menu close menu

دیوار پر قرآنی آیات،اسمائے الہی واسمائے نبی آویزاں کرنا – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Hanging Quranic Verses, Names of Allaah and Rasoolullaah on the walls? – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

دیوار پر قرآنی آیات،اسمائے الہی واسمائے نبی آویزاں کرنا   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوی نور علی الدرب آرٹیکل 653۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: یہ خط موصول ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا خط مخلصین جناب عبداللہ بن محمد احمد (الریاض)، منظور احمد قریشی اور احمد حسین کی طرف سے ہے، یہ بھائی کہتے ہیں کہ ایسے کارڈ ملتے ہیں کہ جن پر اللہ کا اسم جلالہ لکھا ہوتا ہے  جیسا کہ اس خط کی ایک جانب لکھا ہوا ہے۔ اوراس خط میں غلاف کعبہ کی بھی ایک تصویر ہے کہ جس پر کتاب اللہ کی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ اسے زمین پر پھینک دیتے ہيں جو اسلام کو جانتے ہی نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو بس اشارے کے لیے ہے آپ اس کی خریدوفروخت کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ یا یہ کس کی ذمہ داری ہے؟

جواب: الحمدللہ یہ مسئلہ مختلف طریقوں سے لوگوں میں بہت پھیل گیاہے۔ جن میں سے کچھ ایسے کارڈز یا فریم ہوتے ہیں کہ جن میں اللہ تعالی کا اسم مبارک ہوتا ہے  اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں اللہ کے نام کے ساتھ دوسری جانب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا اسم گرامی لکھا ہوتا ہے۔پھر ان فریمز کودیوار پر یا بورڈوغیرہ  پر بالکل متوازی طور پر ساتھ ساتھ آویزاں کردیا جاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے اس تصویر کے بارے میں بات کرتے ہیں:

اولاً: فقط اللہ تعالی کا نام یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لٹکانے کا آخر کیا فائدہ ہے؟ اگر انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس سے حصول برکت کا فائدہ ہوگا ۔ تو جاننا چاہیے کہ برکت اس قسم کے عمل سے حاصل نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ تو کوئی مفید جملہ نہیں کہ جس سے ایسا معنی کشید کیا جاسکے جو حصول برکت کا سبب ہو([1]

دوسری بات یہ کہ اس طرح سے برکت حاصل کرنا صحیح نہیں۔کیونکہ اسمائے الہی سے تبرک حاصل کرنا اسی طور پر ممکن ہے کہ جو قرآن وسنت میں وارد ہو۔ کیونکہ یہ ایک عبادت ہے اور عبادت کی بنیاد توقیف (یعنی کتاب وسنت کے دلائل) ہے۔

پھر جو صورت ہم نے ابھی بیان کی کہ ایک طرف اللہ تعالی کا اسم جلالہ ہوتا ہے تو دوسری طرف بلکل متوازی اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا ہوتا ہے، اس میں اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے  مابین ایک قسم  کی تشریک وموازنت پائی جاتی ہے۔ جبکہ یہ بات جائز نہیں کیونکہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو کہا کہ:

’’ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ‘‘

 (جو اللہ تعالی اور آپ چاہیں)۔

 اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اسے ٹوکا اور فرمایا:

’’أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا، بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ‘‘ ([2])

(کیا تو نے مجھے اللہ تعالی کا ساجھی بنالیا ہے، بلکہ کہہ جو اکیلا اللہ تعالی چاہے)۔

پھر یہ بات بھی ہے کہ برکت کے لیے محض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لکھ دینا  جائز نہیں، بلکہ برکت تو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے التزام اور اس پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔

لہذا یہ تصویر جو لوگ کارڈز میں استعمال کرتے ہيں واضح ہوا کہ اس میں شرعی مخالفت پائی جاتی ہے۔

جبکہ جہاں تک معاملہ ہے دوسری تصویر کا جس کی جانب سائل بھائی نے اشارہ کیا تو اس کا جواز بھی محل نظر ہے کیونکہ قرآن کریم کو کاغذ یا بورڈ پر لکھنے کے بارے میں اصل یہی ہے کہ یہ جائز ہے۔لیکن اسے گھروں کی دیواروں پر لٹکانے کے بارے میں سلف صالحین رحمہم اللہ سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اور نا ہی تابعین عظام رحمہم اللہ سے۔  اور میں باقاعدہ تحدید کے ساتھ تو نہیں جانتا کہ یہ بدعت کب ایجاد ہوئی مگر درحقیقت یہ ایک بدعت ہی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اس لیے نازل ہوا ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے نہ کے اس کی دیوار وغیرہ پر تعلیق کی جائے  یعنی لٹکایاجائے۔

پھر اس کا دیوار پر لٹکانا اس میں اس مفسدے کے ساتھ کے یہ سلف صالحین سے وارد نہیں ایک اور مفسدہ ہے کہ انسان اسے لٹکا کر اسی پر اعتماد کرکے بیٹھ جاتا ہے اور سمجھتا ہے یہ حفاظت کا سبب ہے۔ جس کی وجہ سے وہ حقیقی اور صحیح طور پر حفاظت کے لیے جو اذکار ہیں ان سے بے نیاز وبےپراوہ ہوجاتا ہےجو کہ زبان سے تلاوت کرنا ہے۔ کیونکہ یہی نافع حفاظت کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  آیۃ الکرسی کے بارے میں فرمایا:

’’من قرأها في ليلة لم يزل عليه من الله حافظ ولا يقربه شيطان حتى يصبح‘‘ ([3])

(جو اسے رات کو پڑھے گا تو  اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہوجائے گااور شیطان اس کے قریب نہیں آسکے گا یہاں تک کہ صبح ہوجائے)۔

 اب اگر انسان کے اندر یہ شعور پیدا ہوجائے کہ ان آیات کو دیوار پر لٹکانے سے اس کی حفاظت ہوگی تو وہ محسوس کرے گا کہ اسے اب ان کی تلاوت کی ضرورت نہیں۔

پھر اس میں یہ عیب بھی ہے کہ اس میں ایک قسم کا اللہ تعالی کی آیتوں کا مذاق بنانابھی ہے۔ کیونکہ ایسی مجالس غالباً حرام اقوال جیسے غیبت، گالم گلوچ یا حرام کاموں سے پاک نہیں ہوتیں بلکہ یہ تک ہوتا ہے کہ ایسی مجالس میں آلات موسیقی موجود ہوتے ہیں کہ جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے([4])۔ پس یہ سب باتیں موجود ہوتی ہیں اور لوگوں کے سروں پر قرآنی آیات معلق ہوتی ہیں تو گویا کہ یہ اس کا مذاق اڑانا ہوا، کیونکہ قرآن کریم نے تو ان اشیاء کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ جو آیت اوپر لٹکی ہے وہ اس ہونے والی برائی سے رکنے کے متعلق ہو یا کوئی بھی قرآنی آیت ہو۔ یہ بلاشبہ ایک طرح کا اللہ تعالی کی آیات کے ساتھ تمسخر کرنا ہوا۔

اسی لیے میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ ایسی تعلیقات کے استعمال سے دور رہیں  چاہے وہ اسمائے الہی ہوں، یا اسمائے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں یا پھر آیات قرآنی ہوں۔ بلکہ وہی چیز استعمال کریں جو ان کے سلف صالحین نے استعمال کی تھیں کہ اسی میں خیروبرکت ہے۔

اور وہ دوسری بات جس کی طرف بھائی نے اشارہ کیا کہ ان کارڈز کو جن پر قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں بازاروں میں، کوڑا دانوں میں اور جہاں آنے جانے والے لوگوں کے قدم پڑیں وہاں پھینک دیتے ہیں تو یہ بالکل ناجائز ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن کریم کی اہانت آمیزی ہے۔ لیکن اس کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ سے اسے پھینکا ہے جبکہ اسے فروخت کرنے والےکو اگر یہ معلوم ہے کہ غالباً اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے تو یہ اس کی خریدوفروخت اور تجارت کی حرمت کا سبب ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک شرعی قاعدہ ہے کہ اگر کوئی عقد (کاروباری معاملہ) لازمی یا غالباً وسیلہ ہو کسی حرام چیز کا تو ایسا عقد بھی حرام ہوجاتا ہے کیونکہ یہ برائی اور گناہ کے کاموں میں تعاون کے باب میں سے ہے۔ میرا خیال ہے اس سوال کا جواب ختم ہوا۔

جہاں تک تعلق ہے مریض کے گلے میں شفاء کی غرض سے قرآنی آیات کی تعلیق (تعویذ) کا چاہے مرض جسمانی ہو یا نفسیاتی تو یہ مسئلہ سلف اور خلف میں مختلف فیہ رہا ہے۔ کچھ علماء اس کی اجازت دیتے ہیں کیونکہ اس سے مریض کو نفسیاتی طور پر راحت ملتی ہے کہ اس نے کلام اللہ کو پہنا ہوا ہے ۔ اور کسی مریض کا ایسی چیز کا شعور کرنے یا اپنے پاس محسوس کرنے کی اپنی تاثیر ہوتی ہے مرض کو زیادہ یا کم یا بالکل ختم کرنے میں، جیسا کہ یہ بات معلوم ہے۔

اور علماء میں سے بعض نے اسے منع فرمایا ہے کیونکہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاء کے لیے تعویذ لٹکانا ثابت نہیں بلکہ مریض کو شفاء جو قرأت کتاب وسنت میں وارد ہوئی ہے اسے تلاوت کرنے سے ہوگی۔ اور اگر شارع کی جانب سے کسی چیز کو سبب نہ بنایا گیا ہو تو اسے بلادلیل سبب ثابت کرناایک قسم کا شرک ہے۔ کیونکہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم کہیں کہ فلاں چیز سبب ہے الا یہ کہ اس بارے میں ہمارے پاس شریعت سے دلیل ہو ۔ اب اگر ہم کسی چیز کا سبب ہونا ثابت کرتے ہیں تو اس کا معنی ہے کہ ہم نےایک ایسا نیا کام ایجاد کیا جو کہ شریعت میں نہیں تھا اور یہ شرک کی ایک قسم ہے۔

 


[1] یا جیسے لوگ دکان ومکان میں خیر وبرکت کے لیے نقشہ لوح قرآنی آویزاں کرتے ہیں جس میں محض حروف مقطعات جیسےالم، حم، عسق وغیرہ لکھے ہوتے ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] مسند احمد 2557، السلسلۃ الصحیحۃ 1/266۔

[3] صحیح البخاری 5010 کے الفاظ ہیں کہ شیطان نے پکڑے جانے پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی تھی کہ:

’’ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ، لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ ‘‘

 (جب تم اپنے بسترے پر آؤ تو آیۃ الکرسی کی تلاوت کرو، تمہارے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ہمیشہ ایک محافظ مقرر ہوجائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہ آسکے گا یہاں تک کہ تم صبح کرو)۔

 جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ ذَاكَ شَيْطَانٌ‘‘

 (اس نے تجھ سے سچ کہا حالانکہ وہ بہت بڑا جھوٹا ہے،وہ شیطان تھا)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[4] ہمارے یہاں تو فسق وفجور، برائی فحاشی ونشے کے اڈوں تک پر اوپر "ماشاء اللہ" اور مختلف آیات معلق ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی ہدایت دے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

November 26, 2017 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, بدعات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com