menu close menu

ذبح کرتے وقت پڑھی جانے والی دعاء کا معنی – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Meaning of the Dua that is pronounced whilst slaughtering – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

ذبح کرنے کی دعاء کا معنی

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الشرح الممتع على زاد المستقنِع/ للإمام العثيمين/كتاب المناسك

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: (قربانی کے وقت) ہماری اس دعاء ’’اللَّهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ‘‘  کا کیا معنی؟

 

جواب: ’’هَذَا‘‘ (یہ) یہاں ذبح ہونے یا نحر ہونے والے جانور کی طرف اشارہ ہے۔

 

’’مِنْكَ‘‘ (تیری طرف سے ہے) یعنی  تیری عطاء ورزق ہے۔

 

’’لَكَ‘‘ (تیرے لیے ہے) یعنی عبادتاًو شرعاًاور اخلاص وملکیت کے اعتبار سے تیرے لیے ہے۔

 

یعنی یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے  کہ اسی نے یہ نعمت ہمیں عطاء فرمائی۔ اور وہی ہے کہ جس نے اس کے ذبح یا نحر کے ذریعہ ہمیں اپنی عبادت بجالانے کا حکم فرمایا۔ پس یہ تقدیر وشریعت دونوں کے اعتبار سے فضل الہی ٹھہرا۔ کیونکہ اگر اللہ تعالی اس جانور کے ذبح یا نحر کرنے کو مشروع نہ فرماتا تو اسے ذبح کرنے یا نحر کرنےکےذریعے اس کا تقرب حاصل کرنا بدعت کہلاتا۔

September 23, 2015 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com