menu close menu

دعویٰ: سعودی علماء کے فتاویٰ ہمارے ملک میں قابل عمل نہيں کیونکہ ہمارے حالات ہمارے علماء بہتر جانتے ہیں – مختلف علماء کرام

Claim that: The Fatawaa of Saudi scholars can not implement in our countries, because our local scholars know our circumstances better – Various 'Ulamaa

دعویٰ : سعودی علماء کے فتاویٰ  ہمارے ملک میں قابل عمل نہيں

 کیونکہ ہمارے حالات ہمارے علماء بہتر جانتے ہیں   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف علماء کرام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: فلپائن سے یہ چوتھا سوال ہے، کہتے ہیں: فلپائن میں اکثر مسلمان  یہ کہتے ہیں: یہاں کے مسلمانوں کو سعودی علماء کے فتاویٰ  کی طرف رجوع نہيں کرناچاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں بہت سے علماء پائے جاتے ہيں جو ہمارے حالات کو ان سے بہتر جانتے ہیں۔ کیایہ قول صحیح ہے؟ جزاكم الله خيرًا وجعلكم الله مباركين أينما كنتم

جواب از شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ:

 میں یہ کہتا ہوں سب سے پہلے کہ میرا نہیں خیال کہ فلپائن کے اکثر مسلمان ایسا کہتے ہوں گے بلکہ اکثر المسلمین کے بجائے اخوان المسلمین یہ کہتے ہوں گے، ان کے سب نہيں تو اکثریت یقیناً ایسا کہتی ہے۔

اور ایک عالم جو کہ امت کا عالم ہوتا ہے، دین کا اور شریعت کا عالم ہوتا ہے، وہ اسلام کا عالم ہوتا ہے کسی ایک ملک کے ساتھ خاص نہیں ہوتا، ناہی دوسرے لوگوں سے ہٹ کر کسی خاص لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہذا نہ وہ کسی ملک میں محصور ہوتا ہے نہ کسی شخص میں۔ جو کوئی بھی علم کا محتاج ہے وہ اس سے سوال پوچھتا ہے۔ پس جب اس سے سوال پوچھا جاتا ہے تو اس کے پاس کتاب وسنت میں سےجس کی دلیل ہوتی ہے اس کے مطابق فتویٰ دیتا ہے، ایسے لوگ علماء ہیں۔

جہاں تک یہ قول ہے کہ اہل فلپائن کو سعودی علماء کی طرف  فتویٰ کے لیے رجوع نہيں کرنا چاہیے تو جیسا کہ میں نے آپ سے کہا کہ یہ کلام غیر صحیح ہے۔ اور سعودی علماء تو تمام عالم اسلامی کے بہترین علماء میں سے ہيں  جو اس زمانے میں عالم اسلامی کے ماتھےکی چمک ہیں۔ یہ اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے انصار ہیں اور اس پر قائم ہيں۔

علماء سے میری مراد وہ قد آور شخصیات ہیں جن کا علم دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلا ہوا ہے، لوگوں کے مابین ان کی امامت مشہور و معروف ہیں، اور وہ اصو ل و فروع دونوں اعتبار سے فقہ فی الدین میں جانے مانے جاتے ہیں۔

چوتھی بات: وہ اپنی صحیح عقیدے کے بطور پہچانے جاتے ہیں۔

پانچویں بات: وہ سچائی، خیرخواہی اور ورع ، صدق اور اللہ کے دین اور اللہ کے بندو ں کے لیے نصیحت وخیرخواہی چاہنے کے بطور بھی معروف ہيں۔

چھٹی بات:  وہ ورع وپرہیزگاری میں بھی جانے جاتے ہیں کہ اگر ان پر کسی بات میں یا مسئلے میں اشکال ہوتا ہے اور کسی طرف کا رجحان واضح نہيں ہوتا تووہ اللہ کے دین میں محتاط ترین طرف کو لیتے ہیں۔

یہ ہیں علماء جن کا اگر اطلاق کیاجاتا ہے سعودیہ میں تو اس سے مقصود ہم یہ لیتے ہيں۔ کیونکہ حال ہی میں ایسے بھی لوگ ظاہر ہوئے ہيں جو سیٹلائٹ چینلز کے علماء ہیں اور مختلف دعوتوں اور تنظیموں کی طرف منسوب ہونے والے مشایخ ہیں، لہذا محمد بن ہادی کا کلام ان کے لیے عام نہيں ہے۔ پھر واللہ!  واللہ!  یہ صفات ان کو شامل نہيں۔ بلکہ یہ صفات توصرف ان جیسے علماء کو زیب دیتی ہے جیسے ہمارے شیخ شیخ الاسلام عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد بن صالح بن عثیمین، شیخ احمد بن یحیی النجمی، شیخ زید بن محمد بن ہادی المدخلی، شیخ عبداللہ بن حمید اور اسی طرح باقی مشایخ کرام رحمہم اللہ جو انہی کے طریقے پر ہیں۔ شیخ عبدالرزاق العفیفی، شیخ عبداللہ بن غدیان رحمہما اللہ ۔ اور اس طرح کے علماء جن کا میں نے ذکر کیا یا جن کا ذکر رہ گیا جو کہ انہی صفات کے حاملین ہیں۔کیونکہ ہم نے جن کا ذکر کیا ہےاہل علم میں سے جو حیات ہيں اور جو فوت ہوچکے ہيں یہ وہ ہیں جو ان صفات کی تطبیق کیا کرتے تھے، کہ یہ سب اللہ تعالی کے دین کے لیے خیرخواہی چاہنے والوں میں سے ہیں۔

لیکن آج چینلوں  والے مشایخ کی بھرمار ہے اور آج اپنے ریٹنگ بڑھانے کے لیے مقابلے چلتے ہيں، کسے زیادہ لوگ پسند کرتے ہيں اور اِن  رکھتے ہیں، یہ مطلوب و مقصود ہے ان ٹی وی چینل والے مشایخ کا۔ اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو شہرت پسندی کے فتنے سے بچائے، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو شہرت پسندی کے فتنے سے بچائے، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو شہرت پسندی کے فتنے سے بچائے، بے شک وہ جواد و کریم ہے۔

پس ایک عالم جہاں کہیں بھی ہو اگر وہ واقعی عالم ہے تو اس سے فتویٰ لیا جائے گا۔ کبھی تو مشرق والا مغرب والے سے فتویٰ پوچھتا ہے، اور مغرب والا مشرق والے سے، اور شمال والا جنوب والے سے اور جنوب والا شمال والے سے۔ اور اسی طرح سے یہ جاری وساری رہتا ہے جب تک یہ معلوم ہو کہ وہ عالم ہے اور اس بات کا اہل ہے کہ اس سے سوال کیا جائے، تووہ اس لائق ہے کہ اس سے سوال کیا جائے۔

علماء کرام کی حدبندی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں کرتی نہ ہی سیاسی سرحد۔ انہيں لوگوں کے درمیان بلندی اور قبول عام  ان کا اللہ تعالی ، اس کے دین  اور کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت  کے متعلق علم اور اس پر عمل کرنا دیتا ہے۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ سب کو توفیق دے۔ واللہ اعلم۔

وصلى الله وسلم وبارك على عبده ورسوله نبينا محمد

(ویب سائٹ میراث الانبیاء: حكم قول لا ينبغي الرجوع للعلماء في السعودية لأنهم لا يعلمون بأحوالنا)

سوال:سائل کہتا ہے ہمارے یہاں ہندوستان میں بعض داعیان کہتے ہیں یہاں کے مسلمانوں کو سعودی عرب کے علماء سے فتویٰ نہيں پوچھنے چاہیے، کیونکہ خود ہمارے وطن میں علماء موجود ہيں اور بہت بڑی تعداد میں موجود ہيں، اور وہ ہمارے حالات زیادہ بہتر جانتے ہیں، کیا یہ قول صحیح ہے؟

جواب از شیخ عبداللہ البخاری حفظہ اللہ:

بارک اللہ فیکم، یہ جو کلام ہے ، اس میں جو کچھ پہناں ہے سو پنہاں ہے، اور اس کے اندر جو کچھ چھپا ہے سو چھپا ہے۔ بہرحال یہ  کوئی شرط نہیں ہے کہ  ہر معاملے اور ہر پیش آمدہ مسئلے میں  یہ واجبی طور پر ضروری ہے کہ  اس بارے میں سعودی علماء سے فتوی پوچھا جائے۔ اور نہ ہی کبھی سعودی علماء میں سے کسی نے ایسا کہا ہے  کہ  کسی کے لیے سوائے ہمارے علماء کے کسی سے فتوی لینا جائز نہيں۔اس ملک کے کسی بھی عالم سے ہمیں یہ نہيں ملتا ہے کہ اس نے مقصورو محصور کردیا ہو  فتوی اور استفتاء  کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جو اس ملک میں رہتے ہيں، یہ تو رہی ایک بات۔

دوسری بات : اہل اسلام و مسلمان  اہل سنت کا دنیا کے مشرق و مغرب  وشمال وجنوب ، ہند و سندھ اور مغربی ممالک خواہ کسی بھی جگہ سے  ہوں اس بابرکت ملک کے علماء سے فتوی پوچھتے ہیں  کیونکہ وہ ان پر اعتماد کرتے ہیں،  اور کیونکہ وہ ان کے صحیح عقیدےکے بارے میں جانتے ہیں، اور ان کے  اچھے رجحان  یامنہج  کو جانتے ہیں، اور یہ کہ وہ دلیل کے ساتھ فتوی دیتے ہیں۔ پس وہ علماء سے فتوی پوچھتے ہيں اور پھر وہ علماء جس دین کا اعتقاد رکھتے ہیں اس کے مطابق انہيں فتوی دیتے ہيں، آخر اس میں کیا عیب ہے؟!

اس ملک (ہندوستان وغیرہ) کے اہل اسلام ان ساتھیوں پر جو (سعودی علماء سے) فتوی پوچھتے ہيں  آخر کیوں مؤاخذہ کرتے ہيں؟  کسی مسلمان کا ان فتوی پوچھنے والوں پر عیب لگانا جائز نہیں  ، چاہے آپ اس ملک میں (جہاں سے فتوی پوچھا جارہا ہے)  رہنے والے عالم ہی کیوں نہ ہوں۔

تیسری بات: ان کا یہ دعویٰ کہ یہ لوگ(ان کے مقامی علماء) دوسروں سے زیادہ ان کے حالات کو جانتے ہيں تو یہ وہی پٹی پڑھائی جارہی ہے جسے ہم شروع سے جانتے ہیں۔ لہذا اہل امریکہ کہتے ہیں کہ جو ہمارے پاس ہيں وہ ہمارے حالات زیادہ جانتے ہيں، مغربی ممالک والے کہتے ہيں جو ہمارے یہاں ہیں وہ ہمارے حالات زیادہ جانتے ہيں اور آخر تک۔۔۔

کیا یہ لوگ گمان کرتے ہيں کہ جب اہل علم سے وہ فتوی پوچھتے ہیں تو وہ ایسے سوال جس میں تحقیق اور مزید سوالات کی ضرورت پڑتی ہے  اس سائل سے ایسے ہی لے لیتے ہيں کہ وہ بس بڑبڑ کرتا جاتا ہے اور جواب حاضر ہے، بغیر کسی وضاحت اور  معرفت کے! یہ بات بالکل بھی صحیح نہیں ہے۔

یہ تو علماء پر تہمت ہوئی کہ وہ کسی مسئلے کی تحقیق ووضاحت طلب نہيں کرتے۔ حالانکہ اگر کسی مسئلے میں استفہام کی ضرورت ہوتی ہے تو مزید سوالات کرتے ہيں، اور اگر سوال میں مزید وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے تو سائل سے وضاحت طلب کرتے ہيں، تو یہ اس طرح سے ہوتا ہے([1])۔

یہ معاملہ ہر طور پر یکساں نہیں ہے، لیکن ایک سوال اٹھتا ہے کہ  یہ لوگ خود اپنے آپ سے کیوں نہيں سوال کرتے کہ آخر کیوں  اس ملک کے لوگ اپنے ملک والو ں کی طرف رجوع نہیں کرتے، یعنی جن کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے ہيں کہ یہ اہل علم میں سے ہیں ، کیوں سوالات میں ان کی طرف رجوع نہیں کرتے؟ کیوں انہیں چھوڑ کر دوسرے ممالک یا دوسرے علاقوں کی طرف رخ کرتے ہیں؟

جیسا کہ کچھ برس پہلے سے یہ ہورہا ہے کہ بعض گروہوں کی طرف سے کہ جو چاہتے ہيں کہ دعوت  مختلف ممالک میں اپنی اہواء پرستی و خواہشات کے موافق چلے۔ تو یہ ایک ملک سے دوسرےملک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ خصوصاً مغربی ممالک میں ۔ فلاں ملک میں ایک دو ہفتے رہتے ہيں  چار یا پانچ ہوتے ہيں ، پھر دوسرے ملک میں چلے جاتے ہيں  اور یوں ان کے چکر لگتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا ظاہری نام تو دعوت ہوتا ہے مگر باطن میں اپنی جیبوں کو بھرنا ہوتا ہے یعنی بس پیٹ کا چکر ہے۔

اسی طرح سے بعض مشرقی ممالک میں بھی آتے ہيں جن میں سے عرب ممالک بھی ہیں۔  اور جب لوگ ان سے سوال کرتے ہيں فتویٰ لیتے ہیں تو پاتے ہيں کہ ان کی باتیں ان اصولوں کے خلاف ہيں جو اہل سنت کے علماء کے یہاں مقرر ہيں اور جس پر علماء قائم ہيں۔ تو پھر اس صورت میں بعض لوگ ہمارے ملک کے مشایخ سے رابطہ کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہتا ہے اور یہ اس کی آواز میں ریکارڈ ہے کہ  تمہارے لیے جائز نہيں کہ تم ہمارے ہوتے ہوئے ان مشایخ سے رابطہ کرو۔ہم تمہارے اولیٰ الامر ہیں ، تم پر واجب ہے کہ تم ہماری سنو اور مانو۔ آپ نے دیکھا کیسے یہ کڑیاں ملتی ہیں۔ یہ چاہتے ہيں کہ وہ ممالک ان کی اہواء پرستی کے مطابق چلتے رہیں۔ کیونکہ عنقریب پائيں گے کہ ان کی باتیں اور جو ان سے منقول فتاویٰ  ہيں وہ اس کے برخلاف ہيں جو  اصول علماء کرام کے یہاں مقرر ہيں اور  جن کا جواب سنت کا علم رکھنے والے اہل علم دے چکے ہيں۔ بات واضح ہے۔

تو اس قسم کی بات پر کوئی توجہ نہ دیں ، اور یہ باتیں صرف ہندوستان میں نہیں، اس قسم کے لوگ ہر جگہ یہی باتيں دہراتے رہتے ہیں۔

(لا ينبغي للمسلمين الرجوع إلى علماء السعودية في الإستفتاء)

 


[1] جیسا کہ شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کے تعلق سے بھی یہ بات پھیلائی گئی کہ آپ سے کوئی بھی آکر کسی کے بارے میں کچھ بھی کہلوا لیتا ہے، جس کا جواب شیخ حفظہ اللہ کی ہی زبانی ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

February 1, 2018 | الشیخ عبداللہ البخاری, الشیخ محمد بن ہادی المدخلی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com