menu close menu

سلفیوں کے مابین اختلاف رائے اور وہ باتيں جو کسی کو سلفیت سے خارج کردیتی ہیں – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Differences of opinion between the Salafees and those matters which take one out of Salafiyyah – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

سلفیوں کے مابین اختلاف رائے اور وہ باتيں جو کسی کو سلفیت سے خارج کردیتی ہیں   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ بعنوان: سبيل النصر والتمكين 25-03-1422۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کبھی کبھار بعض سلفیوں کے مابین بعض مسائل پر اختلاف ہوجاتا ہے، پس وہ کون سے مسائل ہیں جو کسی شخص کو سلفیت کے دائرے سے باہر نکال دیتے ہیں، اور اس بارے میں کیا ضابطہ ہے؟

جواب: اگر ہم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف دیکھیں تو پھر ہمارے لیے اس منہج کی تطبیق کرنا بہت مشکل ہوجائے گا کہ جس پر آپ او رآپ کے جیسے (اللہ ان سے راضی ہو اور رحم فرمائے) چلے تھے۔ لیکن ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں کہ جس میں ضعف و انحطاط بہت زیادہ ہے، اور ان احکام کے خلاف جنگ (اگرچہ یہ صواب پر مبنی ہوتے ہیں) میں بہت شدت پائی جاتی ہے۔ اور کتنے ہی انہوں نے ایسے احکام کا ابطال کرکے رکھ دیا ہے جو ان احکام کے مستحقین پر لاگو ہوتے تھے کہ ان پر بدعت وگمراہی کا حکم لگایا جائے، ایسے بدعتی کہ جن کے یہاں بدعت تو کجا کفریات تک پائی جاتی ہيں۔ اگر آج ایسے کو بھی بدعتی کہہ دیا آپ نے تو ایک دنیا آپ کے خلاف کھڑی ہوجائے اور سامنے (دیوار بن کر) بیٹھ جائے گی۔ چناچہ یہ آج اسلام کی اجنبیت کی دلیل ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کی سنت کی اجنبیت کی دلیل ہے۔  امام احمد رحمہ اللہ تو اگر ایسے شخص کو کہہ دیتے جو آئمہ اسلام میں سے ہوتا حدیث میں، فقہ میں اور علم میں لیکن وہ توقف اختیار کرتا ہے خلق قرآن کے قول کے تعلق سے تو اسے بدعتی قرار دیتے اورگمراہ قرار دیتے۔ کتنا کچھ الحارث کے ساتھ ہوا اس پر بدعت کا حکم لگایا اور اس سے تحذیر فرمائی۔ الحارث المحاسبی اور یعقوب بن شیبہ جو کہ قرآن مجید کے بارے میں توقف اختیار کررہے تھے کہ آیا وہ مخلوق ہے یا غیرمخلوق ہے تو آپ نے انہیں بدعتی اور گمراہ قرار دیا۔ اور آپ کے وقت کے تمام اہلحدیثوں نے  امام احمد رحمہ اللہ کی اس میں تائید کی مخالف نہ کی۔ اگر وہ اس قسم کا کلام فرماتے تو کوئی بھی آپ کی مخالفت نہ کرتا تھا وہ سب کے سب کہتے یہی حق ہے۔ جیساکہ اس جانب امام الذہبی رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا کہ جب یعقوب بن شیبہ اور ایک لوگوں کی تعداد اس موقف میں داخل ہوئی کہ قرآن کو کلام اللہ (یا مخلوق ) کہنے میں توقف اختیار کیا جائے تو فرماتے ہیں کہ ان سے پہلے بھی فلاں فلاں اور فلاں اس بارے میں یعقوب بن شیبہ سے پہلے توقف اختیار کرنے والے مؤقف پر گزر چکے تھے، ایسے زمانے میں جس وقت امام احمد اور یعقوب بن شیبہ تھے اس وقت ہزار آئمہ حدیث موجود ہوا کرتے تھے جو ان کی اس منہج میں تائید کرتے تھے (یعنی ایسوں کا رد کیا جائے)۔ لیکن صد افسوس کہ اب ایسے شخص تک کے بارے میں جس کے پاس اسلام کے تمام جوانب کے تعلق سے متعدد بدعات پائی جاتی ہیں اس کے باوجود  اس پر امام اور آئمہ ہدایت کے لقب کا  اطلاق کرتے ہيں۔ اور اس کا اور اس کے منہج کا دفاع کرتے ہيں، جن کی گمراہیوں میں سرفہرست رافضیت ہے، اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم پر طعن ہے بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام تک پر طعن ہے، لیکن آپ (ایسوں تک کا رد کرنے پر) شدید مخالفت پائیں گے۔ بلکہ اہل بدعت وضلالت کا دفاع کرنے کے لیے مناہج تک گڑھ لیتے ہيں جیسے ’’منہج موازنات‘‘۔ آج جو اہل مدینہ ہیں وہ تو اس کا عشر عشیر تک نہيں کرپاتے جو امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے بھائیوں ساتھیوں نے کیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ان (منہج میں) کمزور لوگوں کے نزدیک متشدد ہيں ۔

میں ابھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ ایک لہجہ ہے جو سلفیوں میں پھوٹ ڈالتا ہے کہ: یہ تو متشدد ہے، وہ تو متساہل ہے۔۔۔ اور یہ کارستانی اہل بدعت کی ہے کہ انہوں نے اسے ان کے اندر سرایت کردیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے لڑتے پھریں۔ پس میں تمام سلفیوں کو جو کہیں بھی ہوں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ منہج سلف اور سلف کے مواقف کو اچھی طرح سے پڑھیں تاکہ اس مذہب پر ان کا کلمہ مجتمع ہو اور ایک دوسرے کو مختلف القاب دینا اور قیل وقال میں پڑنا چھوڑ دیں۔ اور اس بات پر سب متفق ہوجائيں کہ وہ سب کے سب مل کر بدعات کے خلاف حجت، برہان، علم وبیان کی ایک صف بن جائیں گے۔

اور میں جانتا ہوں کہ آج کچھ لوگ اہل مدینہ پر طعن کرتے ہيں  تو میں تمام لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالی سے ڈریں، اور اسلام ہم سے یہ مطالبہ نہيں کرتا کہ ہم تمام لوگوں کو ایک ہی قالب میں ڈھال دیں۔ لہذا اگر آپ کا کوئی بھائی ببانگ دہل  حق بات کرتا ہے تو اے بھائی اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ اسی طرح سے اگر کسی بھائی کو کچھ کمزور سا پاتے ہیں تو اس پر بھی صبر کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے فرمایا:

’’الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ ‘‘([1])

(ایک قوی مومن زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالی کو بھی زیادہ محبوب ہے ایک کمزور مومن سے، اگرچہ دونوں میں ہی خیر ہے)۔

لہذا اگر آپ کچھ کمزور مومن ہیں تو اپنے بھائی کو بے یارومددگار بغیر تائید وحمایت کے نہ چھوڑیں، اسی طرح سے اگریہ زیادہ قوی مومن ہے تو وہ بھی اپنے کمزور بھائی کو روند نہ ڈالے۔ آپس میں جڑے رہیں اور آپس میں ایک جماعت بنے رہیں اور اس قسم کا کلام چھوڑ دیں اور اس در کو بند کریں۔

پس میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالی سے ڈریں اور بھائی چارہ قائم رکھیں، اور ایک دوسرے سے نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرتے جائيں۔ اگر کوئی قوی ہے تو وہ حق بات کھل کر بیان کرے اس کی مخالفت نہ کی جائے، بلکہ  اس کی حوصلہ افزائی کی جائے ناکہ اسے تشدد کے القاب سے نوازا جائے، بارک اللہ فیک۔ کیونکہ یہ اہل بدعت کے لیے سب سےبڑاسنہرا موقع ہوتا ہے، بس ایک ہی کلمہ جو بعض مشایخ کسی ایسے انسان کے بارےمیں کہہ دیتے ہیں جو مجاہد ہے، دعوت الی اللہ کرتا ہے اور حق واضح کرتا ہے، تو بس اس ایک کلمے سے ہی اس سے سب رک جاتے ہيں اور سلفی دعوت کا ستیاناس کرکے رکھ دیتے ہیں۔  پس ایسی عبارتیں جو بعض بھائیوں کے منہ سے نکلتی ہیں ’’متساہل‘‘، ’’متشدد‘‘ چھوڑ دینی چاہیے۔ اگر آپ کا بھائی دعوت دیتا ہے لیکن اس کے پاس تھوڑی بہت کمزوری ہے  تو نہ اسے چھوڑو نہ ہی کچل دو، اسی طرح سے دوسری طرف اگر آپ کا ایک بھائی بہادر وشجاع ہے اور کلمۂ حق ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کا عادی ہے  تو اس کی تائید سے ہاتھ نہ کھینچو۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لیے ہے، بارک اللہ فیکم۔

بہرحال میرے خیال سے جو واضح بدعت کا مرتکب ہے جیسا کہ خلق قرآن کا قول، غیراللہ کوپکارنا، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا، اس کی اگر تکفیر نہ بھی کریں تو شدیر ترین تبدیع کی جائے ، اس وقت تک ہم اس کی تکفیر نہيں کرتے جب تک حجت تمام نہ ہو۔ لیکن ایسوں کی تبدیع میں اور ان پر بدعت کا حکم لگانے میں تردد کرنا جائز نہیں۔ یہ تو واضح بدعا ت ہيں جیسے خلق قرآن کا قول،  آج کچھ لوگ ظاہر ہوں اور کہیں قرآن مخلوق ہے، کیا ہم ان کو بدعتی قرار نہيں دیں گے؟ وہ کہیں کہ قرآن بنایا گیا ہے کیا ہم ان کو بدعتی قرار نہيں دیں گے؟ بارک اللہ فیک، بالکل انہيں بدعتی قرار دیں گے۔ اس نوعیت کے لوگوں کے بارے میں اختلاف کرنا جائز نہيں، یا جیسے کوئی کہے کہ عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم منانا مشروع ہے، اور وہ میلادوں میں حاضر ہوتا ہے تو ہم اس کی تبدیع کریں گے اور اس سے ہجر (بائیکاٹ) کریں گے،اور اگر کوئی ایسا شخص ہو جو غیراللہ کو پکارتا ہے  اور اس پر حجت تک تمام ہوچکی ہے تو اس کی تکفیر کریں گے، البتہ اگر کوئی جاہل انسان ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس کے سامنے حق بات کی وضاحت کریں اگر وہ رجوع کرلیتا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کی بھی تکفیر کریں گے۔ البتہ (ایسوں کی) تبدیع کے بارے میں کسی تردد کی ضرورت نہيں، اگر کوئی صحابہ کرام y کو سب وشتم کرتا ہے یا کسی ایک بھی صحابی کو سب وشتم کرتا ہے تو ہم کہیں گے: بدعتی ہے، شیعہ یا رافضی ہے، اس میں ہم کوئی تردد نہيں کریں گے۔ اور ایسا کرنا دراصل صدق وسچائی پر دلالت کرتا ہے۔ البتہ بعض ایسی بدعات ہیں جو خفیہ ہوتی ہیں  بہت سے لوگوں پر اس کا معاملہ مخفی ہوتا ہے  یہاں تک کہ بعض علماء تک پر مخفی ہوتا ہے، تو ان کے متعلق جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ " نے فرمایا (وہی رویہ ہوگا) :

’’بلاشبہ بہت سے سلف اور خلف بدعات میں واقع ہوگئے لیکن ان کے لیے عذر بیان کیا جاتا ہے کیونکہ یا تو وہ اس وجہ سے اس میں پڑے کہ کتاب وسنت سے کوئی نص موجود تھی مگروہ اس کو صحیح طورپر سمجھ نہ پائے، یا کسی ضعیف اثر کی وجہ سے جسے وہ صحیح سمجھ بیٹھے، یا کسی فاسد قیاس کی وجہ سے جسے وہ صحیح قیاس سمجھ بیٹھے۔۔۔‘‘۔

تو اس قسم کے جو خفیہ بدعات میں واقع ہوئے بھی ہیں تو ہم ان کی تبدیع نہیں کرتے۔ان کے سامنے حق بیان کرتے ہیں اگر اس کے باوجود وہ اس پر مصر رہتے ہیں تب ان کی تبدیع کی جاتی ہے۔

اس بارے میں میرے نزدیک یہ تفصیل ہے۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو اپنے دین کا صحیح فقہ وفہم عطاء فرمائے، اور ہمیں اللہ تعالی ہمیشہ اس کی ، اس کی کتاب، اس کے نبی، عام وخاص مومنین کی خیرخواہی چاہنا نصیب فرمائے۔

 


[1] صحیح مسلم 2667۔

September 25, 2016 | الشيخ ربيع المدخلي, سلفیت, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com