menu close menu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں افراط و تفریط کی ممانعت – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Prohibition of exaggeration and neglectfulness in praising Rasoolullaah صلي الله عليه وآله وسلم – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں افراط و تفریط کی ممانعت   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

مصدر: عقیدۂ توحید اور اس کے منافی امور سے ماخوذ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

غلو کہتے ہیں:

’’تجاوز الحد ، يُقالُ : غَلا غُلُوًّا ، إذا تجاوز الحد في القدر‘‘

(حد سے تجاوز کرجانے کو، کوئی شخص جب اندازہ میں حد سے آگے بڑھ جاتا ہے تو اس کے لئے غلو کا لفظ استعمال ہوتا ہے)۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ﴾   (النساء:171)

(اپنے دین(کی بات) میں حد سے نہ بڑھو)

اور اطراء کہتے ہیں:

’’مجاوزة الحدِّ في المدح ، والكذب فيه‘‘

( کسی کی تعریف میں حد سے آگے بڑھ جانے کو اور اس میں جھوٹ ملانے کو)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی قدرو منزلت کے تعیین میں حد سے تجاوز ہو جائے۔ اس طور پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عبدیت و رسالت کے رتبے سے آگے بڑھا دیا جائے اور کچھ الٰہی خصائص و صفات آپ کی طرف منسوب کر دیئے جائیں۔ مثلاً آپ کو مدد کے لئے پکارا جائے، اور اللہ تعالیٰ کے بجائے  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ (فریاد) کی جائے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی قسم کھائی جائے وغیرہ۔

اسی طرح آپ کے حق میں مبالغہ سے مراد یہ ہے کہ آپ کی مدح و توصیف میں اضافہ کر دیا جائے، اس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود روک دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَم ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُه‘‘([1])

(میری حد سے زیادہ تعریف نہ کیا کرو جیسا کہ نصاری نے ابن مریم علیہما الصلاۃ والسلام کے بارے میں کہا۔  میں تو بس ایک بندہ ہی ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو)۔

یعنی باطل اوصاف سے میری تعریف نہ کرنا اور میری تعریف میں غلو نہ کرنا جیسا کہ نصاری نے سیدنا عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام کی تعریف میں کیا ہے کہ ان کو الوہیت کے درجہ تک پہنچا دیا، دیکھو تم میری اس طرح تعریف کرو جس طرح کہ میرے رب نے میری تعریف کی ہے۔ لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول کہا کرو، یہی وجہ ہے کہ ایک صحابی نے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ:

’’أَنْتَ سَيِّدُنَا، فَقَالَ: السَّيِّدُ اللَّهُ‘‘

( آپ ہمارے سید (سردار) ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے)

اور جب انہوں نے کہا کہ:

’’أَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا، فَقَالَ: قُولُوا بِقَوْلِكُمْ أَوْ بَعْضِ قَوْلِكُمْ، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ‘‘([2])

(ہم میں سے افضل اور سب سے بڑے ہیں درجے کے اعتبار سے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم عام طور پر کہتے ہو ویسے ہی کہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس معاملہ میں شیطان تمہیں اپنا وکیل بنالے)۔

اسی طرح کچھ لوگوں نے آپ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

’’يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا‘‘

(اے ہم میں کے سب سے بہتر اور ہم میں کے سب سے بہتر کے بیٹے اور ہمارے سردار و ہمارے سردار کے بیٹے !)

یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلا يَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ،أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ مَا أَحَبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ‘‘([3])

(اے لوگو! جو تم عام طور پر میرے متعلق کہتے ہو وہی کہو کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں بہکا دے، میں محمد ہوں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے اپنی اس قدرو منزلت سے آگے بڑھا دو، جس پر اللہ رب العزت نے مجھے رکھا ہے)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے ہمارے سردار، ہم میں کے سب سے اچھے، ہم میں کے سب سے افضل و اعظم جیسے الفاظ و تعریف کو نا پسند فرمایا ہے، حالانکہ واقعتاً  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب سے افضل و اشرف ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایسا کہنے سے صرف اس لئے روک دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں لو گ غلو و مبالغہ میں نہ پڑجائیں اور توحید کی حفاظت ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو صرف دو صفتوں سے متصف کرنے کی ہدایت کی ہے، جو دراصل بندہ کے لئے عبدیت کا سب سے بڑا رتبہ ہے اور جن میں غلو و مبالغہ نہیں اور نہ ہی عقیدہ کے لئے کوئی خطرہ ،وہ دو صفتیں ہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ اور اپنی اس قدرو منزلت سے جس میں رب العالمین نے آپ کو رکھا ہے اونچا کرنے کو نا پسند فرمایا ہے۔ آج بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ، کھلے عام آپ کو پکارتے ہیں آپ سے استغاثہ کرتے ہیں،  آپ کی قسم کھاتے  ہیں اور آپ سے وہ چیزیں مانگتے ہیں جو صرف اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے۔

اسی طرح کی مخالفتیں میلادوں ،نعتیہ کلاموں اور نظموں میں خوب خوب ہو رہی ہیں، اس طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ  نے اس حقیقت کو اپنے ایک قصیدہ نونیہ میں یوں بیان کیا:

للـــه حـــق لا يكــون لغــيره       ولعبـــده حــق همــا حقــان
لا تجعلوا الحقين حقًّا واحدًا       مـــن غــير تميــيز ولا فرقـان

(اللہ تعالیٰ کا ایک حق ہے جو کسی دوسرے کا نہیں ہو سکتا اور اس کے بندے کا ایک حق ہے یہ دو علیحدہ حق ہوئے،  ان دونوں حقوق کو بغیر امتیازودلیل کے ایک حق نہ بناؤ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدرو منزلت کا بیان

اللہ تعالیٰ نے آپ کی جیسی تعریف کی ہے اور آپ کو جس قدرو منزلت سے نوازا ہے اتنی تعریف کرنے اور اس رتبہ کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے رتبے اور عالی مقام سے نوازا ہے، آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تمام مخلوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی الاطلاق سب سے اچھے  اورسب سے افضل ہیں۔ آپ تمام انسانوں کے لئے رسول ہیں، جن و انس کے ہر فرد کے لئے آپ نبی و رسول بناکر بھیجے گئے ہیں، آپ رسولوں میں بھی سب سے افضل ہیں، خاتم النبیین ہیں، آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے سینہ کو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا تھا،  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے بلند فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی نافرمانی کرنے والوں کے لئے ہر طرح کی ذلت و رسوائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب ِمقامِ محمود ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿عَسَی أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوداً﴾  (الاسراء:79)

(قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام ِمحمودپر فائز کرے)

مقامِ محمود سے مراد وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے دن لوگوں کی شفاعت کے لئے کھڑا کرے گا تاکہ انہیں ان کا رب اس موقع کی پریشانی و شدت سے آرام پہنچائے، یہ بہت ہی خاص مقام ہے جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو عطاء ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کو بھی یہ مقام عطاء   نہ ہوگا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے اور اللہ تعالی کا سب سے زیادہ تقوی اختیار کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے لوگوں کو روک دیا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز پست رکھتے ہوئے۔

﴿ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُولَئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ  ﴾ (الحجرات:2-5)

(اے اہل ایمان!اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو، اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بولتے ہو(اس طرح) ان کے روبرو  زور سے نہ بولا کرو، (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو، جو لوگ اللہ کے پیغمبر کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں اللہ نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزمالئے ہیں ،ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں اور وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے)

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ وہ آیات کریمہ ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توقیر و تعظیم اور اجلال و اکرام کا معاملہ کرنے کے آداب سکھائے ہیں، ان کو بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ سے زیادہ اپنی آواز کو بلند نہ کریں، نام لے کر آپ کو کوئی شخص نہ پکارے، جیسا کہ عام لوگ پکارے جاتے ہیں، لہٰذا یا محمد(اے محمد) نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ نبوت و رسالت کے واسطے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پکارے جائیں گے، لہٰذا کہا جائے گا اے اللہ کے رسول، اے اللہ کے نبی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾  (النور:63)

(مومنو! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو)

خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو ’’اے نبی !اے رسول!‘‘ کے القاب سے پکارا ہے، اور اللہ تعالیٰ اور فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آپ پر درودو سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا﴾  (الاحزاب:56)

 (بے شک اللہ تعالی اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درودبھیجتے ہیں ۔مومنو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو)

لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف کے لئے کوئی وقت یا کوئی کیفیت کتاب و سنت کی صحیح دلیل کے بغیر مخصوص نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا آج جو لوگ میلا دالنبی کے جشن و جلوس کا اہتمام کرتے ہیں اور اس تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کا دن سمجھتے ہیں، یہ بہت ہی نا پسندیدہ بدعت ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا تقاضہ ہے کہ آپ کی سنت کی تعظیم و تکریم کی جائے اس پر عمل کے وجوب کا اعتقاد رکھا جائے، اور یہ کہ سنتِ رسول قرآن مجید کے بعد تعظیم و عمل کے اعتبار سے پہلے درجہ پر ہے اس لئے کہ سنت بھی اللہ تعالیٰ کی وحی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾  (النجم:3-4)

(اور وہ (رسول)  خواہشِ نفس سے بات نہیں فرماتے بلکہ وہ تو وحی ِالہی ہوتی ہے جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے)

لہٰذا احادیث رسول میں شک پیدا کرنا اس کی شان کو کم کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے۔ اس کے متن و سند اور طرق کی تصحیح و تضعیف میں کلام ،معنی کی تعیین و تشریح بہت ہی احتیاط ،علم و تحفظ کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ آج بے شمار جہلاء خاص طور پر تعلیم کے ابتدائی مراحل کے نوجوان سنتِ رسول پر زبان درازی کرنے لگے ہیں۔ احادیث کی تصحیح و تضعیف شروع کر دی ہے، اور صرف مطالعہ کے بل بوتے پر راویوں پر جرح کرنے لگے ہیں، یہ خود ان کے لئے اور امت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے، انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے اور اپنی حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

 


[1]البخاري أحاديث الأنبياء (3261).

 

 

[2]أبو داود الأدب (4806) ، أحمد (4/25).

 

 

 [3]أحمد (3/153).

 

 

December 20, 2015 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com