menu close menu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم کا وجوب – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The obligation of love and respect for Rasoolullaah (SalAllaho alayhi wa sallam) – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و تعظیم کا وجوب   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

مصدر: عقیدۂ توحید اور اس کے منافی امور سے ماخوذ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

بندہ پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی محبت ضروری ہے، یہ عبادت کی سب سے عظیم قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ﴾      (البقرۃ:165)

(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کا منعمِ حقیقی ہے۔ جس نے ساری ظاہری و باطنی نعمتوں سے بندوں کو نوازا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے محبت کے بعد اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت واجب ہے۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، اس کی معرفت سے ہمکنار کیا، اس کی شریعت کو پہنچایا اور اس کے احکامات کو بیان فرمایاہے۔ آج مسلمانوں کو جو دنیاوآخرت کی بھلائی حاصل ہے وہ اسی رسول ِرحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت حاصل ہے۔کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ایک حدیث کے الفاظ ہیں:

’’ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ‘‘([1])

(جس کے اندر تین چیزیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا ، وہ یہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نزدیک دوسری ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں اور کسی شخص سے محبت کرتا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کرتا ہو اور کفر کی طرف لوٹنا اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے نکالا ہے ایسا ہی ناپسند کرتا ہو جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے)۔

اس حدیث سے پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع ہے اور اس کے ساتھ لازم ہے اور رتبہ کے اعتبار سے دوسرے درجہ پر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دیگر تمام محبوب چیزوں سے آپ کی محبت کو مقدم رکھنے سے متعلق حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’لَايُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘([2])

(تم میں سے کوئی اس وقت تک پکا مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی اولاد اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)۔

بلکہ ایک حدیث میں تو آیا ہے کہ ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے نفس سے زیادہ محبوب رکھے۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ:

’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: الْآنَ يَا عُمَرُ‘‘([3])

(اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ میرے نزدیک دنیا کی ہر چیز سے محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میں تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں بات نہیں بنے گی۔ یہ سن کر  سیدنا  عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اگر ایسی بات ہے تو) یقیناً اللہ کی قسم! اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب صحیح ہے اے عمر)۔

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے علاوہ دنیا کی ہر چیز کی محبت پر مقدم ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کو لازم ہے([4])، اس لئے یہ محبت بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے اور اسی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت مومن کے دل میں جتنی بڑھے گی اتنی ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بڑھے گی اور اللہ تعالیٰ کی محبت اگر گھٹے گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بھی گھٹے گی، اور جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو گا تو اس سے  اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھی جائے گی۔

اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھے جانے کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان کی (بنا غلو کے) تعظیم و توقیر میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور انہی کی اتباع کریں ان کے قول کو ہر ایک کے قول سے مقدم رکھیں اور ان کی سنت کی بہت زیادہ تعظیم کریں (اور اس پر عمل کریں)۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’انسان سے محبت اور اس کی تعظیم اگر اللہ سے محبت اور اس کی تعظیم کے تابع ہے تو وہ جائز ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ کی تعظیم ، آپ کی یہ محبت و تعظیم دراصل آپ کو رسول بنا کر بھیجنے والے سے محبت اور اس کی تعظیم کی تکمیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اس لئے کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اللہ تعالی کو محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم اس لئے کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ عزت ومرتبہ عطاء فرمایا ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اللہ تعالیٰ سے محبت کا ایک جزء ہے یا اللہ تعالیٰ سے محبت کا نتیجہ ہے۔

مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت میں اتنی محبت و رعب ڈال دیا تھا ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان کسی انسان کے لئے اتنا محبوب، موقر و بارعب نہیں ہے جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے نزدیک محبوب و موقر و بارعب تھے۔

سیدنا  عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد کہا تھا کہ قبولِ اسلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مبغوض شخص میرے نزدیک کوئی نہیں تھا، لیکن اب قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبوب ترین اور موقر ترین شخص میرے نزدیک کوئی نہیں، اگر مجھ سے آپ کا حلیہ بیان کرنے کو کہا جائے تو میں کچھ نہیں بول سکتا اس لئے کہ آپ کی توقیر و اجلال میں کبھی آپ کو جی بھر کے نہیں دیکھ سکا۔

سیدناعروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قریش سے کہا تھا، اے لوگو! اللہ کی قسم میں قیصرو کسریٰ اور دیگر شاہانِ ممالک کے دربار میں گیا ہوں لیکن کسی کو بھی ایسا نہیں پایا کہ اس کے احباب و اصحاب اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی تعظیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احباب و اصحاب ان کی کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ان کی تعظیم و تکریم اور اجلال و رعب میں ان سے نظر نہیں ملاتے، جب وہ تھوکتے ہیں تو کسی صحابی کی ہتھیلی ہی میں پڑتا ہے جسے وہ اپنے چہرے اور سینے پر مل لیتے ہیں اور آپ جب وضوء  کرتے ہیں تو وہ وضو کے پانی کے لئے آپس میں لڑ پڑتے ہیں‘‘([5])۔

 


[1]البخاري الإيمان (16) ، مسلم الإيمان (43) ، الترمذي الإيمان (2624) ، النسائي الإيمان وشرائعه (4988) ، ابن ماجه الفتن (4033).

 

 

[2]البخاري الإيمان (15) ، مسلم الإيمان (44) ، النسائي الإيمان وشرائعه (5013) ، ابن ماجه المقدمة (67)، الدارمي الرقاق (2741).

 

 

[3]البخاري الأيمان والنذور (6257) ، أحمد (4/336).

 

 

[4]جیسا کہ ارشاد ہوا: ﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ (آل عمران:31) ((اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا) (توحید خالص ڈام کام)

 

 

[5] جلاء الافہام:120، 121۔

 

 

December 19, 2015 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com