menu close menu

خلافت اور ولی امر میں فرق کرنا – شیخ محمد بن عمر بازمول

Differentiating between Khilafah and Wali Amr (Ruler) – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

خلافت اور ولی امر میں فرق کرنا   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلۃ علمنــــــي دينـــــــــي 50۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

بلاشبہ مجھ سے یہ مطلوب نہيں ہے کہ میں دولت وخلافت اسلامیہ قائم کروں۔ بلکہ یہ تو خود ولی امر (حکمران) کی مسئولیت میں سے ہے۔ہاں میں اس طور پر اس کی معاونت اور مساعدت کروں گا کہ اپنی سمع وطاعت اسے پیش کروں، بغیر معصیت کے۔  اور اسے الگ سے رائے، مشورہ اور نصیحت کروں پیش کروں۔

یہ بات جان لیں کہ بعض فرقوں اور احزاب جنہوں نے اپنے مقاصد میں سے دولت خلافت راشدہ کا قیام بھی مقصد بنایا ہوا ہے وہ صحیح راہ سے گمراہ ہیں اور دین کی مخالفت کرنے والے ہيں۔ ان کی گمراہی کی یہ دلیل ہے کہ: پھر تو بلاشبہ اس کا معنی ہوا جماعت سے لزوم نہ کرنا اور ولاۃ امور (حکمرانوں کی) سمع وطاعت نہ کرنا (کیونکہ لزوم جماعت سے یہی مراد ہے)۔ اور بے شک اس کا یہی معنی ہوا کہ خلافت راشدہ کے قیام کی کوشش کرنا جماعت سے خروج کرنا ہوا، اور ولاۃ امور کی سمع وطاعت نہ کرنا ہوا۔ کیونکہ جو اصل اصول ہے وہ لزوم جماعت اور سمع وطاعت ہے ولاۃ امور کی، اور اس بارے میں بغیر معصیت کے ان کی بیعت کی پابندی ہے، اور ان کے ساتھ معروف میں تعاون کرنا ہے، امید ہے کہ اللہ تعالی خلافت راشدہ کے قیام کے بارے میں اس کی مدد فرمائے، کیونکہ بلاشبہ یہ اس کی مسئولیات میں سے ہے ناکہ عام مسلمانوں کی مسئولیت میں سے، اور جس کا ڈھنڈھورا حزبی گمراہ تنظیمیں اور جماعتیں پیٹتی رہتی ہیں۔ کیونکہ یہ سب کی سب اسی کی قائل ہیں یا تو علانیہ طور پر یا پھر خفیہ طور پر اپنے کارکنان اور پیروکاروں کی اسی پر تربیت کرتی ہیں!

آپ دیکھیں کیسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ م 728ھ نے اس معاملے کو آئمہ (حکمرانوں) سے متعلق ہی رکھا، اسے عام لوگوں بلکہ خاص لوگوں تک سے متعلق نہيں رکھا، جب انہوں نے یہ فرمایا کہ:

’’والسنة أن يكون للمسلمين إمام واحد والباقون نوابه، فإذا فرض أن الأمة خرجت عن ذلك لمعصية من بعضها، وعجز من الباقين فكان لها عدة أئمة، لكان يجب على كل إمام أن يقيم الحدود، ويستوفي الحقوق ….‘‘([1])

(سنت تو یہی ہے کہ مسلمانوں کا ایک ہی امام وخلیفہ ہو اور باقی سب اس کے وزراء یا نائبین ہوں۔ لیکن اگر بالفرض امت کے بعض گنہگاروں کی اور باقیوں کے عاجز ہونے کی  وجہ سے امت اس ایک امام کی امامت سے نکل جاتی ہے اور اس کے متعدد آئمہ بن جاتے ہیں۔ تو پھر ہر امام وحکمران پر یہ واجب ہوگا کہ وہ حدود کو قائم کرے اور حقوق کو ادا کرے۔۔۔)۔

اور یہ بات بھی اچھی طرح سے جان لیں کہ اہل سنت والجماعت کے یہاں ولی امر کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں یہ بات مقرر ہے کہ اسی کے لیے جماعت اور سمع وطاعت کو لازم پکڑا جائے، سوائے اس معصیت کے جس کا وہ حکم دے، اگرچہ وہ دولت خلافت قائم کرنے میں کوتاہی کا شکار ہو یا عاجز ہو۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ م 241ھ فرماتے ہیں:

’’والسمع والطاعة للأئمة وأمير المؤمنين البر والفاجر، ومن ولي الخلافة واجتمع الناس عليه ورضوا به ومن غلبهم بالسيف حتى صار خليفة وسمي أميرالمؤمنين‘‘([2])

(اور سمع وطاعت آئمہ اور امیر المؤمنین کی ہوگی خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ جو بھی خلافت پر والی ومتمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں، اور جو تلوار کے زور پر غالب ہوجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے، اور امیر المؤمنین  کہلایا جانے لگے)۔

اور جب امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر میں اس مسئلے کو ذکر کیا تو فرمایا:

’’وهذا يشبه حال الخلفاء من بني العباس بالعراق والفاطميين بمصر والأمويين بالمغرب‘‘([3])

(یہ حال تو بنی عباس کے خلفاء جو عراق میں ہیں، فاطمیوں کے جو مصر میں ہیں اور امویوں کے جو مغرب میں ہیں کہ مشابہ ہے)۔

امام محمد بن عبدالوہاب  التمیمی رحمہ اللہ م 1206ھ فرماتے ہیں:

’’الأئمة مجموعون من كل مذهب على أن من تغلب على بلد – أو بلدان – له حكم الإمام في جميع الأشياء ولولا هذا ما استقامت الدنيا، لأن الناس من زمن طويل – قبل الإمام أحمد إلي يومنا هذا – ما اجتمعوا على إمام واحد ولا يعرفون أحداً من العلماء ذكر أن شيئا من الأحكام لا يصح إلا بالإمام الأعظم‘‘([4])

(ہر مذہب کے آئمہ کرام  اس بات پر متفق ہیں کہ جو کوئی بھی کسی ایک یا اس سے زائد ممالک پر غالب آجائے تو تمام چیزوں کے بارے میں اس کا حکم امام (امام اعظم/خلیفہ) کا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ دنیا کے امور استقامت پر نہیں آسکتے تھے، کیونکہ لوگ تو ایک زمانۂ طویل سے یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور سے پہلے سےلے کر اب تک کسی ایک امام وخلیفہ پر تو کبھی متفق ہوئے ہی نہیں۔ اس کے باوجود ہمیں نہیں معلوم کہ کسی عالم نے یہ کہا ہو کہ (خلیفہ یا امام  یا لزوم جماعت اور سمع وطاعت کے تعلق سے دینی) احکام جب تک امام اعظم (یعنی تمام مسلم دنیا کا ایک ہی خلیفہ) نہ ہو تو ان پر عمل درست نہیں)۔

اور امام الشوکانی رحمہ اللہ م 1250ھ فرماتے ہیں:

’’لما اتسعت أقطار الإسلام، ووقع الاختلاف بين أهله، واستولى على كل قطر من الأقطار سلطان؛ اتفق أهله على أنه إذا مات بادروا بنصب من يقوم مقامه. وهذا معلوم لا يخالف فيه أحد، بل هو إجماع المسلمين أجمعين منذ قبض رسول الله – صلى الله عليه وسلم – إلى هذه الغاية ‘‘([5])

(جب حلقۂ اسلام بڑ ھ گیا اور اس کے اہل کے درمیان اختلاف رونما ہوا، تو پھر مختلف خطوں میں سے ہر خطے پر ایک سلطان (حکمران) نے حکومت قائم کی۔ اور وہاں کے اہل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جیسے ہی وہ فوت ہوجائے تو جلدی سے اس کی جگہ ایسے کو نصب کردیا جائے جو اس کے قائم مقام ہو۔ اور یہ بات بالکل معلوم ہے جس سے کسی نے اختلاف نہيں کیا، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کو اجماع رہا ہے اس وقت سے لے کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کرلی گئی اس غایت تک)۔

 


[1] مجموع الفتاوی: (35/175-176)۔

[2] اصول السنۃ روایۃ عبدوس ص 64۔

[3] تفسیر ابن کثیر: (1/74)، ط ۔ مکتبۃ النھضۃ بمکۃ المکرمۃ۔

[4] الدرر السنية في الأجوبة النجدية 9/5۔

[5] السیل الجرار المتدفق علی حدائق الازھار: 4/ 502، اس میں سے دیکھیں 4/512۔

June 12, 2016 | الشيخ محمد بن عمر بازمول, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com