menu close menu

سالگرہ منانے کا شرعی حکم؟ – مختلف علماء کرام

Shari'ah ruling regarding celebrating birthdays – Various 'Ulamaa

 

سالگرہ منانے کا شرعی حکم؟   

مختلف علماء کرام

ترجمع، جمع وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ہر ایک سال یا دو سال یا اس سے کم وبیش  گزرنے پر کسی شخص کی یوم پیدائش کی خوشی میں تقریب منانا جسے وہ سالگرہ کہتے ہيں کا کیا حکم ہے؟ اور اس سالگرہ کی دعوت میں شرکت اور کھانا کا کیا حکم ہے؟ اگر کسی شخص کو سالگرہ کی دعوت دی جائے کیا وہ اسے قبول کرے یا نہيں؟ ہمیں افادہ پہنچائيں اللہ تعالی آپ کو ثواب سے نوازے۔

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

کتاب وسنت کے شرعی دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہيں کہ سالگرہ منانا دین میں بدعات ومحدثات میں سے ہے، جس کی شریعت مطہرہ میں کوئی اصل و بنیاد نہيں۔ اس قسم کی دعوت کو قبول نہيں کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں بدعت کی تائید اور حوصلہ افزائی پائی جاتی ہے۔۔۔اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا:

﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ﴾ (الشوری: 21)

(کیا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر ومشروع کیا ہے جس کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی)

اور فرمایا:

﴿ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ، اِنَّهُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ﴾ (الجاثیۃ: 18-19)

(پھر ہم نے آپ کو دین شریعت  کے معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی کی اتباع وپیروی کریں،  اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں جو نہیں جانتے، بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز آپ کے کسی کام نہ آئیں گے اور یقیناً ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ تعالی متقی لوگوں کا دوست ہے)

اور فرمایا:

﴿ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاءَ، قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴾ (الاعراف: 3)

(اس کے پیچھے چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، اور اس کے سوا اور اولیاء وپیشواؤں کے پیچھے مت چلو، بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو)

اور یہ حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہےکہ فرمایا:

’’مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ‘‘([1])

(جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود(ناقابل قبول) ہے)۔

اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت فرمایا ہے۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ‘‘([2])

(بے شک سب سے بہترین بات اللہ تعالی کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ہے، اور سب سے بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے گئے ہوں، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

اور اس معنی کی بہت زیادہ احادیث آئی ہيں۔

پھر ان تقریبات کا بدعت ومنکر ہونے کے ساتھ ساتھ اور یہ کہ اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، اس کے ساتھ یہ یہود ونصاریٰ کی بھی مشابہت ہے کہ وہ سالگرہیں مناتے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے طریقوں اور سنتوں سے ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرمایا:

’’لتتبعن سَنن من كان قبلكم حذو القذة بالقذة حتى لو دخلوا جحر ضب لدخلتموه ، قالوا : يا رسول الله! اليهود والنصارى ؟ قال : فمن؟‘‘([3])

(تم ضرور بالضرور ان لوگوں کے طریقوں پر چلو گے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں جیسا کہ تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کےبل میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی اس میں داخل ہوجاؤ گے، صحابہ رضی اللہ عنہم  نے عرض کی: یارسول اللہ ! کیا اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور کون؟)۔

اسے صحیح بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔۔۔ او رآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا: ’’فَمَنْ‘‘ (تو اور کون؟!) کا مطلب ہے کہ واقعی اس کلام سے یہی لوگ مراد ہیں۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:

’’مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ‘‘([4])

(جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے)۔

اور اس معنی کی احادیث بھی بہت کثیر تعداد میں ہيں اور معلوم ہيں۔

اللہ تعالی سب کو اس کام کی توفیق دے جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔

(شیخ رحمہ اللہ کی ویب سائٹ سے ’’حكم الاحتفال بمرور سنة أو سنتين لولادة الشخص‘‘)

شیخ ابن باز، الالبانی، صالح الفوزان اور فتوی کمیٹی سعودی عرب کے مزید فتاوی جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

 


[1]البخاري الصلح (2550) ، مسلم الأقضية (1718) ، أبو داود السنة (4606) ، ابن ماجه المقدمة (14) ، أحمد (6/256).

 

[2] صحیح مسلم 870۔

 

[3] صحیح بخاری 7320 کے الفاظ ہیں: ’’لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، قَالَ: فَمَنْ‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[4] صحیح سنن ابی داود 4031، صحیح الجامع 2831۔

 

December 3, 2016 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, بدعات, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com