menu close menu

حاکمیت الہی اور ریاست – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

The Rulership of Allaah and the state – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

حاکمیت الہی اور ریاست   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب منھج الأنبیاء فی الدعوۃ الی اللہ فیہ الحکمۃ والعقل، مقدمۃ طبع ثانی۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہاں پر لازم ہے کہ میں نوجوانوں کے لئے حاکمیتِ الہی اور ریاست میں فرق کی وضاحت کروں: جہاں تک ریاست کا تعلق ہے تو وہ ایک انسانی افراد کے مجموعے کا نام ہے جو کافر بھی ہوسکتا ہے، گمراہ اور منحرف بھی ، اور مومن بھی جیسا کہ خلافت راشدہ میں تھا، اور اس کے بعد جیسا کہ اسلامی حکومتوں میں کوتاہی پر مبنی ملوکیت (بادشاہت) میں تھا۔پس  جن افراد پر ایک مومن ریاست مشتمل ہے وہ محض اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کے وسائل ہیں جو اس کی شریعت کے نفاذ، جہاد، امربالمعروف ونہی عن المنکر(نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا)، اقامت حدود(حدود الہی کو نافذ کرنا)، قصاص(قتل کا بدلہ قتل)، امت کو دشمنوں کی سازشوں اور مسلمانوں کی سرزمین، جان، مال اور عزت پر کی جانے والی زیادتیوں سے حفاظت کے ذرائع ہیں۔ اسی لئے لازم ہے کہ وہ ایک حکومت کو تشکیل دیں تاکہ ان عظیم واجبات کی ادائیگی بحسن خوبی انجام پائے خواہ ایک خلیفہ کی بیعت کے ذریعہ ہو کہ جس پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہو، یا پھر امت کا کوئی فرد طاقت کے زور پر غالب آجائے جس کے پاس شان وشوکت، فوج اور غلبہ ہو توامت کی (شرعی) مصلحت کا تقاضہ ہے کے اسے بھی تسلیم کیا جائے، جب تک وہ ظاہرا اسلام کا دعویدار ہےاور اسلام کی شریعت اور عقائد کے نفاذ کا التزام کرتا ہے، اور دشمنوں کے خلاف ان کا دفاع کرتا ہے اور آخر تک جو معروف تفصیلات اسلامی کتب میں اپنے اپنے مقام پر ذکر کی گئی ہیں۔یا پھر بعض لوگوں کا بعض علاقوں پر قابض ہوجانا جیسا کہ خلافت کی کمزوری کے بعد مسلم علاقوں میں وقوع پذیر ہوا، اور (شرعی) مصلحت نے اس بات کا تقاضہ کیا کہ اسے (ان اسلامی ممالک کو) اسی وضع وشکل میں تسلیم کرلیا جائے۔

جبکہ جو حاکمیت یا حکم ہے تو یہ اللہ تعالی کی صفات اور اس کی ان خصوصیات میں سے ہے جس میں وہ منفرد ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ  ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ  ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ﴾ (یوسف: 40)

(حکم تو صرف ایک اللہ ہی کا ہے، اس نے یہی حکم دیا ہے کہ عبادت نہ کرو مگر صرف اسی کی، یہی مضبوط دین ہے)

اس حاکمیت کا منکر اور جھٹلانے والا وہی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالی سے کفر کرنے والا، اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں سے شدید عداوت  ودشمنی رکھنے والا ہو۔ بلکہ جو شخص دین کی فروعی جزئیات ومسائل میں سے بھی کسی ایک جزء یا مسئلے میں اللہ تعالی کی حاکمیت کا منکر ہو تو وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اگر اس کا یہ انکار علم ہونے کے باوجود ہو، البتہ اگر کوئی جاہل ہو تو وہ معذور ہوگا یہاں تک کہ اس پر دلیل واضح کرکے اس کا عذر ختم کردیا جائے۔

یہ جو کچھ میں نے بیان کیا حکام ہوں یا محکومین، افراد ہوں یا جماعتیں سب پر لاگو ہوتا ہے۔ اسی بات کا اقرار معتبر علماء اسلام نے فرمایا ہے جیسے امام ابن تیمیہ([1]) اور ان کے شاگرد رشید  حافظ ابن القیم([2]) رحمہما اللہ۔

جو اس حاکمیت کا اصول دین اور اس کے فروع میں، عقائد، عبادات، معاملات، سیاست، اقتصادومعاشیات، اخلاق اور اجتماع میں التزام کرے تو وہ مومن ہے۔ اور جو اس کا التزام نہ کرے (یعنی وہ انہیں اپنے اوپر لازم نہیں مانتا) خواہ تمام امور میں ہو یا بعض میں اور چاہے فرد ہو یا جماعت، حاکم ہو یا محکوم، داعی(دعوت دینے والا)  ہو یا مدعو(جس کو دعوت دی جارہی ہے)  کافر ہیں۔ اللہ کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ بہت سے فرقے، جماعتیں اور افراد اس طور پر کفر میں مبتلا ہیں کہ وہ حاکمیت الہی کا اصول دین میں بلکہ فروع میں بھی التزام نہیں کرتے، لہٰذا ان میں سے بہت سے ایسوں پر جن پر حجت تمام ہوچکی ہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوچکا ہےاس کے باوجود وہ دعوت توحید کی مخالفت، شرک وبدعات کے خلاف جنگ کی مخالفت، اور نہ صرف اہل توحیداور دعوت انبیاء ومرسلین و مخلص وصادق مصلحین کی مخالفت اور بائیکاٹ بلکہ لوگوں کو ان سے دور بھگانا اور متنفر کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں،ان پر خدشہ ہے کہ قیام ِحجت کے بعد یہ کفر کے گڑھے میں گر پڑیں گے۔

میں پوری امت کو دعوت دیتا ہوں خواہ حکام ہوں یا محکومین، افراد ہوں یا فرقے وجماعتیں کہ وہ اصول دین اور اس کی فروعات میں اللہ تعالی کی حاکمیت جو کہ عام اور (ہر چیز کو) شامل ہے پر کماحقہ(جیسا کہ اس کا حق بنتا ہے) ایمان لائیں۔ اوراصول دین اور اس کی فروعات میں اس کا بھرپور التزام کریں۔ اور تمام مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کو بھی دعوت دیتا ہوں چاہے وہ حاکمیت الہی کا التزام (پابندی) کرتے ہوں یا کسی بھی چیز کی تطبیق ونفاذ میں کسی کوتاہی کا شکار ہوں کہ وہ تمام میدان زندگی خواہ عقائد ہوں یا عبادات، معاملات، اقتصادومعاشیات، سیاست اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہو میں حاکمیت وشریعت الہی کا مکمل نفاذ کریں اور شرک وبدعات اور ہر قسم کی معاصی (گناہ) منکرات (برائیاں) خصوصاً سود اور دیگر تمام کبیرہ گناہ جو امت اور اس کے اخلاق کے لئے نقصان دہ ہیں کے خاتمے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اللہ تعالی (شریعت کا نفاذ کرنے والے) حکمران کے ذریعہ ان باتوں سے رکوا لیتا ہے جو (محض) قرآن (کے پڑھنے) کے ذریعہ نہیں رکتی، اور وہ دل میں پوری طرح اس بات کا شعور رکھیں کہ اللہ تعالی ان کی مسئولیت(ذمہ داری)  کے تحت ہر چھوٹی بڑی چیز کے بارے میں سوال کرے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے :

’’كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‘‘([3])

(تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت (رعایا) کے متعلق سوال کیا جائے گا)۔

اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث بھی یاددلاتا ہوں کہ:

’’مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ‘‘([4])

(کوئی بھی حاکم جس کے تحت مسلم رعایا  ہو اور اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ ان کے ساتھ دھوکہ بازی کرتا تھا تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام قرار دے دیتے ہیں)۔

 اور فرمایا :

’’مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ‘‘

(کسی بھی بندے کے ماتحت جب اللہ تعالی رعایا دیتا ہے، اور وہ ان کی نصیحت وخیرخواہی نہیں چاہتا، تو وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا)۔

امت کی خیرخواہی اور نصیحت چاہنے میں سے یہ بھی ہے کہ انہیں احکامات وشریعت الٰہی کے التزام پر تعلیم ووضاحت، ترغیب دینا اور تنبیہ کرنا، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اقامتِ حدود کے ذریعہ گامزن کیا جائے، اور ہر وہ تدابیر اپنائی جائیں جو انہیں شریعت الہی کے احترام کی طرف دعوت دے خواہ عقیدے کے اعتبار سے ہو یا عبادات، سیاست اور اخلاق کے اعتبار سے۔

میں اسلامی ممالک کے سربراہان کو دعوت دیتا ہوں کہ جو شریعت الہی کا التزام نہیں کرتے کہ وہ اللہ تعالی کی جانب رجوع کریں اور اس کے دین کا احترام کریں جو کہ قرآن وسنت پر مشتمل ہے، اور اس دین کے عقائد واحکامات کو اپناکر سرخرو وسرفراز اور کامیاب ہوجائیں کیونکہ اسی میں ان کی حقیقی عزت وکرامت ہے۔

یہ ذلت ورسوائی کی انتہاء ہے کہ ایسے قوانین کے آگے جھکا جائے جنہیں نیچ ترین انسانوں اور اس امت کے کھلے دشمنوں نے وضع کیا ہے، چاہے وہ یہود ہوں یا نصاریٰ (عیسائی) ، مجوس (آتش پرست) ہوں یا ملحدین (کمیونسٹ/سیکولر)۔ وہ امت کے جذبات کا لحاظ کریں کہ جنہوں نے بہت جدوجہد ومحنتیں کیں اور اپنے لاکھوں جوانوں کی قربانی دی فقط اس عظیم ومقدس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر کہ اس امت پر اسلام کی حاکمیت قائم ہو۔ اور اسلام کیا ہے؟ وہ اللہ تعالی کا دینِ حق ہے وہ اللہ کہ جو اس کائنات کا خالق ہے اور جس نے جن وانس کو اکیلے اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا فرمایااور تاکہ وہ اس اکیلے کی شریعت کے آگے سرتسلیم خم کریں۔ پس آپ خوداپنے عقیدے، اخلاق، تعلیم اور اس اسلامی نصاب کے مقرر کرنے میں کہ جس پر تعلیم وتربیت کا دارومدار ہے شریعت کا التزام کریں اور امت کو بھی اس پر کاربند کریں۔

میں علماء وداعیان امت اور تمام جماعتوں اور فرقوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ پوری امت خواہ بوڑھے ہوں یا جوان، مردہوں یا عورت کی خیر خواہی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور منہج وفہم سلف صالحین یعنی صحابہ، تابعین اور  آئمہ ہدایت میں سےوہ فقہاء ومحدثین ومفسرین جنہوں نے بھلائی کے ساتھ ان کی اتباع کی پر عقیدے، عبادت، اخلاق، معاملات، اقتصاد ومعاشیات اور اسلام وایمان کے تمام امور کے اعتبار سے جمع کریں۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کا کماحقہ ادراک وفہم حاصل کریں کہ:

﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾ (المائدۃ: 44)

(اور جو کوئی اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، پس یہی لوگ کافر ہیں)

﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ (المائدۃ: 45)

(اور جو کوئی اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، پس یہی لوگ ظالم ہیں)

﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ (المائدۃ: 47)

(اور جو کوئی اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، پس یہی لوگ فاسق ہیں)

یہ آیات ہر ایک کو شامل ہے چاہے وہ افراد ہوں یا جماعتیں، حکمران ہوں یا محکومین۔ مگر اسےمحض حکمرانوں تک محدود کردینا اوران  اہل اہوا وبدعت اور گمراہوں پر اسے نافذ نہ کرنا کہ جو اپنے عقائد، عبادات اور اخلاق میں اللہ تعالی کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے پرلے درجے کی جہالت، گمراہی اور بیوقوفی ہے۔ حالانکہ یہ آیات تو اللہ تعالی نے یہود سے متعلق نازل فرمائی تھیں جن کی صدیوں سے کوئی حکومت وریاست تھی ہی نہیں، ایسوں کے بارے میں نازل فرمائی کہ جن پر ذلت، محتاجی ومسکینی لکھ دی گئی تھی۔

لہذا میں نے حاکمیت الہی کو اسی وسیع تر اور کامل وشامل معنی کے ساتھ اپنی کتاب میں بیان کیا تھا، دیکھئے عربی کتاب کی طبع ھذا کا (ص: 133 اور اس کے بعد کے اوراق) اور (ص:196)۔

 


[1] (( منهاج السنَّة النبويَّة )) (3/32) اور اس کے بعد جو کلام ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالی کی حاکمیت کا التزام نہیں کرتا وہ کافر ہے، اور ساتھ ہی علمی اور عملی دونوں امور میں اس کا عموم بیان فرمایا ہے۔

[2] (( مدارج السالكين )) ( 1/336).

[3] صحیح بخاری 849۔

[4] یہ اور اس کے بعد والی حدیث ((صحيح  البخاري))، كتاب الأحكام (رقم:7150-7151)۔

January 24, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com