menu close menu

جب جمعہ اور عید ایک دن جمع ہوجائیں تو کیا کیا جائے؟ فتوی کمیٹی، سعودی عرب

What to do in the case when the day of Eid happens to be a Friday? – Fatwaa committee, Saudi Arabia

جب جمعہ اور عید ایک دن جمع ہوجائیں تو کیا کیا جائے؟

علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتوى اللجنة الدائمة في ما إذا وافق يوم العيد يوم الجمعة رقم 21160 وتاريخ 8/11/1420 هـ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده وعلى آله وصحبه … أما بعد:

اس بارے میں بہت کثرت سے سوال ہوئے کہ عید کا دن اور جمعہ کا دین یعنی دو عیدیں ایک ہی دن میں باہم جمع ہوجائیں یعنی عید الفطر یا عید الاضحیٰ یوم جمعہ جو کہ ہفتہ وار عید کا دن ہے کے ساتھ جمع ہوجائیں، تو کیا اس شخص پر نماز جمعہ واجب ہے جو نماز عید میں شرکت کرچکا یا پھر اس کے لیے نماز عید ہی کافی ہے، اور وہ جمعہ کے بدلے ظہر پڑھے گا؟ اور کیا مساجد میں نماز ظہر کے لیے اذان دی جائے گی یا نہیں؟ اور آخر تک جو اس کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں۔ پس علمی تحقیقات وافتاء کی دائمی کمیٹی نے مندرجہ ذیل فتوی جاری کرنا مناسب سمجھا:

اس مسئلے پر مرفوع احادیث اور موقوف آثار موجود ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1- سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ان سے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے یہ پوچھا کہ: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی دو عیدیں ایک دن میں جمع ہوجائیں پائی ہیں؟  فرمایا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟  فرمایا: عید نماز پڑھی پھر جمعہ نماز کے لیے لوگوں کو رخصت دے دی اور فرمایا کہ:

’’مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ‘‘([1])

(جو چاہے تم میں سے نماز جمعہ پڑھے تو پڑھے)۔

2- اور جو اس کا شاہد مذکور ہوا ہے وہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ‘‘([2])

(تحقیق تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہيں، پس (عید نماز پڑھ لینے والوں میں سے) جو چاہے تو (یہ عید نماز) اسے جمعہ نماز سے کفایت کرے گی،  البتہ ہم  جمعہ پڑھیں گے)۔

 

3- اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ فرماتے ہیں: عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں دو عیدیں جمع ہوگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید نماز پڑھائی اور فرمایا:

’’مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ‘‘([3])

(جو چاہے جمعہ نماز میں آنا تو وہ آئے اور جو (جمعہ نماز کے لیے نہ آنا چاہے اور) بیٹھ رہنا چاہے تو بیٹھ رہے)۔

 

اور المعجم الکبیر کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں عید الفطر اور جمعہ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید نماز پڑھائی پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَأَجْرًا، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُجَمِّعَ مَعَنَا فَلْيُجَمِّعْ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيَرْجِعْ‘‘

(اے لوگو! بلاشبہ تحقیق تم  لوگوں نے (یہا ں پر ہی) خیر اور اجر پا لیا ہے البتہ ہم جمعہ نماز پڑھیں گے، جو ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے تو جمعہ پڑھے، اور جو اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹ جانا چاہے تو وہ لوٹ جائے)۔

 

4- سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‘‘([4])

(تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں، پس جو چاہے تو اسے یہ جمعہ نماز سے کفایت کرے گی، البتہ ہم ان شاءاللہ جمعہ پڑھیں گے)۔

 

5- امام ذکوان بن صالح رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے کہ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں یوم جمعہ اوریوم عید پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید نماز پڑھائی  اور کھڑے ہوکر لوگوں کو خطاب فرمایا کہ:

’’قَدْ أَصَبْتُمْ ذِكْرًا وَخَيْرًا، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُجَمِّعَ فَلْيُجَمِّعْ‘‘([5])

(تحقیق تم لوگوں نے ذکر اور خیر کو پالیا، اور ہم یقیناً جمعہ پڑھیں گے، پس جو چاہے کہ وہ (اپنے گھر میں) بیٹھ رہے تو وہ بیٹھ رہے، اور جو چاہے کہ جمعہ پڑھے تو وہ جمعہ پڑھے)۔

 

6- امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا: ہمیں سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما نے بروز جمعہ دن کے شروع میں نماز عید  پڑھائی، پھر ہم جمعہ نماز کے لیے گئے تو وہ نہ نکلے، لہذا ہم نے اکیلے اکیلے ہی نماز پڑھ لی۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما  طائف میں ہوا کرتے تھے جب ہم آپ  کے پاس پہنچے تو یہ بات ان سے ذکر کی، اس پر آپ  نے فرمایا:

’’أَصَابَ السُّنَّةَ‘‘([6])

(انہوں نے سنت کو پالیا)۔

ابن خزیمہ نے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا اور آخر میں یہ اضافہ کیا کہ سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِذَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا‘‘

(میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب دو عیدیں جمع ہوتی تو وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے)۔

 

7- صحیح بخاری اور موطأامام مالک میں  أبي عبيد مولى ابن أزهر سے روایت ہے کہ ابو عبید رحمہ اللہ نے فرمایا: میں عیدین میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  کے ساتھ حاضر تھا اور وہ جمعہ کا دن تھا، پس آپ نے (عید کے) خطبے سے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا، اور فرمایا:

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ‘‘([7])

(اے لوگو! اس دن تم لوگوں کے لیے ایک ہی دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہيں، چناچہ مضافات وغیرہ  میں رہنے والوں میں سے جو جمعہ کا انتظار کرنا چاہے تو وہ  انتظار کرے، اور جو واپس لوٹ جانا چاہے تو میں نے اسے اجازت دی)۔

 

8- سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب دو عیدیں جمع ہوگئی تو آپ  نے فرمایا :

’’مَنْ أَرَادَ أَنْ يُجَمِّعُ فَلْيُجَمِّعْ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ‘‘([8])

(جو جمعہ پڑھنا چاہے تو وہ جمعہ پڑھے، اور جو بیٹھ رہنا چاہے تو وہ بیٹھ رہے)۔

امام سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بیٹھ رہنے سے مراد اپنے گھر ہی میں بیٹھا رہے۔

 

چناچہ ان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی مرفوع احادیث ،  صحابہ کرام y کی ایک تعداد کے موقوف آثار اور جو جمہور اہل علم نے ان کا فقہ وفہم بیان کیا ہے کی بنیاد پر فتوی کمیٹی مندرجہ ذیل احکام کی وضاحت کرتی ہے:

1- جو کوئی نماز عید میں حاضر ہوا تو اسے رخصت حاصل ہے کہ وہ جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہو، اور ظہر کے وقت پر نماز ظہر ادا کرے، البتہ اگر وہ عزم وہمت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کے ساتھ مل کر جمعہ ہی پڑھ لیتا ہے تو یہ افضل ہے۔

 

2- جو کوئی نماز عید میں حاضر نہيں ہوا تھا تو اسے یہ رخصت شامل نہيں، اسی لیے اس سے جمعہ کا وجوب ساقط نہیں ہوتا، اور اس پر واجب ہے کہ وہ مسجد میں نماز جمعہ کے لیے حاضر ہو، اور اگر اتنے لوگ مسجد میں نہ ہوں کہ جمعہ ہی ادا نہ کیا جاسکے تو پھر ظہر پڑھ لے۔

 

3- جامع مسجد کے امام پر تو واجب ہے کہ وہ اس روز نماز جمعہ کو قائم کرےتاکہ جو اس میں حاضر ہونا چاہے وہ حاضر ہو اور جس نے عید نماز نہ پڑھی ہو وہ بھی، چناچہ اگر اتنے لوگ جمع ہوجائیں کہ جمعہ نماز ادا کی جاسکتی ہو تو ادا کریں ورنہ ظہر کی نماز پڑھیں۔

 

4- جو کوئی عید نماز میں حاضر ہوا اور جمعہ میں حاضر نہ ہونےکی رخصت پر عمل کرنا چاہتا ہو تو وہ ظہر کا وقت داخل ہونے پر ظہر کی نماز ادا کرے۔

 

5- اس وقت اذان مشروع نہيں ہے سوائے ان مساجد میں جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے، اس روز ظہر کی اذان دینا مشروع نہيں۔

 

6- یہ قول کہ جو کوئی نماز عید میں حاضر ہو اس پر سے نہ صرف جمعہ بلکہ اس روز کی نماز ظہر تک ساقط ہوجاتی ہے صحیح قول نہيں ہے۔ اس لیے علماء کرام نے اس قول کو سنت کے خلاف ہونے اور اللہ کے فرائض میں سے ایک فریضہ کو بلادلیل ساقط کردینے کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے اور اس کے غلط اور انوکھے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوسکتا ہے اس کے قائل کے پاس اس مسئلے سے متعلق جو سنن اور آثار ہيں وہ نہ پہنچے ہوں کہ جو جمعہ کے روز عید نماز پڑھ لیتا ہے تو اس پر سے صرف جمعہ ساقط ہوتا ہے لیکن اس پر ظہرکی نماز پھر بھی واجب ہی رہتی ہے۔

والله تعالى أعلم. وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد الله آل الشيخ

الشيخ عبد الله بن عبد الرحمن الغديان

الشيخ بكر بن عبد الله أبو زيد

الشيخ صالح بن فوزان الفوزان۔

 


[1] رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي والحاكم في "المستدرك" وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه، وله شاهد على شرط مسلم. ووافقه الذهبي، وقال النووي في "المجموع": إسناده جيد.

 

[2] رواه الحاكم كما تقدم، ورواه أبو داود وابن ماجه وابن الجارود والبيهقي وغيرهم.

 

[3] رواه ابن ماجه ورواه الطبراني في "المعجم الكبير"۔

 

[4] رواه ابن ماجه، وقال البوصيري: إسناده صحيح ورجاله ثقات.

 

[5] رواه البيهقي في السنن الكبرى.

 

[6] رواه أبو داود، وأخرجه ابن خزيمة بلفظ آخر۔

 

[7] صحیح بخاری 5573۔

 

[8] رواه عبد الرزاق في المصنف ونحوه عند ابن أبي شيبة.

August 31, 2017 | فتوی کمیٹی - سعودی عرب, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com