menu close menu

زندگی میں”لاالہ الااللہ“ کامقام اورمرتبہ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The status of "La ilaha illa Allaah" in life – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

زندگی میںلاالہ الااللہ کامقام اورمرتبہ

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: لا إله إلا الله مكانتها، فضلها، وأركانها، شروطها، معناها۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ وہ کلمہ ہےکہ جس کااعلان مسلمان اپنی اذانوں اوراقامتوں میں کرتےہیں، اپنےخطبوں اور اپنے کلام(دروس وغیرہ) میں کرتےہیں، یہ وہ کلمہ ہےکہ جس کےذریعےزمین اورسارےآسمان قائم ہیں، اورجس کےلئےتمام مخلوقات کوپیداکیاگیاہے،اورجس کے ساتھ اللہ تعالی نے تمام رسولوں کوبھیجا، اور اپنی کتابیں نازل فرمائيں، اوراپنی شریعتوں کومشروع فرمایا،اسی کےلئےمیزان قائم کیےجائیں گےاور(اعمال کے) دفاترو دواوین رکھےجائیں گے، اورجنت اورجہنم کابازارسجےگا،اوراسی کےذریعےمخلوق کوتقسیم کیاجائےگامومنین اورکفارمیں، اوریہ ہی منشائےخلق وامر اورثواب وعقاب ہے، اوریہی وہ حق ہےجس کے لئےمخلوق کوپیداکیاگیا،اوراس کے اوراس کےحقوق کےمتعلق ہی سوال اورحساب ہوگا،اوراسی پر ثواب اورعقاب مرتب ہوگا، اسی کےلئےقبلہ مقررکیاگیا اورملت کی بنیادبھی اسی پر ہے،اسی کےلئےتلواریں بےنیام ہوئیں، اوریہ اللہ تعالی کاحق ہےاپنےبندوں پر،یہ کلمۂ اسلام ہے،اوردارالسلام (سلامتی کے گھر جنت) کی چابی ہے، اسی کےمتعلق اولین وآخرین سےسوال ہوگااورکسی بندےسےدوقدم اللہ سبحانہ وتعالی کےسامنےاٹھنےناپائیں گے،یہاں تک کہ وہ اس سے یہ دو سوال نہ کرلیے جائيں:

ماذاکنتم تعبدون

(تم کس کی عبادت کیاکرتےتھے؟)

اور

ماذاأجبتم المرسلین

(رسولوں کوتم نےکیاجواب دیا؟)۔

پہلےکاجواب لاالہ الااللہ  کا معرفت، اقرار و عمل کے اعتبار سے حق ادا کرنے سے بنتا ہے۔

اوردوسرےکاجواب أن محمداً رسول الله کا معرفت، انقیاد واطاعت کے اعتبار سے حق ادا کرنے سے بنتا ہے۔

یہ وہ کلمہ ہےجوکفراوراسلام کےدرمیان فرق کرنےوالاہے، یہ ہی کلمۂ تقویٰ اورعروۃالوثقیٰ (سب  سےمضبوط کڑا)ہے، اوریہ ہی وہ کلمہ ہےجوابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اپنےپیچھےلوگوں کےلیے چھوڑگئے:

﴿وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ﴾ (الزخرف: 28)

(اور انہوں  نے اس  کلمے(توحید) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنادیا، تاکہ وہ رجوع کریں)

یہ ہی وہ  کلمہ ہےجس کہ ساتھ اللہ تعالی نےاپنےلئےگواہی دی اورمخلوقات  میں سےفرشتوں اوراہلِ علم نے۔فرمان باری تعالی ہے:

﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾ (آل عمران: 18)

(گواہی دی اللہ تعالی نےکہ بے شک نہیں ہےکوئی معبودحقیقی مگرصرف وہ اورفرشتوں اوراہل علم نےبھی، وہ عدل و انصاف پرقائم ہے،نہیں ہےکوئی معبودحقیقی سوائے اس کے، وہ غالب ہےحکمت والا ہے)

دیکھیں مجموعۃالتوحید۔

اوریہ ہی کلمۂ اخلاص ،شہادتِ حق ودعوت حق اورشرک سےبرأت ہے، اوراسی کےلئےمخلوق  کوپیداکیاگیا۔فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ﴾ (الذاریات: 56)

( میں نےنہیں پیداکیاجن وانس کومگراسی لئےکہ وہ میری عبادات کریں)

اسی کےلئےرسولوں کوبھیجاگیااورکتابیں نازل کی گئیں:

﴿وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ﴾  (الانبیاء: 25)

(اورہم نےنہیں بھیجاآپ سےپہلےکسی رسول کومگراس کی جانب یہ ہی وحی کی کہ بے شک نہیں ہےکوئی معبودحقیقی سوائےمیرے، پس تم میری ہی عبادت کرنا)

اوراللہ تعالی کایہ فرمان:

﴿يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ﴾ (النحل: 2)

 (وہ فرشتوں کو روح (وحی) کےساتھ اپنےحکم سےاپنےبندوں میں سےجس پرچاہتاہےنازل فرماتاہے،کہ خبردارکردوکہ بے شک حقیقت یہ ہےکہ میرےسواکوئی عبادت کےلائق نہیں، سومجھ ہی سے ڈرو)

امام ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتےہیں کہ:

اللہ تعالی نےاپنےبندوں میں سےکسی بندےپرکوئی نعمت اس سے بڑھ کر نہیں کی کہ انہیں لاالہ الا اللہ کی معرفت و پہچان کروائی، اوربے شک جولاالہ الااللہ ہے یہ اہل جنت کےلئےایساہےجیسےاہل دنیاکے لئےٹھنڈا پانی ہوتاہے۔

پس جس نےیہ کہہ دیا تواس کے جان اورمال محفوظ ہوگئے،اورجس نےاس کا انکارکیاتواس کی جان اورمال رائیگاں ہے۔چناچہ الصحیح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ فرماتےہیں:

’’مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ‘‘([1])

(جس شخص نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا اور اللہ تعالی کے سوا جن کی بھی عبادت کی جاتی ہےان سے کفر (انکار) کیا تو اس کا مال اور خون حرام ہوگیا اور اس کا (باقی) حساب اللہ تعالی کے سپرد ہے)۔

تویہ وہ اوّل چیزہےجس کامطالبہ کفارسےکیاجاتاہےجب اسلام کی طرف  انہیں  دعوت  دی جاتی ۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےجب معاذبن جبل رضی اللہ عنہ  کویمن کی جانب (دعوت کی غرض سے)  ارسال فرمایا، تو  انہيں یہی ہدایت فرمائیں:

’’إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘([2])

(یقیناً تم  اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہیں،وہ  سب سے پہلی بات جس کی طرف تم انہيں دعوت دو وہ  لا الہ الا اللہ کی شہادت (گواہی ) ہو) ۔

اس سےمعلوم ہواآپ کوکہ دین میں اس کاکیامقام اورمرتبہ ہے،اورزندگی میں اس کی کیااہمیت ہے، اور یہ بندوں پرسب سےپہلاواجب ہے،کیوں کہ یہ وہ اساس اوربنیادہےجس پرتمام اعمال کی عمارت قائم ہوتی ہے۔

 


[1] أخرجه مسلم  23، وأحمد 6/394.

[2] أخرجه البخاري 1389، ومسلم 19، والترمذي 625، والنسائي 2435، وأبوداود 1584، وإبن ماجه 1783، وأحمد 1/233، والدارمي 1614.

January 4, 2018 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, توحید, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com