menu close menu

سلفی نوجوانوں کو نصیحت – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Advice to the Salafee youth – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

سلفی نوجوانوں کو نصیحت   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نفحات الهدى والإيمان من مجالس القرآن (پہلی مجلس)۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال 2: آپ کی سلفی نوجوانوں کے لیے کیا نصیحت ہے؟

جواب: ہم سلفیوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ آپس میں پیار و محبت سے رہیں، اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے پکڑیں،وہ  بھائی چارہ قائم کریں جو کتاب اللہ اور سنت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر قائم ہو عقائد میں ، عبادات میں اور اعمال میں۔

اللہ تعالیٰ کے لیے بھائی بھائی بن جانا ، اور ان اصول اور ان مبادی پر ایمان لانا ، اللہ تعالیٰ کے لیے باہمی محبت کرنا  (ان چیزوں کی میں نصیحت کرتا ہوں)۔  اور اگر کسی شخص سے کوئی غلطی ہو بھی جائے کسی چھوٹی یا بڑی بات میں تو حکمت کے ساتھ اور اچھے کلام کے ساتھ اسے نصیحت کی جائے۔ بعض ایسے لوگ ہیں جو سلفیت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن تشدد پر اتر آتے ہیں باطل تشدد، ظلم اور افتراء  پردازی پرمبنی تشدد۔ وہ شدت کو بے موقع ومحل استعمال کرتے ہیں، ان کے پاس کبھی حکمت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، نہ کوئی رحم دلی اور شفقت کوئی بھی چیز ان میں سے نہیں ہوتی۔ اور افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ  ثابت قدم رہنے والے سچے سلفیوں  پر یہ تہمت لگادیتے ہیں تشدد کی اور غلو کی حالانکہ یہ بہت شدید قسم کا ظلم وناانصافی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی قسم ! ہم  تو اس شدت پسندی کے خلاف لڑتے ہیں، خوارج کی شدت ہو یا ایسے لوگوں کی شدت جن کی شدت خوارج کی شدت کی ہی طرح ہے، ہم تو ان پر انکار کرتے ہیں  جو دین سے متنفر کرنے والے ہیں اور سختی اور تشدد کرنے والے ہیں۔ ساتھ ہی ہم ان بے جا نرمی استعمال کرنے والوں پر بھی انکار کرتے ہیں جو ایسے اصول اور ایسے بالکل ٹھنڈے اور جھوٹے اقوال گھڑتے ہیں جن سےاہل بدعت کا دفاع اور حمایت  کی جائے۔ ہم افراط و تفریط کا شکار دونوں قسم کے لوگوں پر انکار کرتے ہیں، اور صراط مستقیم کی جانب دعوت دیتے ہیں، اور اس راہ کی جانب دعوت دیتے ہيں  جس پر سلف صالحین گامزن تھے اپنے عقائد میں ، اپنے اعمال میں ، اخلاق میں اور عدل میں ۔

یہ جو غالی لوگ ہیں تمییع (بے جا نرمی اپنانے ) میں ، اور جو غالی لوگ ہیں  تبدیع اور تکفیر میں یہ تمام کے تمام صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اعتدال کا ، عدل کا اور صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ہے ۔ بعض ایسے لوگ ہیں جو بے جا نرمی اختیار کرتے ہیں  آپ سے یہ کہتے ہیں کہ فلان جو ہستی ہے وہ  توبہت اعلیٰ پائے کی ہستی ہے،  شہید ہے اور پھر بعض ایسے لوگ آتے ہیں جو اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں (حالانکہ وہ گمراہ ہوتا ہے)   تو یہ ساری کی ساری باتیں تمییع میں شامل ہیں۔   تو ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی قسم  !اس کے خلاف جنگ کرتے ہیں  کیوں کہ اس  کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کو ضائع کیا جاتا ہے، عقائد کو اور مناہج کو ضائع کیا جاتا ہے ۔ اورجو شدت ہے تو اس میں تحریف کی جاتی ہے  ، غلو کیا جاتا ہے ، ان اٹل اصولوں اور قواعد میں زیادتی اور اضافے کیے جاتے ہیں۔

 ہم تمام کے تمام سلفیوں کو نصیحت کرتے ہیں  کہ وہ کتاب اور سنت سے تمسک اختیار کریں اورجو کچھ ان دونوں میں ہے اس پر ثابت قدمی اختیار کریں عبادات  میں، اقوال و اعمال  میں۔ اورآپس میں بھائی چارہ قائم رکھیں  ۔ اور یہ بات اچھے طریقے سے ذہن نشین کر لیں  کہ جو عصمت ہے  وہ سوائے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے کسی کے لیے نہيں ہےاس چیز کے پہنچانے میں جو انہيں اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی جاتی ہے، پس بے شک وہ ایک ذرّے کی بھی کمی کیے بغیر اسے پہنچا دیتے ہيں۔ جب کہ انبیاءکرام علیہم الصلاۃ والسلام کے علاوہ جو  دیگر انسان ہیں تو ان سے غلطیاں اور خطائیں بھی ہوتی ہیں ،  اور اس کا معالجہ یہ ہے  کہ سلفیوں کے درمیان اگر آپس میں  غلطی ہو جائے تو حکمت کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا جائے ، حتیٰ  کہ جو سلفیوں کے علاوہ بھی ہیں ان کی بدعات اور گمراہیوں کا معالجہ حجت، برہان،  حکمت اور باادب بیان ووضاحت اور اس جیسے دیگر اخلاق اپناتے ہوئے کیا جائے۔

تو بعض ایسے لوگ ہیں جو اسلامی اخلاق اور اسلامی منہج  کے بارے میں شدید کوتاہی کا شکار ہيں۔ حالانکہ اخلاق اعمال ِایمان میں  سے اہم ترین ہے۔ بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرما ن ہے:

’’إِنَّمَا بُعِثْتُ لأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخْلاقِ‘‘([1])

(مجھے تو بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ میں  اچھے اخلاق کی تکمیل کروں)۔

اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ ﴾ (القلم:4)

(بلاشبہ آپ عظیم اخلاق کے درجے  پر فائز ہیں )

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَا زَانَهُ، وَلَا يُنزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَا شَانَهُ‘‘([2])

(بے شک نرمی کسی بھی چیز میں نہیں ہوتی مگر وہ اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے ، اور کسی بھی چیز سے نہیں اٹھا ئی جاتی مگر وہ اسے  بدنما کر دیتی ہے )۔

اور فرمایا :

’’إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ‘‘([3])

(اللہ تعالیٰ خود بھی رفیق ہے اور فق (نرمی )کو پسند فرماتا ہے ، اور نرمی سے وہ چیز دیتا ہے جو سختی اپنانے سے نہیں دیتا ، اور نہ ہی اس کے علاوہ کچھ اور اپنانے پر دیتا ہے)۔

تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان عظیم اخلاق سے اپنے آپ کو آراستہ کریں  کہ جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے عملی طور پر اپنایا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام اور آئمہ ہدایت رضوان اللہ علیھم نے انہیں اپنایا۔

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو  سنت پر ثابت قدمی عطا فرمائے، اور ہمیں ہر اس چیز کی توفیق دے جس  سے وہ راضی ہوتا ہے  اور ہر چیز سے ہمیں بچائے جو اس کے غصے کا سبب ہے۔

 اور اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر  اور آپ کی آل اور اصحاب پر ۔

 


[1] أخرجه أحمد 8952 عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ.

 

[2] أخرجه مسلم، كتاب البر والصلة والأدب – باب فضل الرفق 6767 عن عائشة رضی اللہ عنہا.

 

[3] أخرجه مسلم، كتاب البر والصلة والأدب – باب فضل الرفق 6766 عن عائشة رضی اللہ عنہا.

 

June 11, 2016 | الشيخ ربيع المدخلي, سلفیت, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com