menu close menu

حج وعمرہ سیلفی لینے کا حکم؟ – شیخ عبدالرزاق بن عبدالمحسن البدر

Ruling regarding taking Hajj & Umrah selfies? – Shaykh Abdur Razzaq bin Abdul Muhsin Al-Badr
 

حج وعمرہ سیلفی لینے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق بن عبدالمحسن العباد البدر حفظہ اللہ

(رکن تعلیمی کمیٹی، جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: "وصية الإمام ابن القيم لأحد إخوانه" کی شرح  کے آڈیو کلپس سے مختصر مفہوم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دیگر عبادات کی طرح حج وعمرہ میں بھی نمود ونمائش وریاءکاری سے پرہیز اور اخلاص نیت شرط ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾  (آل عمران: 97)

(اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض )ہے)

﴿وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ﴾ (البقرۃ: 196)

(اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو)

اور حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ‘‘([1])

(میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے غنی ہوں۔ جس کسی نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاص نیت کو پانے اور ریاء کاری سے بچاؤ کے لیے میقات پہنچ کر خصوصی دعاء فرماتے  تھے:

’’اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا، وَلَا سُمْعَةَ ‘‘([2])

(اے اللہ! (اسے) ایسا حج (بنادے) جس میں نہ دکھلاوا ہو نہ جگ سنوائی)۔

لیکن ہمارے یہاں قدیم ریاءکاری سے بھی بڑھ کر اب کیمرے کے ذریعے یہ سب کیا جاتا ہے، کہ میں حج عمرہ کررہا ہوں پھر دنیا کو دکھایا جاتا ہے، بلکہ بسا اوقات تو صرف تصویر بنوانے کے لیے دعاء کے لیے ہاتھ اٹھائے جاتے ہيں کہ مجھ میں کتنا خشوع وخضوع ہے ، اس عظیم ترین عبادت کو اللہ کی رضا کے بجائے اس کام کے لیے کیا جارہا ہے، جو بلاشبہ بدترین دکھلاوا اور ریاء کاری ہے جسے حدیث مبارک میں شرک اصغر تک کہا گیا ہے، تو اتنی محنت، وقت اور پیسہ صرف کرکے انسان عبادت قبول کروانے اور گناہ بخشوانے کے بجائے اپنے نامۂ اعمال میں ریاء کاری وشرک اصغر لکھوا کر لائے، یہ کتنی بڑی محرومی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اخلاص نیت عطاء فرمائے۔

 


[1] صحيح مسلم كتاب الزهد والرقائق باب من أشرك في عمله غير الله۔

 

[2] اسے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن 2890 میں روایت فرمایا اور شیخ البانی نے صحیح ابن ماجہ 2355 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

 

August 7, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشیخ عبدالرزاق البدر, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com