menu close menu

سورۃ التحریم کی ابتدائی پانچ آیات کی تفسیر اور ہمیں ان سےکیا سبق ملتا ہے – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Tafseer of the first 5 Aayaat of Surat-ut-Tahreem and the lesson we get from it – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

سورۃ التحریم کی ابتدائی پانچ آیات کی تفسیر اور ہمیں ان سےکیا سبق ملتا ہے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: برنامج: فتاوی علی الھواء

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضیلۃ الشیخ حفظہ اللہ سے سورۃ التحریم کی ابتدائی پانچ آیات کی تفسیر طلب کی گئی، جو کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ۚ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ، وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا  ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا   ۭ قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ، اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا  ۚ وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ ، عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تَائِبَاتٍ عٰبِدٰتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا﴾ (التحریم: 1-5)

(اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کے لیے حلال فرمایا ہے؟ آپ اپنی بیویوں کی رضا وخوشی چاہتے ہيں، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے، بےشک اللہ تعالی نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تعالی تمہارا مولیٰ ہے،  اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے، اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کر دی تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا، پھر جب اس (نبی) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی تو اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ؟!  فرمایا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے، اب اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقیناً تمہارے دل (حق سے) مائل ہوکر (دوسری طرف) جھک پڑے ہیں ،اور اگر تم ان کے خلاف آپس میں ایکا کرکے کارروائی کرتی رہیں تو پھر یقیناً اللہ تعالی خود ان (نبی) کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومنین اور اس کے بعد تمام فرشتے بھی مددگار ہیں، کچھ بعید نہيں کہ ان  کا رب، اگر وہ (نبی) تمہیں طلاق دے دیں کہ تمہارے بدلے انہیں تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمادے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ بھی اور کنواریاں بھی )

بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین:

سورۃ التحریم کی ان ابتدائی آیات کریمات میں اللہ تعالی نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیحت کی اور خبردار فرمایا ہے ایک مسئلے پر جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوا۔اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ پر ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو جو کہ آپ کی لونڈی تھیں حرام فرمالیا، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ پر شہد کو حرام فرمالیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کوآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے اور ان کا انہيں شہد پلانے پر غیرت اورجلن ہوئی ،اور اس پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شکوہ شکایت کرنے لگیں۔ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ پر ماریہ رضی اللہ عنہا کو یا شہد کو حرام فرمالیا۔حالانکہ یہ دو مباح باتیں تھیں اور جائز نہيں کہ حلال کو حرام کیا جائے۔ اسی لیے اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےفرمایا: ﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ (اے نبی) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت کی صفت سے خطاب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف وتکریم کے لیے، اور اللہ سبحانہ وتعالی نے کبھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب نہيں فرمایا مگر نبوت کے ساتھ یا رسالت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف وتکریم کے لیے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خبر کے وقت ذکر فرمایا ہے جیسے: ﴿مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ۔۔۔﴾ (الاحزاب: 40) اور ﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ۔۔۔﴾ (الفتح: 29) یعنی بطور اخبار ذکر ہوا ہے، البتہ جو نداء (پکارنا) ہے تو اللہ سبحانہ وتعالی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت یا رسالت سے خطاب فرماتا ہے آپ کی تکریم وشرف کے لیے۔

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ (اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کے لیے حلال فرمایا ہے؟) یہ استفہام انکاری ہے، انکار اس بات پر جو واقع ہوئی تھی۔ کیونکہ کسی حلال چیز کو لائق نہيں کہ ایک مسلمان اپنے اوپر حرام قرار دے دے۔  اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

﴿يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا  ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾ (المائدۃ: 87)

(اے ایمان والو! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے حلال فرمائی ہیں، اور حد سے نہ بڑھو، بےشک اللہ تعالی حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا)

پس اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمائیں۔ لہذا فرمایا: ﴿قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ﴾ (بےشک اللہ تعالی نے تمہارے لیے قسموں کا کھول ڈالنا مقرر کردیا ہے) یعنی کفارہ مقرر فرمادیا ہے۔چناچہ حلال کو اپنے پر حرام کرنے کو قسم قرار دیا گیا جس سے کفارے کے ذریعے خلاصی ہوتی ہے۔  اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جانب اشارہ فرمایا جو اللہ تعالی نے سورۃ المائدۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ:

﴿يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا  ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ، وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا  ۠وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ، لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ  ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ  ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ  ۭ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ﴾ (المائدۃ: 87-89)

(اے ایمان والو! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے حلال فرمائی ہیں، اور حد سے نہ بڑھو، بےشک اللہ تعالی حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا، اور اللہ تعالی نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے حلال طیب کھاؤ، اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو، اللہ تعالی  تمہاری قسموں میں سے لغو قسم پر تمہارا مؤاخذہ نہیں فرماتا،  اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ فرماتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں ۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانے درجے کاکھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو)

چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورۃ المائدۃ میں بیان کردہ اس قسم کے کفارے کی طرف اشارہ فرمایا گیا جو اس بات کی دلیل ہےکہ حلال کو اپنے اوپر حرام کرنا قسم کی طرح ہے، اور اس سے خلاصی کفارے کے ذریعے ہوتی ہے۔  کیونکہ ماریہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مباح تھیں کہ آپ انہیں بطور لونڈی اپنے پاس رکھیں، اسی طرح سے شہد بھی پاک وطیب چیزوں میں سے ہے جو کہ مباح ہے۔  اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کریں اور شہد بھی استعمال کریں اور اپنی لونڈی ماریہ رضی اللہ عنہا کو بھی پاس رکھیں۔

﴿قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ۚ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ﴾

(بےشک اللہ تعالی نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تعالی تمہارا مولیٰ ہے،  اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے)

اس میں بشارت ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کے لیے کہ اگر وہ قسم کا کفارہ ادا کرلیتے ہیں تو اس سے خلاصی مل جاتی ہے، اور اللہ تعالی ان سے درگزر فرماتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیویوں میں سے دو کو خبردار فرمایا اور نصیحت فرمائی، جو کہ سیدہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں:

﴿وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا﴾  (اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی)  یعنی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوشیدہ طور پر ایک بات کہی لیکن انہوں نے اسے دوسری کو بتادیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ بات کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ تو آپ رضی اللہ عنہا سے یہ مخالفت صادر ہوگئی۔

﴿فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ﴾ (پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کر دی) اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ چھپی بات ظاہر فرمادی۔

﴿عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ﴾ (تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا) یعنی جو بات انہوں نے افشاں کی تھیں اس میں سے کچھ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتادی اور کچھ سے اعراض ہی فرمایا تاکہ پردہ رہے اس مسئلے پر۔

﴿ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ ﴾ (پھر جب اس (نبی) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی) یعنی اس بات کی جو  انہوں نے خفیہ کی تھی انہيں خبر فرمائی تو کہا کہ: ﴿ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا﴾ ( تو اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا؟!) یعنی انہوں نے کہا کس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی حالانکہ جب وہ بات انہوں نے کی تھی تو اور کوئی موجود نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو اس کی اطلاع ہوئی۔ تو فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے: ﴿قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ﴾ (فرمایا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے) جو کہ اللہ سبحانہ وتعالی ہے، اسی نے اس بات کی انہیں خبر دی ہے۔

پھر اللہ تعالی نے ان دونوں کی طرف خطاب فرمایا کہ: ﴿ اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا  ﴾ (اب اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقیناً تمہارے دل (حق سے) مائل ہوکر (دوسری طرف) جھک پڑے ہیں) یعنی اللہ تعالی نے توبہ کی انہیں پیشکش فرمائی کیونکہ ان کے دل ’’صَغَتْ‘‘ یعنی مائل ہوگئے ہیں۔

﴿ وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ ﴾ (اور اگر تم ان کے خلاف آپس میں ایکا کرکے کارروائی کرتی رہیں تو پھر یقیناً اللہ تعالی خود ان (نبی) کا مدد گار ہے) یعنی ان کے بارے میں یوں آپس میں تعاون کرتی رہیں  تو اللہ تعالی ان کا ناصر ہے ان کا مولیٰ ومددگار ہے۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ ﴾  (اور جبریل اور صالح مومنین اور اس کے بعد تمام فرشتے بھی مددگار ہیں) یہ سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مددگار اور حمایتی ہوں گے۔اللہ تعالی، اور جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام اور صالح مومنین جو کہ سیدناابوبکروعمر رضی اللہ عنہما ہیں (جن کی یہ صاحبزادیاں ہیں) اور فرشتے بھی ان کے بعد مددگار ہیں یعنی وہ نصرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان کی مدد ومعاونت کریں گے۔

تو یہ اس قصے کا ماحصل ہے جو کہ واقع ہوا جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی حلال کو اپنے اوپر حرام کرنا جائز نہيں ہے ، کوئی کرلے تو اس کے ذمے کفارہ ہے، اور اس کا کفارہ وہی قسم والا کفارہ ہے۔

 

July 13, 2016 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, فقہ وعبادات, قرآن وتفسیر, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com