menu close menu

سروری کون ہیں؟ – توحید خالص ڈاٹ کام

Who are Suroorees? – tawheedekhaalis.com

سروری کون ہیں؟   

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: جهود العلامة ربيع المدخلي في نقض شبهات الحزبيين کتاب کی تعلیق سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سروری محمد سرور زین العابدین  تکفیری کے پیروکار ہيں، اور ان کا فرقہ قطبیوں (سید قطب کے پیروکار) سے ہی نکلا ہے، اورانہی کے اصولوں پر گامزن ہے۔ محمد سرور تکفیری کا ایک مجلہ بھی ہے جسے اس نے ’’مجلۃ السنۃ‘‘ کا نام دیا ہے ، جس کے تعلق سے شیخ مقبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہے اس  مجلے کو مجلۃ البدعۃ کا نام دیں، اور حقیقت بھی وہی ہے جیسا کہ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا۔

آپ کے پیش خدمت ہے بعض بکواسیں جو اس سروری نے اپنے مجلہ میں کی ہیں:

1-  شمارہ 26 صادر سن 1413ھ ص 2-3 میں کہتا ہے:

۔۔۔ان منتخب فقروں سے قارئین کو وہ بہت سی باتیں سمجھ آجائيں گی جو ہمارے عالم اسلام میں چل رہی ہیں۔ چناچہ عبودیت وبندگی کے آج درجہ بندی کے اعتبار سے یہ طبقات ہیں:

پہلا طبقہ: جو اس کے تخت پر براجمان ہے وہ اقوام متحدہ کا صدر جورج بش ہے جو کل کلنٹن بھی ہوسکتا ہے۔

دوسرا طبقہ: یہ طبقہ عرب ممالک کے حکمرانوں کا ہے۔

تیسرا طبقہ: ان عرب کے حکمرانوں کے حاشیہ نشین جیسے وزراء، وزراء کے وکلاء، فوجی قائدین، مشیر، تو یہ لوگ اپنے بڑوں کے لیے منافقت اختیار کرتے ہیں،  اور بےحیائی، بےشرمی وبے مروتی سے ان کے لیے ہر باطل کو مزین کرکے پیش کرتے ہیں۔

چوتھا، پانچواں اور چھٹا طبقہ: وزراء کے پاس بڑے ملازمین جو یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر اپنا عہدہ بڑھانا ہے تو اس کی اولین شرط ہے نفاق وذلت اختیار کرو اور جو بھی آرڈر انہیں دیا جائے اس کی بلاچوں چراں تعمیل کرو۔۔۔

اور اسی مجلہ کے شمارے 16 میں اسی سابقہ کلام کو ذکر کرکے کہتا ہے:

پہلے زمانے کی غلامی سادہ سی ہوتی تھی، کیونکہ غلام اور اس کے آقا کا براہ راست تعلق ہوتا تھا۔ لیکن آج  کی غلامی بڑی پیچیدہ ہے۔ میری تو حیرت کی انتہاء نہیں رہتی ان لوگوں کے تعلق سے جو توحید کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ غلام در غلام در غلام درغلام درغلام ہوتے ہیں۔ اور ان کا سب سے آخری آقا کوئی نصرانی ہوتا ہے۔

(اور اس کی اس  سے مراد علماء سنت ہیں خصوصاً سعودی عرب کے سلفی مشایخ، دیکھیں کتاب ’’القطبية هي الفتنة فاعرفوها‘‘)۔

اس فرقے کے تعلق سے خلاصۂ کلام یہ ہے جو کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بلاشبہ یہ: ’’خارجية عصرية‘‘ (اس دور کی خارجیت ہے)۔

July 19, 2016 | گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com