menu close menu

سوشل میڈیا کے استعمال کے تعلق سے کچھ رہنمائیاں – شیخ سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی

Few guidelines regarding using social media – Shaykh Sulayman bin Saleemullaah Ar-Ruhailee

سوشل میڈیا کے استعمال کے تعلق سے کچھ رہنمائیاں

فضیلۃ الشیخ سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعۃ اسلامیۃ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کے ویڈیو کلپ سوال وجواب سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: جزاکم اللہ  خیراً، آپ کی کیا نصیحت ہےجسے سوشل میڈیا کے استعمال کی اتنی لت لگ گئی ہو ، یہاں تک کہ وہ اسے اپنی اولاد کی دیکھ بھال اور فرائض کی ادائیگی سے بھی غافل کردے؟

جواب: اے بھائیو! یہ قاعدہ یاد رکھو۔

1- ہر وہ چیز جو واجب کی ادائیگی میں کوتاہی کا سبب بنے تو وہ حرام ہے۔

2- ہر وہ چیز جو فضائل کو حاصل کرنے میں کوتاہی کا سبب بنے تو وہ مکروہ ہے۔

اگر انسان سوشل میڈیا کے استعمال  کرنے کی وجہ سے اپنی شرعی واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے ۔ اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرتا، اور جو حقوق اس پر واجب ہیں اس کو ادا نہيں کرتا۔ بلکہ اب تو  جو ملازمین ہيں وہ اپنے کام کی جگہ پر اس وسائل کا استعمال کررہے ہوتے ہيں۔کسٹمر آتا ہے اور آفس (کاؤنٹر) کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور یہ ملازم اپنے موبائل پر لگا رہتا ہے۔ ہوسکتا ہے بیچارہ کسٹمر پانچ دس منٹ کھڑا رہے اور وہ اپنے موبائل میں مگن رہتا ہے۔ مجھے ان میں سے ایک نے بتایا کہ  میں اسی طرح ایک ملازم کے سامنے کھڑا تھا اور وہ  موبائل پر لگا ہوا تھا اور لکھے جارہا تھا (چیٹنگ کررہا تھا)۔ کہا میں نے دو تین منٹ بعد عرض کی: اے بھائی مجھے آپ سے کچھ کام ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نہیں دیکھ رہے میں مصروف ہوں!

یعنی وہ ایک واجب کو چھوڑ رہا ہے اور ان وسائل میں لگا ہوا ہے، میسج بھیج رہا ہے، ریسیو کررہا ہے اور پڑھ رہا ہے اور اس جیسی چیزیں۔اگر اس کا استعمال کسی واجب کی ادائیگی کو چھوڑنے پر منتج ہوتا ہے تو اس کا واجب کو ترک کرنے پر اس کا  استعمال حرام ہوگا۔

اور اگر یہ انسان کو فضائل کو پانے میں کوتاہی کا سبب بنے۔۔۔

اے بھائیو! آج ہم اگر کسی سے پوچھتے ہيں تم نے آج کتنا قرآن پڑھا ، کہتا ہے: واللہ! میں نے آج تو کچھ نہيں پڑھا۔چلو، آخر بار قرآن کب پڑھا تھا، کہتا ہے: جمعہ کے دن، میں نے قرآن میں سے کچھ پڑھا تھا۔ پوچھتے ہیں بھائی کیوں تم نے قرآن میں سے کچھ نہيں پڑھا؟ کہتا ہے: میرے پاس وقت نہيں ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ہم اس وقت کا حساب کریں جو لوگ ان سوشل میڈیا کے وسائل پر استعمال کرتے ہيں، اگر اس کا آدھا بھی دے دیں تو وہ روزانہ پانچ پارے پڑھ سکتے ہیں!

اور اگر یہ حرام میں ملوث ہونے کا سبب بنے تو یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔انسان وہ چیز دیکھے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہے، جیسے حرام تصاویر، گندی باتيں اور اجنبی عورتوں سے رابطے قائم کرنا، العیاذ باللہ۔یہ بلاشبہ اپنے نفس پر ظلم کرنا ہے، اور بہت بڑا ظلم ہے۔

لہذا میرے بھائیوں میں یہ کہتا ہوں کہ ان وسائل میں بہت خیر  بھی ہے دور والوں کو قریب کردیتا ہے، انسان کتابیں پڑھ سکتا ہے، اور خبریں جان سکتا ہے اور لوگوں سے روابط قائم کرسکتا ہے۔

لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم ایک رہنمائی کے تحت اس کا استعمال کریں۔

تو اس میں حرام سے بچیں، کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی ہميں دیکھ رہا ہے۔

اس سے بھی ڈریں کہ اس کی وجہ سے کوئی واجب ترک نہ کریں۔

اور اس کے استعمال میں اسراف و زیادتی نہ کریں۔

اے بھائیو! مجھے یہ بات پہنچی کہ بعض لوگ  ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے  اس کے باوجود کبھی جمع نہيں ہوتے، بچے ایک دوسرے سے واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے ہی رابطہ  کرتے ہیں! وہ اپنے کمرے میں اور یہ اپنے کمرے میں حالانکہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے ہيں!  نہ ملتے ہيں نہ ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے ہيں۔اگر کسی بھائی کو دوسرے سے کوئی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسے میسج کردیتا ہے، حالانکہ وہ اس کے کمرے میں ہوتا ہے۔ بلکہ میاں بیوی ایک ہی جگہ پر ہيں ، کہتا ہے: یہ وقت بس گھر کے لیے ہے، میں نہيں نکلوں گا۔ لیکن سارا وقت وہ موبائل پر ہی بیٹھا رہتا ہے، اور بیوی بھی اپنے موبائل پر لگی رہتی ہے۔دل دور ہوگئے ہیں، ان وسائل کے کثرت استعمال  و اسراف کی وجہ سے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ منع نہيں ہے، آپ اسے استعمال کریں، اور اس میں خیر بھی ہے لیکن  ہمیں چاہیے کہ اسے رہنمائی کے تحت استعمال کریں۔

مجھے وہ بوڑھی عورت بہت اچھی لگی جس کی اولاد تھی، اور وہ اولاد اس سے ملنے جاتی، لیکن اس نے جب یہ بات ملاحظہ کی کہ جب وہ اس سے ملنے آتے تو سب اپنی اپنی ڈیوائس (موبائلز) پر لگے رہتے ہيں، یا تو کوئی میسج پڑھ رہے ہوتے ہیں یا خود لکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس بڑھیا نے ایک ٹوکری اپنے گھر کے دروازے پر رکھ دی ، اور کہا جو میرے گھر ملنے آنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے اپنا موبائل یہاں رکھ دے۔ میرے لیے اندر آئے، میرے ساتھ بیٹھے، مجھ سے بات کرے اور اپنے بھائیوں سے۔ اور جب نکلےتو اپنا موبائل واپس لے لے۔

تو یہ معاملہ واقعی ایک حقیقت ہے، اللہ تعالی سائل کو جزائے خیر دے کہ اس نے اس پر تنبیہ کی، ہمیں بھی چاہیے کہ اس بارے میں منتبہ ہوجائيں۔

April 6, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشیخ سلیمان الرحیلی, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com