menu close menu

دعوت الی اللہ میں منہج انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اپنانے کے مخالفین – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Those who oppose the followers of methodology of prophets in calling towards Allaah – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

دعوت الی اللہ میں منہج انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اپنانے کے مخالفین   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب منھج الأنبیاء فی الدعوۃ الی اللہ فیہ الحکمۃ والعقل، مقدمۃ طبع ثانی۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئےہیں باکثرت، بابرکت اور پاک تعریفات ہر اس نعمت پرجو اس نے مجھ پر فرمائی اور میں ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس کی ثناء بیان کرتا ہوں حالانکہ میں اس کی حقیقی ثناء خوائی کا حق ادا نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی اور میں یہ صلاحیت ہے۔

اللہ تعالی کی مجھ پر نعمت اور فضل وکرم میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے مجھ جیسے کمزور کو یہ توفیق عنایت فرمائی کہ میں اپنی طاقت بھر حق بات کا اظہار کروں خواہ وہ کتاب کی صورت میں ہو یا آمنے سامنے ہو۔ پس میں اس کا ایسا شکر ادا کرتا ہوں اور ایسی حمد بیان کرتا ہوں کہ جو زمین وآسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو بھر دے، اور اس سے یہ بھی دعاء ہے کہ مجھے اس پر ثابت قدمی عطاء فرمائے یہاں تک کہ میں اس سے ملاقات کروں اس حال میں کہ وہ مجھ سے راضی ہو، ساتھ ہی میں مزید توفیق اور حفاظت کا سوال کرتا ہوں۔ میں یہ بھی نہیں بھولا (الحمدللہ) کہ جب میری کتاب  ’’منھج الانبیاء في الدعوۃ الی اللہ فیہ الحکمۃ والعقل‘‘  شائع ہوئی تو ہر سچے مسلم نوجوان نے انتہائی خوشی ومسرت سے اس کا استقبال کیا۔ کیونکہ یہ کتاب ان کے سامنے دعوت انبیاء کا مکمل خاکہ اس طرح کھینچ کررکھ دیتی ہےکہ گویا نصف دن کے چمکتے سورج کی مانند ہو جو اس پر سے ایسے لکھنے والوں کی ہر قسم کی ہیرپھیر، تحریف وتلبیس (خلط ملط ودھوکہ بازی) کو زائل کردیتی ہے جو انسانی جسموں میں شیطانی دل رکھنے والے ہیں۔ جن کا اس کے سوا کوئی سروکار نہیں کہ لوگوں کو اپنے اور اپنے پرفریب نعروں کے گرد جمع کیا جائے، خواہ یہ اجتماع روافض (شیعہ) ومنافقین کی صورت میں ہو یا گمراہ خوارج و قبرپرست غالی صوفی ملحدوں کی شکل میں ہو، چاہے عوام و سادہ لوح لوگ ہوں  یا بیچارے جاہل گروپ، تنظیمیں و جماعتیں ہوں۔ انہیں اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے اور ان کے بلند بانگ نعروں کے گرد جمع ہونے والے اس قسم کے اجتماع سے دنیا وآخرت میں انہیں کتنے بھیانک نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا۔کیونکہ ان کا حال ایسا ہےجیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا:

’’دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا‘‘([1])

(جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے داعیان (دعوت دینے والے) ہوں گے، جو ان کی طرف مائل ہوگا وہ اسے بھی جہنم رسید کروادیں گے)۔

اس لئے بھی جیسا کہ امت کے سب سے بڑے خیر خواہ، صادق وامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی صفت بیان فرمائی ہے کہ یہ:

’’الشَّيَاطِينُ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ‘‘([2])

یعنی انسانی روپ میں شیطان ہیں۔

 ورنہ کیا سبب ہے کہ انہوں نے اور ان کے راستے پر چلنے والوں نے اس واضح وروشن منہج انبیاء سے دوری اور علیحدگی اختیار کی ہے جسے قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں ان (انبیاء) کی شریعت ومنہج بتلایا ہے، جوکہ دین خالص کے سوا کچھ نہیں یعنی اللہ تعالی کے اسماء وصفات، اس کی ربوبیت اور اس کی الوہیت وعبادت میں توحید، ساتھ ہی ہر قسم کے طاغوت(جس کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جاتی ہے) کا انکار۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾ (النحل: 36)

(تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جس نے یہی دعوت دی) کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو، اور طاغوت سے بچو)

اور فرمایا:

﴿وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ﴾ (الانبیاء: 25)

(ہم نے آپ سے پہلے بھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ان کی جانب یہی وحی فرمائی کہ بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم صرف میری ہی عبادت کرنا)

آپ سلفی دعوت کے علاوہ کسی بھی فرقے اور جماعتوں کی دعوت کا تجزیہ کیجئے کیا آپ کو ان کےیہاں اس روشن منہج ِانبیاء کا کوئی اثر تک نظر آتا ہے؟!  ان کی مدارس، افراد اور جماعتوں میں؟، اگر آپ واقعی سچے ہیں تو ذرا اس کی نشاندہی تو فرمائیں۔ البتہ میں تو ان تمام فرقوں اور جماعتوں میں اس (سلفی) منہج اور اس کے اہل (سلفیوں) کے خلاف ایک خونی جنگ کے سوا، اس منہج اور اس کے اہل کوحقیرسمجھنے ومذاق اڑانے کے سوا، اس منہج اور اس کے اہل سے بغض وعداوت کے سوا اور (اس منہج کے مخالف) منحرف وگمراہ دعوتوں اور ان کے اہل کی پزیرائی اور احترام کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ اور یہ آخری بات آپ ان لوگوں سے بہت سنیں گے اور دیکھیں گے جنہوں نے فی زمانہ بظاہر سلفیت (اہلحدیثیت) کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے حالانکہ وہ اس کے مخالفین کے زیادہ ہمدرد ہیں اور ان کے مابین ایسے ایسے مضبوط روابط و تعلقات ہیں جنہیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

بعض وہ لوگ جو (اسلامی حکومت کی اقامت کے نام پر) بدعات، خرافات اور گمراہی (تک) کی حکومت کے عاشق ہیں ان کا یہ گمان ہے اور کیا ہی برا گمان اوربہتان طرازی ہےکہ میں دین اور حکومت (یا دین وسیاست) میں تفریق کرنا چاہتا ہوں اور میں حاکمیت الٰہی میں اختلاف پیدا کرنا چاہتا ہوں!

﴿كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا ﴾ (الکھف: 5)

(کتنا برا کلمہ ہے جو ان کی زبان سے نکلتا ہے، یہ تو محض جھوٹ بولتے ہیں)

کیونکہ اس کتاب نے انہیں ناراض کیا اور ان کی پرفریب دعوتوں کا جو اسلام ودلائلِ توحید خصوصاً دعوتِ انبیاء کی تحریف پر مبنی ہیں کا پردہ چاک کیا، اور رافضی (شیعہ) حکومت کی اقامت کو خوش آمدید کہنے میں ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی، اور نہ ہی ایسی (نام نہاد اسلامی) حکومتوں کی اقامت میں ان کی تائید کی جو مزار پرستی اور اولیاء کرام کے بارے میں اس اعتقاد پر قائم ہیں کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں اور کائنات کے معاملات چلانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان مذکوہ بالا دعوتوں کی اقامت ِحکومت میں تائید نہ کی، ساتھ ہی اس گمراہ وشرکیہ جدید سیکولرازم جس نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھا ہواہے کی بھی تائید نہ کی۔

الحمدللہ اس کتاب نے واضح کیا کہ سچی اور بااعتماد دعوت وہی ہے جو دعوت الی اللہ میں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام  کا منہج اپناتی ہے، اور جو حکومت اس صحیح منہج پر قائم ہو وہی حقیقی اسلامی ریاست ہے۔ اگرچہ یہ کتاب ایک خاص موضوع یعنی دعوت الی اللہ کے سلسلے میں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کا منہج بیان  کرنے سے متعلق ہے مگر اس کے باوجود اسلامی ریاست کے تصور کا بھی اس میں ذکر بار ہا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے لئے ایک باقاعدہ خاص عنوان مختص کیا گیا ہے ’’نظرة علماء الإسلام إلى الإمامة وأدلتهم على وجوبها‘‘ (خلافت وامامت کے بارے میں علماء اسلام کے نظریات اور اس کے واجب ہونے کےدلائل) پھر اس بارے میں علماء کے اقوال بیان کئے گئے ہیں ان کے دلائل کے ساتھ لیکن جس چیز نے اہل اہوا (خواہش پرستوں، بدعتیوں) اور باطل پرستوں کو غصہ دلایا  وہ یہ ہے کہ میں نے امامت (خلافت) اور حکومت کو اس کا وہ حقیقی مقام دیا جو اللہ تعالی نے اس کا رکھا ہے اور علماء اسلام نے سمجھا ہے،لیکن دعوت توحید اور شرک، بدعات،تمام انواع کی ضلالت، انحراف وگمراہیوں، اوثان(بت وقبر) ومزارات کی عبادت کے خلاف جنگ کے سلسلے میں منہج انبیاء کو چھوڑنے میں ان کا ساتھ نہ دیا۔نہ ہی اس بات میں ان کی موافقت کی کہ امامت وخلافت بقول مودودی ’’مسألة المسائل‘‘ (دینی مسائل میں سب سے چوٹی کا مسئلہ) اور ’’أصل الأصول‘‘ (تمام دینی اصولوں کی اصل) قراردیا جائے جس کی وجہ سے لوگ منہج انبیاء کے منکر اور اس کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اور اس بات پر بھی آمادہ ہوتے ہیں کہ رافضیوں(شیعہ) کی گود میں بیٹھ کر ان سے محبت ودوستی کا دم بھرا جائے، ان کا دفاع کیا جائے اور قرآن وسنت کے مخالف، اصحاب رسول رضی اللہ عنہم اور پاک امہات المومنین رضی اللہ عنہن، تمام مسلمانوں اور ان کے علماء وآئمہ کرام کے خلاف جنگ، بلکہ امت کی ان عظیم ترین ہستیوں پر خبیث ترین طعن کرتے ہوئےکافر تک قرار دینے والے ان کے مذہب کو مزین وخوبصورت کرکے پیش کیا جائے۔

پس میں نے ان تمام گمراہیوں اور بغض  سے بھرپور غلو میں ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائی جس کی بنا پر انہوں نے اس کتاب اور اس کے لکھنے والے کے بارے میں یہ شیطانی اور باطل باتیں کہیں تاکہ وہ حق کے پیاسے نوجوانوں اورناقابلِ تردید حق کے درمیان جو کہ اس کتاب میں پوری طرح واضح ہے حائل ایک رکاوٹ بن جائیں، جس کتاب میں عقیدہ اور ریاست دونوں کو بلاافراط وتفریط (کمی  وزیادتی) کے اور بلاتحریف وتلبیس (خلط ملط ودھوکہ بازی)کےان کا وہ حقیقی مقام دیا ہے جس پر اللہ تعالی نے انہیں رکھا ہے ۔

 


[1] صحیح بخاری 6584، صحیح مسلم 3440۔

[2] صحیح مسلم 3441۔

January 24, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com