menu close menu

حزبیوں کے خلاف کلام کرنے میں مبالغہ آرائی اختیار کرنا – شیخ احمد بن یحیی النجمی

Going to extremes in speaking against Hizbees – Shaykh Ahmed bin Yahyaa An-Najmee

حزبیوں کے خلاف کلا م کرنے میں مبالغہ آرائی اختیار کرنا

فضیلۃ الشیخ احمد بن یحیی النجمی رحمہ اللہ المتوفی سن 1429ھ

(سابق مفتی جنوبی سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: بعض صغار طالبعلم اپنے آپ کو ہمیشہ حزبیوں کے خلاف کلام میں ہی مشغول رکھتے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت اسی میں کھپاتے ہیں۔ اور اس طلب علم کو ضائع کرتے ہیں کہ جو انہیں ان کے رب پاس نفع دیتا ہے، ان کے لیے خبیث اورطیب میں تمیز کرکے بتلاتا ہے، کہ جس کے ذریعے سے وہ خود ان حزبیوں کے پاس موجود غلطیوں کو جان سکتے ہیں۔ مگران کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کا اس کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں لگتا کہ:  فلاں کے بارے میں تمہاری کیا رائے  ہے، اورفلاں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔اور ان کی غالب مجالس اسی بارے میں ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں پرلاپرواہی اور بناتحقیق کے بھی تہمتیں لگانا شروع کردیتے ہیں۔ آپ کی ایسے نوجوانوں کے لیے اور انہیں شرعی علم کی تحصیل پر ابھارنے کے سلسلے میں کیا نصیحت ہےوہ علم کہ جو ان کی بدعت سے حفاظت کرے گا؟

 

جواب: حقیقت یہ ہے کہ ان امور میں مبالغہ آرائی  طالبعلم کو حق بات سے باہر نکال کر بے جا جدال و لاحاصل بحث میں تضییعِ اوقات کی طرف لے جاتی ہے۔ بلکہ حالت ’’جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا‘‘  کے مصداق ہوجاتی ہے۔ یہ ناجائز ہے بلکہ طالبعلم پر واجب ہے کہ وہ اپنے اوقات کار کو اطاعت الہی، علمی تحقیق اور علمی حلقات میں حاضری میں صرف کرے۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم علماء کرام کی جانب سے ان حزبیوں کا رد سنیں یا ان کی صفات کے بارے میں جانیں تاکہ ان سے خبردار کرسکیں۔ لیکن ایسا کرنا کہ اپنے پورے قیمتی اوقات ان کے خلاف کلام کے ہی نذر کردیے جائیں اور اس علم کو طلب کرنے میں نہ لگائے جائیں کہ جو ہمیں فائدہ دے تو بلاشبہ یہ بہت ہی بڑی اور عظیم غلطی ہے۔

March 9, 2016 | الشیخ احمد بن یحیی النجمی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com