menu close menu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف – شیخ محمد ناصر الدین البانی

The noble lineage of prophet Muhammad (SalAllaaho alaihi wasallam) – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب شریف   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: صحيح السيرة النبوية (ما صح من سيرة رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذكر أيامه وغزواته وسراياه والوفود إليه- للحافظ إبن کثیر)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب شریف اور عالی رتبہ اصل کا بیان

فرمان الہی ہے:

﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾ (الانعام: 124)

(اللہ  تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے)

اور جب روم کے بادشاہ ہرقل نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کے متعلق سوالات کیے تو کہا کہ:

’’كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟‘‘

(ان کا تمہارے درمیان نسب کیسا ہے؟)

انہوں نے جواب دیا:

’’هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ‘‘

(وہ ہمارے درمیان بڑے حسب نسب والے ہیں)۔

اس نے کہا:

’’وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أنْسَابِ قَوْمِهَا‘‘

(اسی طرح سے رسول اپنی قوم کے نسب میں سے ہوتا ہے)۔

یعنی وہ حسب نسب کے اعتبار سے بڑے معزز اور قبیلے کے اعتبار سے بہت کثیر ہوتے ہیں (صلوات الله عليهم أجمعين)۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید ولد آدم ہیں اور دنیا وآخرت میں ان کے لیے باعث فخر ہیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوالقاسم، ابو ابراہیم، محمد، احمد، الماحی (جس سے اللہ تعالی کفر کو مٹا دیتا ہے)، العاقب (جس کے بعد کوئی نبی نہیں)، الحاشر (کہ جن کے قدم مبارک ([1])پر لوگوں کا حشر ہوگا)، المقفی، نبی الرحمۃ، نبی التوبۃ، نبی الملحمۃ، خاتم النبیین اور عبداللہ ہیں([2])۔

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتےہیں: بعض علماء نے ان القاب میں اضافہ فرمایا ہے اور بتایا کہ: اللہ تعالی نے آپ کو قرآن کریم میں رسول، نبی، اُمِّی، شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ باذنہ، سراج منیر، رؤوف ورحیم، مذکر نام دیا اور آپ کو رحمت، نعمت اور ہادی بنایا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن عبداللہ بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب ابن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان جو کہ لامحالہ سیدنا اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کی اولاد میں سے ہیں البتہ اس میں اختلاف ہے کہ ان کے درمیان کتنے آباء پڑتے ہيں۔

اور یہ جو نسب اس طور پر بیان ہوا ہے اس میں علماء کرام میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا([3])۔ پس عرب حجاز کے تمام قبائل اس نسب کی جانب ہی منسوب ہوتے ہیں۔ اسی لیے سیدنا ابن عباس w وغیرہ نے اس فرمان الہی کی تفسیر میں فرمایا: ﴿قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى﴾ (الشوری: 23) (تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا سوائے محبت رشتہ داری کی) کہ قریش کے قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ ایسا نہیں تھا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب نہ ملتا ہو([4])۔

اسی طرح سے مرسل اور موقوف دونوں طور پر روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ، وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي،وَلَمْ يُصِبْنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ‘‘([5])

(سیدنا آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے لے کر میرے پورے نسب کے اعتبار سے میں نکاح کے ذریعے آیا ہوں بدکاری کے ذریعے نہیں یہاں تک کہ میرے ماں باپ نے مجھے پیدا کیا، مجھے جاہلیت کی گندگی میں سے کوئی چیز نہیں پہنچی)۔

اسے ابن عدی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کی مرسل سند جید ہے۔

صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ‘‘([6])

(میں بنی آدم کی بہترین نسل سے نسب کے اعتبار سے نسل در نسل چلتا آیا ہوں یہاں تک کہ میں اس نسل یا زمانے میں پیدا ہوا جس میں میں اب ہوں)۔

اور صحیح مسلم میں ہےسیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ‘‘([7])

(اللہ تعالی نے ولد ابراہیم میں سے اسماعیل کو چنا، پھر ولد اسماعیل میں سے بنی کنانہ کو چنا، پھر بنی کنانہ میں سے قریش کو چنا، پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا، پھر مجھے بنی ہاشم میں سے چنا)۔

امام احمد رحمہ اللہ نے المطلب بن ابی وداعہ سے روایت کیا انہیں سیدنا العباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:

’’بَلَغَهُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَعْضُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:  مَنْ أَنَا، قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ خَلْقِهِ، وَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ، وَخَلَقَ الْقَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ، وَجَعَلَهُمْ بُيُوتًا، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا، وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا‘‘([8])

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعض باتیں پہنچی کہ لوگ (ایسا ایسا ) کہتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے اور پوچھا: میں کون ہوں؟ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں۔ اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے اپنی بہترین مخلوق میں رکھا۔ اور انہیں دو فرقوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین فرقے میں رکھا۔ اور انہيں قبائل میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین قبیلے میں رکھا۔ اور ان کے گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانے والا بنایا۔ پس میں تم میں سےگھرانے کے اعتبار سے اور شخصیت کے اعتبار سے بہترین ہوں)۔ (صلوات الله وسلامه عليه دائما أبدا إلى يوم الدين)۔

اور الصحیح (بخاری) میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ‘‘([9])

(میں بروز قیامت ولد آدم کا سردار ہوں کوئی فخر نہیں(یعنی بطور فخر نہیں بلکہ اللہ کے فضل کے بیان، تحدیث نعمت اور اللہ کے حکم سے ایسا کہہ رہا ہوں))۔

 


[1] یعنی نقش قدم پر۔

 

[2] میں یہ کہتا ہوں کہ یہ دو آخری اسماء اور احمد قرآن کریم میں ہیں۔ اور یہ تمام مختلف احادیث میں آئےہیں جن میں سے بعض ’’تخریخ الطحاویۃ‘‘ ص 292، ’’الاحادیث الصحیحۃ‘‘ (1571، 1628) اور ’’الروض النضیر‘‘ (401، 1017)میں ہیں۔

 

[3] میں یہ کہتا ہوں: اسی لیے میں اسے اس ’’الصحیح‘‘ میں لایا ہوں اس منہج کا التزام کرتے ہوئے جو میں نے مقرر کیا تھا، جیسا کہ میں نے مقدمے میں اس کی وضاحت کی ہے۔ اس کے لیے شیخ ابو زہرہ نے اپنی کتاب (1/87) میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عدنان تک پہنچتے تھے تو رک جاتے تھے۔ پھر کہتے نسب نگاروں نے جھوٹ بولا، فرمان الہی ہے: ﴿وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا﴾ (الفرقان: 38) (ان کے مابین بہت سی نسلیں گزری ہیں))۔  ان پر یہ بات مخفی رہی کہ یہ ایک موضوع حدیث ہے۔ اس میں ایک کذاب ہے جو اس بات کا خود اعتراف کرتا ہے جیسا کہ ’’الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ‘‘ (111) میں اس کی وضاحت ہے۔

 

[4] رواہ البخاری فی ’’التفسیر/ الشوری‘‘۔

 

[5] میں کہتا ہوں کہ: میں نے اس کے طرق پر ’’ارواء الغلیل‘‘ (1972) میں کلام کیا ہے یہ حدیث اپنے مجموعی طرق کی بنا پر حسن کے درجے پر پہنچ جاتی ہے، اسی لیے میں اسے ’’صحیح الجامع الصغیر‘‘ (3218-3220) میں لایا ہوں۔

 

[6] یہ ’’الاحادیث الصحیحۃ‘‘ (809) میں بھی مخرج ہے۔

 

[7] سابقہ مصدر کے (302) میں بھی یہ حدیث مخرج ہے۔ اس کا پہلا جملہ صحیح مسلم میں نہیں ہے بلکہ یہ ترمذی وغیرہ میں ضعیف سند کے ساتھ موجود ہے۔ اس کی جانب رجوع کیا جائے۔ لہذا اس کی جانب اسے منسوب کرنے میں جو بات ہے کسی پر مخفی نہيں، اگر چہ ابو زہرہ نے اپنی کتاب میں اس کی تقلید کی ہے (1/81)۔

 

[8] اسے ’’تخریج المشکوۃ‘‘ (5757) اور ’’صحیح الجامع‘‘ (1485) میں دیکھیں ۔

 

[9] بلاشبہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے لیکن اسے ان تمام الفاظ کے ساتھ ’’الصحیح‘‘ کی طرف منسوب کرنے میں نظر ہے۔ یہاں الصحیح سے مراد صحیح مسلم ہے۔ کیونکہ اس میں یہ حدیث (7/59) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بنا اس زیادت کے مرفوعاً مروی ہے کہ: ’’ولا فخر‘‘ اسی طرح کے شیخین کے یہاں انہی سے ان الفاظ کے ساتھ روایت ہے کہ: ’’انا سید الناس یوم القیامۃ۔۔۔‘‘ طویل حدیث الشفاعۃ کے تحت بیان ہوئی ہے۔ اور یہ مخرج ہے ’’ظلال الجنۃ فی تخریج السنۃ‘‘ (811)۔ جبکہ اس زیادت کو ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جو کہ ’’الصحیحۃ‘‘ (1571) میں مخرج ہے۔

 

December 6, 2016 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, سیرت, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com