حیاء کرے اور اس کے عقاب سے ڈرے، اور (جان لے کہ) اس کا آگ میں داخل ہونا کوئی آسان کام نہيں، اگر آج دنیا میں کوئی آپ کو جیل میں ڈال دینے کی دھمکی دے تو آپ خوف سے تھرتھر کانپنے لگیں گے اور اور اس جیل میں جانے کے خوف سے راتیں جاگ کر گزار دیں گے، تو پھر اس آگ کی قیدمیں رہنا کیسا ہوگا، العیاذ باللہ؟!

اور وہ اس میں داخل ہونے کے اعتبارسے مختلف درجات میں ہوں گے، کسی کو ان میں سے وہ ٹخنوں تک آلے گی، کسی کو نصف پنڈلیوں تک، کسی کو گھٹنوں تک اور کسی کے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی سوائے مقام ِسجود کے، اللہ اعلم۔

جب تارک ِزکوٰۃ کو چٹیل میدان میں اوندھا لٹایا جائے گا (اور وہ بکریاں وغیرہ اسے کچلیں اور روندیں گی جن کی زکوٰۃ ادا نہيں کی ہوگی) اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی تو پھر تارک ِنماز کا کیا حال ہوگا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی آگ میں پچاس ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ رہے، حالانکہ کیا آپ اس آگ میں ایک لمحہ بھی رہنے کو تیار ہیں؟!

یہ قاعدہ (کہ مومن سزا پاکر بھی آگ سے نکل سکتا ہے) مقرر کرنے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ تعالی کی نافرمانی پر دلیر کررہے ہيں بلکہ ہمارا مقصد تو صرف خوارج پر رد ہے (جو گنہگار مومنوں کو ہمیشہ کا جہنمی قرار دیتے ہیں) اور بیک وقت ہم مرجئہ پر بھی رد کرتے ہیں (جن کا عقیدہ خوارج کے بالکل برعکس ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان دہ نہیں) اور ہم ان مسائل پر اللہ تعالی کے حکم کی وضاحت کرتے ہیں([1])، مگر ساتھ ہی یہ لازم ہے کہ ایک مومن کے دل میں اللہ تعالی کے خوف اور اس سے حیاء کا جذبہ ہمیشہ جاگزین رہے([2])۔

 


[1] اسی کتاب میں دوسرے مقام پر فرمایا:

’’واجب ہے کہ ہم ان نمازوں کی حفاظت کریں، اور اس کی نصیحت اور ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہیں، فرمان باری تعالی ہے: ﴿وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ (سورۃ العصر) (اور (خسارے سے بچنے والے مومنین) حق بات کی وصیت کرتے، اور صبر کی وصیت کرتے ہیں) اور ہم اس کے ترک کرنے سے ڈرائیں اور اس بارے میں وارد وعید پر مبنی نصوص ذکر کریں۔ نصوص ِوعید کے تعلق سے اولیٰ یہی ہے کہ اسے ہم سلف کے طریقے کے مطابق ذکر کریں، چناچہ بس ذکر کریں کہ جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا اور اس کی تفسیر نہ کریں (یا جیسے حدیث ہے) ’’مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ‘‘ (صحیح الترمذی 1535) (جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا) یعنی بس حدیث بیان کرو اور چلتے بنو۔ کیونکہ اگر آپ اس کی تفسیری وضاحت اور تاویل میں جائيں گے تو جاہل لوگ نڈر ہوجائيں گے۔ لہذا ان نصوص کی ہیبت اسی طرح قائم رہ سکتی ہے جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو جو اس عمل کے ترک کرنے ، یا فلاں حرام عمل کے کرنے کے بارے میں وعید پر مبنی ہے، اسی طرح سے بیا ن کردیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، تو اس کے ذریعے سے آپ انہیں ڈرائيں گے، اور یہ بات ان کو اس سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ لیکن اگر آپ اس قسم کی تاویلات لے کر آئیں گے تو ہوسکتا ہے بعض لوگ ان باتوں کو ہلکا لینا شروع کردیں گے، ہم اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں!‘‘ (المجموع- شرح عقيدة السلف للصابوني (٢/ ٢٠٢)) مزید تفصیل کے لیے شرح اصول السنۃ از شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کا مطالعہ کیجئے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] دوسرے مقام پر فرمایا:

’’ایک مومن پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ خبردار رہے، اس کے لیے جائز نہيں کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی پر کبھی دلیر ہوجائے خواہ صغیرہ گناہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اے بھائی! اللہ تعالی سے حیاء کرو‘‘ (المجموع  (٢/ ١٩٣)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

June 30, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, زہد ورقائق, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com