menu close menu

خوارج دہشتگردوں کے خلاف خاموش رہنے والے بھی مجرم ہیں – شیخ صالح بن سعد السحیمی

Those who keep silence over Khawarij's terrorist acts are guilty too – Shaykh Saaleh bin Sa'ad As-Suhaimee

خوارج دہشتگردو ں کے خلاف خاموش رہنے والے بھی مجرم ہیں   

فضیلۃ الشیخ صالح بن سعد السحیمی حفظہ اللہ

(مدرس مسجد نبوی، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: إتحاف الكرام البررة بشرح نواقض الإسلام العشرة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

۔۔۔میرے دینی بھائیوں اور احباب کرام، سب سے پہلے ہم اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس کی تمام ظاہری وباطنی نعمتوں پر۔ اور جو احسان اس نے ہم پر کیا کہ گزشتہ رات  خوارج’’كِلَاب النَّار‘‘ (جہنم کے کتوں) کا جو مسلمانوں کے جان ومال کو مباح (حلال) سمجھتے ہیں قلع قمع فرمایا۔ جنہیں خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے: ’’كِلاَبُ النَّارِ‘‘([1]) (جہنم کے کتے) نام دیا ہے۔ اور یہ لوگ اس لقب کے واقعی  حق دار ہیں کہ پرامن رہنے والے لوگوں کو خوف زدہ کرتے ہیں، اور مسلمانوں کو ڈراتے ہیں پریشان کرتے ہیں ،اور اسلام کا نقصان کرتے ہیں اسے بدنام کرتے ہيں، بلکہ دشمنانِ اسلام کی خدمت کر رہے ہو تے ہیں ایسی خدمت جو یہود و نصاریٰ نے بھی کئی صدیوں تک نہیں کی۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ہے اور اس کی حمد و ثناء ہے  کہ اس نے ان کا قلع قمع کیا اورجیسا کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے تعلق سے یہی فرمایا ہے کہ :

’’كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى يَظْهَرَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ‘‘([2])

(جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا اورابھرے گا  تووہ کاٹ دیا جائے گا اورختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہی کی جماعت میں سے دجال کا خروج ہوگا)۔

 

اورہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاءکرتے ہیں کہ جو پولیس اور سکیورٹی فورسز والے ہمارے بھائی اس واجب کی ادائیگی میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں  انہیں وہ شہداء میں سے لکھ لے۔ کیونکہ بلاشبہ ایسے لوگوں کے لیے نبی کریم e کی زبانی بشارت ہے  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’شَرُّ قَتْلَى قَتْلاَهُمْ  (يعنی كلاب النار) وَهُمْ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ وَ خَيْرُ قَتِيلٍ مَنْ قَتَلُوهُ‘‘([3])

(ان خوارج (کلاب النار) میں سے جو قتل ہو جائے  وہ سب سے زیادہ  بُرا مقتول ہے جو مارا  گیا ، اورآسمان کی چھت کے نیچے سب سے بُرے مقتول  یہ لوگ ہیں ،اور سب سے بہترین قتل ہونے والا وہ ہے جو ان کے ہاتھوں قتل ہو )۔

 

ہم اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ انہیں شہداء میں سے لکھ  لیں، اور ہم امید ہی کرتے ہیں جزم  کے ساتھ  یقین کے ساتھ نہیں کہتے جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے ملحد قسم کے لوگوں تک کہ لیے جب وہ مر جائیں یقین کے ساتھ شہید  کہتے پھرتے ہیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کہتے بلکہ ہم کہتے ہیں:  ہمیں اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ لکھ لیں ہمارے ان بھائیوں کو شہداء میں سے۔ کیونکہ بلاشبہ وہ اس کے بہت زیادہ حق دار بھی ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور یہ جو گروہ ہے خوارج کا اللہ تعالیٰ اسے ذلیل اور رسوا کرے۔

 

  اور  میرے بھائیوں، یہ بات سیدنا علی  بن  ابی طالب رضی اللہ عنہ  سے ثابت ہے  کہ آپ قنوت پڑھتے تھے  ان خوارج کلاب النار کے خلاف جو کہ خدام ہیں یہود و نصاریٰ کے، جو فتوے لیتے ہیں پہاڑوں کے غاروں میں چھپے ہوئے  لوگوں  سے، انٹر نیٹ سے اورتھیچر کے سائے تلے ان گندگی کے ڈھیروں سے۔ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سےجو عرش کریم کا ربّ ہے اس کے اسمائے حسنیٰ کے واسطے سے یہ دعاء کرتے ہیں کہ  وہ ان خوارج کے بقایات کے تعلق سے ہمیں اپنی  قدرت کے عجائب دکھائے  اور انہیں  ایسے  پکڑلے جس طرح  مکمل غلبے واقتدار والے کی پکڑ ہوتی ہے۔

 

ہم ان لوگوں کو  بھی کہیں گے جو ایسی حرکت کرنے والے کے لیے جواز وعذر تراشتے پھرتے ہيں،  یا ان کے ساتھ کچھ ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں، یا پھر ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ، یا پھر ان کے جو نام ہیں یعنی القاب ان سے انہیں موسوم نہیں کرتے یعنی انہیں خوارج کہنے سے  پرہیز و احتیاط دکھا رہے ہوتے ہیں  کہ ہم انہیں  خوارج یا کلاب النار یا تکفیری  (جو ان کے اصلی نام ہیں) نہیں کہیں گے اور اس سے پرہیز دکھا رہے ہوتے ہیں، انہیں میں یہی کہوں گا کہ: آپ کو چاہیے کہ دین کو صحیح طرح سے سمجھیں ،اور اللہ کےبندوں! آپ یہ جانیں کہ آپ کس سے اپنا  دین  حاصل کر رہے ہیں۔ دین اس قسم کے المارقين  (دین سے نکلے ہوئے) لوگوں سے حاصل نہیں کیا جاتا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ وصف بیان فرمایا، اور نہ ہی ان لوگوں سے جو ان کو فتوی دیتے ہیں۔ بلکہ علماء الربانيين سے  لیا جاتا ہےجو غلو کرنے والوں کی تحریف، اور اہل باطل لوگوں کی جھوٹی باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے اسے پاک کرتے ہیں۔

 

 اور خصوصاً میں چاہتا ہوں ان لوگوں سے جو علم اور تعلیم کے کام سے وابستہ ہيں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور جو اصل حقیقت ہے اس کو اپنی جگہ پر رکھیں، ایسی چیزوں کی نقاب کشائی ہونی چاہیے،  اور جو خطباء ہیں جو بظاہر اپنی اس حرکت کو گویا کہ پرہیزگاری کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ ہم ان (خارجی، تکفیریوں اور نام نہاد جہادیوں) پر بات نہيں کرنا چاہتے،اور ان  کے جو اصل نام ہیں ان ناموں سے ان   کو موسوم نہیں کرتے ، اور ان کے جو القاب ہیں جن سے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ملقب فرمایا ہے وہ لقب نہيں دیتے ، ان کو خوارج نہیں کہتے ،بلکہ ان کے لیے مختلف عذر وجواز تراشتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ان کی غلطی ہے بس۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کلاب النار ہیں جیسا کہ الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں جو   تعلیم کا کام کرتے ہیں ، اپنی اولادوں کو ، ہماری اولادوں کو اور سب مسلمانوں کی اولادوں کو اس گمراہ کن فکر سے بچائیں اورمحفوظ رکھیں ۔ اور اپنے مکتبات  کو اس قسم کے لوگوں کی کتابوں سے پاک کریں  جو ان چیزوں پر ابھارتی ہیں ، اوراپنے مکتبوں کو اس قسم کی فاسد کیسٹوں سے بھی پاک کریں جو لوگوں کو دنگا فساد، افراتفری اور غیر  شرعی جہاد  کی طرف بلاتے ہیں۔ اس میں  کوئی شک نہیں کہ جہاد  تا قیامت باقی  رہے گا اور جس نے جہاد کا انکار کیا وہ کافر ہے، لیکن اس کے اپنے شروط ہیں ، اس کی اپنی معین ضرورتیں ہیں جو پوری ہونا   ضروری ہیں، ایسی شرائط ہیں اور قواعد ہیں  جس پر اہل علم نے نصوص بیان کیے ہیں کتاب و سنت سے۔  لیکن ان لوگوں کا جو جہاد ہے یہ فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) نہیں بلکہ فی سبيل إبليس (شیطان کی راہ میں)ہے  اور في سبيل الكفرة ہے( کافروں کےمفاد) میں  ہے۔ وہ کچھ نہیں کرتے سوائے ان کافروں کی خدمت  کے جتنے بھی کفار ہیں چاہے وہ  ماسونی ہوں یا صیہونی ملحد ہوں یا مغربی۔

 

چنانچہ جو  لوگوں کو تعلیم دینے کا کام کرتے ہیں جو ٹیچرز ہیں انہیں چاہیے کہ ہر چیز کو اس کا جو مقام بنتا ہے  اس  پر رکھیں، اور خطیب حضرات اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ڈریں  اپنے خطبوں  کے تعلق سے بھی  اورلوگوں کو منہج سلف صالحین  کے ساتھ خطاب کیا کریں   وہ ایسا منہج  ہے کہ جو دن میں چڑھتے سورج کی طرح روشن ہے، جس میں پس پردہ  جماعت بندی وتنظیم سازیاں نہيں،  اس میں خفاء (معاملات کو چھپانا) نہیں ہے، اس میں پہاڑوں کے اندر چھپ کر  گروہ اور  جتھے نہیں بنائے جاتے ،اس میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، بلکہ منہج حق اور منہج اہل سنت والجماعت چڑھتے سورج سے زیادہ روشن اورواضح ہے۔ چنانچہ اہل علم اور طالب علم کو چاہیے کہ اس میں محنت کریں کہ  لوگوں کو حق بیان کریں اس کی دلیل کے ساتھ تاکہ یہ مارقین، کلاب النار خوارج جو کہ آسمان کی چھت کے نیچے سب سے بُرے  مقتول ہیں ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرکے اچک نہ سکیں اس طریقے سے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ انہیں ذلیل اور رسوا کرے اور ان   کے تعلق سے ہمیں اپنی قدرت کے عجائب دکھائے۔ اور میں نے یہ جو مقدمہ بیان کیا ہے  امید ہے کہ آپ مجھے اس کی اجازت دیں گے کیونکہ دل اس بارے میں  بہت تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے اور کڑھتا وکٹتا ہے جب یہ دہشتگردی اور خوف وہراس دکھائی دیتا ہے جو یہ لوگ بلد ِمقدس  میں پھیلاتے ہيں جو اسلام کا گڑھ ہے، اس کا مضبوط قلعہ ہے اور اسلام کی بقایات میں سے ہے۔

 

پس جو ان کے کاموں کے لیے عذر وجواز بیان کرتا ہے، یا اس پر خاموش ہوتا ہے، یا  اس کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے یا کم سے کم حق بیان نہیں کرتا اس کی دلیل کے ساتھ اس قسم  کے مسائل میں تو اس پر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ قول صادق آتا ہے:

’’مَن كَتَمَ عِلمًا أَلجَمَهُ اللَّهُ بِلِجامٍ مِن نارٍ يَومَ القِيامَةِ ‘‘([4])

(جس نے کسی علم کو چھپایا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ  اس کو بروز قیامت آگ کی لگام پہنائیں گے )۔

 

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ فرمان بھی کہ:

’’لَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا‘‘([5])

(اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اس پر جس نے محدثاً ( کسی مجرم کو یا بدعتی کو یا بدعت  کو ) اپنے پاس پناہ دی یاپنپنے دیا )۔

 

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمانوں میں سے  جو  گمراہ ہیں انہیں ہدایت  کی طرف لوٹا دے ، اور اپنے کلمے کو بلند کرے ،اور اپنی کتاب کو اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اور اپنے نیک صالحین بندوں کو نصرت عطاء فرمائے، إنه ولي ذلك والقادر عليه۔

 


[1] رواه أحمد، وابن ماجه، وصححه الألباني في: الروض النضير (906 , 908)، المشكاة: (3554).

[2] رواه ابن ماجه، وحسنه الألباني: انظر سنن ابن ماجة رقم: (174).

[3] رواه الترمذي برقم:،3000، وابن ماجه: 176، وقال الشيخ الألباني: حسن صحيح.

[4] سنن أبي داود رقم3658 قال الشيخ الألباني : حسن صحيح.

[5] صحیح مسلم 1979۔

January 21, 2016 | الشیخ صالح بن سعد السحیمی, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com