menu close menu

درپیش امور میں نوجوانوں کا علماء پر سبقت اور مخالفت کرنا – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Preceding and opposing the scholars in Ummah affairs – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

درپیش امور میں نوجوانوں کا علماء پر سبقت اور مخالفت کرنا   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: عمر طارق

مصدر: جناية التميّع على المنهج السلفي س 3۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سوال : بعض طلبہ علم اپنے آپ کو منہج کے درپيش امور، اور لوگوں کی معرفت والے معاملات ميں آگے کرکے پيش کرتے ہيں( اور اس ميں کلام کرتے ہيں)، اور وہ اس ميں کبار علماء کی مخالفت کرتے ہيں جن کے پاس ان امور کی صحيح معرفت ہوتی ہے۔ وہ يہ کام يہ حجت بيان کرتے ہوئے کرتے ہيں کہ ہم کسی بھی شخص کی اتباع کرنے پر مجبور نہيں۔ آپ اس معاملے ميں ہماری کيا رہنمائی فرماتے ہيں؟بارک اللہ فيکم۔

جواب: يہاں پر بعض چيزوں کی وضاحت کرنا ضروری ہے تاکہ اس مقولہ يا اس مسلک کا جواب جو اس سوال ميں ذکر کیا گیا بلکل واضح ہو:

پہلی بات: اللہ عز وجل کے اس فرمان کی ياددہانی کرانا:

﴿وَاِذَا جَاءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ۭوَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا﴾ (النساء : 83)
)جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کردیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول کے اور اپنے حکمرانوں (جو ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں) کے حوالے کردیتے، تو ان میں سےنتیجہ اخذ کرنےوالے لوگ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے ، او راگر اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو ضرور سوائے چند لوگوں کے تم سب شیطان کی پیروی کرنے لگتے )

يہ آيت مسلمانوں کی ايک ایسے شريف قاعدے پر تربيت کرتی ہے، کہ جب بھی ان کا سامنا کسی بھی قسم کے مصائب، مشکل اور کٹھن امور سے ہو تو اسے اپناکر اس پر چلنا ان پر واجب ہے ۔ اور وہ قاعدہ يہ ہے کہ ایسی درپيش مشکلات اور بڑے معاملات کو جو ايک حلم وبردبار شخص تک کو حيرت ميں ڈال ديتے ہيں، ان لوگوں کی طرف لوٹائيں جو ان پر کلام کرنے اور ان کو حل کرنے کے اہل ہيں، اور يہ لوگوں ميں سے دو قسم کے گروہ ہيں:

پہلا گروہ: رسول اللہ -صلی اللہ عليہ و سلمہيں، اور اب اس سے مراد ان امور کو آپ -صلی اللہ عليہ و سلمکی سنت کی طرف لوٹانا ہے۔

دوسرا گروہ: وہ لوگ جو حکومت ميں ہيں، کيونکہ بے شک حاکم وقت اور اس کے ساتھ جو اہل شوریٰ ہيں، علماء اور تجربہ کار لوگ، اہل حل و عقد، اور شرعی اور سياسی امور کی معرفت رکھنے والے، يہی لوگ ان درپيش مشکلات کو حل کرنے کے اہل ہيں ناکہ عام عوام۔

اور اس بات کی مزید وضاحت اس روايت سے ہو جاتی ہے جو امام مسلم نے اپنی صحيح ميں روايت کی ہے کہ لوگوں کے درميان یہ بات پھیل گئی کہ رسول اللہ -صلی اللہ عليہ و سلمنے اپنی بيويوں کو طلاق دے دی ہے، سيدنا عمر ۔رضی اللہ عنہ۔ نے فرمايا:

’’فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ -صلی الله عليه و سلمفَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟! قَالَ:  لَا! قَالَ عُمَرُ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ: فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الْأَمْرَ ‘‘ ([1])۔

(ميں نے نبی -صلی اللہ عليہ و سلمکے پاس آکر کہا: يا رسول اللہ، کيا آپ نے اپنی بيويوں کو طلاق دے دی ہے؟
آپ -صلی اللہ عليہ و سلمنے فرمايا: نہيں۔ سيدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں جب يہ آيت نازل ہو‏ئی تو ميں نے ہی اس معاملے کا استنباط کیا)۔

دوسری بات: ان کا يہ کہنا کہ ہم کسی بھی شخص کی اتباع کرنے پر مجبور نہيں یا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔

 ہم يہ کہتے ہيں کہ آپ واقعی ميں کسی شخص کی اتباع کرنے پر مجبور نہيں، یہ بات صحیح ہے، ليکن  آپ کا يہ قول مجمل ہے، کيونکہ يہ خطاء و صواب اور حق و باطل دونوں کا احتمال رکھتا ہے، آپ کو يہ چاہيے تھا کہ اس بات کو تفصيل اور فصاحت کے ساتھ بيان کرتے،کيونکہ اصل اعتبار کسی بھی فلاں فلاں شخص کے قول  کا بذاتہ نہیں کیا جاتا(کہ بس یہ فلاں کا قول ہے)، بلکہ اصل اعتبار تو تو دليل کا ہوتا ہے۔ پس جب بھی لوگوں کا کسی بھی معاملے ميں اختلاف واقع ہو جائے تو اس صورت ميں ان پر واجب ہے کہ وہ اس معاملے کو جس ميں اختلاف واقع ہوا ہے اس کو اللہ اور اس کے رسول -صلی اللہ عليہ و سلمکی طرف لوٹائيں جيسا کہ اللہ کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ (النساء: 59)

(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ،اور اپنے میں سے ولاۃ امور (حکمرانوں) کی، اگر تم آپس میں کسی معاملے میں اختلاف کرلو تو اسے اللہ او ر رسول کی طرف پھیر دو ،اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے)

اہل علم نے فرمايا کہ اللہ تعالی کی طرف لوٹانے کا مطلب يہ ہے اللہ کی کتاب کی طرف لوٹانا اور رسول اللہ -صلی اللہ عليہ و سلمکی طرف لوٹانے کا مطلب ہے کہ آپ کی طرف بذات خود لوٹانا آپ کی زندگی ميں اور آپ کی سنت کی طرف لوٹانا آپ کی وفات کے بعد([2])۔

لہذا آپ کا يہ قول غایت درجے فساد اور بطلان پر مبنی ہے، اور اس قول سے صرف يہ ہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ آپ کا مقصد لوگوں کو اپنے آپ سے اور آپ جيسے دوسرے لوگوں سے جوڑنا ہے جو علم اور دعوت کے ميدان ميں اپنے آپ کو آگے بڑھ کر پيش کرتے ہيں۔ جبکہ آپ پر تو يہ واجب تھاکہ آپ لوگوں کو آئمہِ ہدايت اور ان اہل علم سے جوڑيں جو صحيح وسلیم وسیدھے عقيدہ ومنہج، علم ميں رسوخ اور امت کی خيرخواہی کے بارے ميں معروف ہيں([3])۔

کيونکہ يہی لوگ انبياء کے وارث ہيں، جب بھی يہ لوگ کسی درپيش مسئلے کے بارے ميں کلام کرتے ہيں([4])، يا کسی اور معاملے ميں کوئی بات کرتے ہيں، يا کسی شخص سے خبردار کرتے ہيں، اور اس ميں وہ اس کے فاسد منہج اور برے اصولوں کو دليل کے ساتھ بيان کرتے ہيں تو ان صورتوں ميں ان کے قول کو قبول کرنا واجب ہے، کيونکہ وہ حق ہے جب تک کہ وہ دليل اور برہان پر قائم ہے۔ چناچہ ان سب باتوں سے يہ واضح ہو جاتا ہے کہ يہ مقولہ بلکل باطل اور فاسدہے۔

 


[1] امام مسلم نے اسے صحيح مسلم ميں، کتاب: الطلاق، باب في الإيلاء واعتزال النساء، وتخييرهن، وقوله تعالى: {وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ}، حديث نمبر ۱۴۷۹ ميں سيدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روايت فرمایا  ہے۔

 

[2] امام ابن القيم رحمہ اللہ اس آيت کے متعلق فرماتے ہيں: ’’مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہو گيا ہے کہ اللہ کی طرف لوٹانے کا مطلب يہ ہے کہ اس کی کتاب کی طرف لوٹايا جائے، اور رسول اللہ -صلی اللہ عليہ و سلمکی طرف لوٹانے کا مطلب ہے کہ آپ کی طرف بذات خود آپ کے لوگوں کے درميان موجود ہونے ميں يا آپ کی زندگی ميں  لوٹایا جائے، اور آپ کی سنت کی طرف آپ کے لوگوں کے درميان موجود نا ہونے ميں يا آپ کی وفات کے بعد لوٹایاجائے‘‘۔ (اعلام الموقعين  1/174)۔

اور امام ابن کثير رحمہ اللہ فرماتے ہيں: ’’اور يہ اللہ کی طرف سے حکم ہے کہ کوئی بھی معاملہ جس ميں لوگ اختلاف کر جائيں چاہے وہ دين کے اصول ميں سے ہو يا فروع ميں سے، تو اس اختلاف کو کتاب و سنت کی طرف لوٹايا جائے‘‘۔ (تفسير ابن کثير 2/304)۔

 

[3] یحییٰ بن معاذ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہيں:  ’’علماء کرام امت محمد -صلی اللہ عليہ و سلمپر ان کے اپنے ماں باپ سے زيادہ رحم دل ہيں۔ ان سے پوچھا گيا:  ايسا کیسے؟انہوں نے فرمايا: کيونکہ بے شک ان کے ماں باپ ان کی دنيا کی آگ سے حفاظت کرتے ہيں، جبکہ علماء ان کو آخرت کی آگ سے بچاتے ہيں‘‘۔ (مختصر نصيحة أهل الحديث-  167)۔

 

[4] امام الحسن البصری رحمہ اللہ فرماتے ہيں:  ’’بے شک يہ فتنہ جب بھی آنے لگتا تو اس کو ہر عالم جان ليتا ہے، اور جب وہ نکل جاتا ہے تب اس کو ہر جاہل بھی جان ليتا ہے‘‘۔(ابن سعد  – 7/166) ۔

 

October 2, 2017 | الشيخ عبيد الجابري, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com