menu close menu

تنظیمی امارتوں کا شرعی حکم؟ – مختلف علماء کرام

Shari'ah ruling regarding Islaamic organisations and their Imaarat – Various 'Ulamaa

سوال: ہمارے یہاں سوڈان میں جماعت ہے جو سلفی عقیدہ رکھتی ہے، انہوں نے اپنی جماعت  کا ایک مرکزی امیر مقرر کیا ہے ساتھ ہی مختلف فروعی (علاقائی، صوبائی وغیرہ) امراء بھی مقرر کیے ہيں۔ اور اپنے جماعتیوں کو اس امیر کی اطاعت  کے لزوم کا کہتے ہیں، اجتہادی امور میں اس کی اطاعت کو لازم قرار دیتے ہیں۔۔۔؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

اس تنظیم سازی کی میں کوئی شرعی اصل نہیں جانتا۔ یہ جو تنظیم سازی سائل نے ذکر کی ہے اس کی میں کوئی شرعی اصل وبنیاد نہیں جانتا۔ امارت تو صرف مسلمانوں کے حکمران کی ہوتی ہے کہ اس کی سماع وطاعت کی جاتی ہے معروف میں معاصی میں نہیں۔ لیکن کوئی جماعت ہو اور اس کا امیر کہلایا جاتا ہو، اور اس کے فرمان کی پیروی ہوتی ہو تو یہ بہت عظیم غلطی ہے۔

(کیسٹ  لقاء متوكل السودانى مع العلامة ابن باز والالبانى رحمہما اللہ جس میں سوڈانی انصار السنۃ اور جماعتوں، تنظیموں اور احزاب سے متعلق سوال وجواب ہیں)

 

اس کے علاوہ مزید علماء کرام جیسے شیخ ابن عثیمین، الالبانی، فتوی کمیٹی سعودی عرب، شیخ مقبل الوداعی، احمد النجمی، عبدالسلام بن برجس اور شیخ صالح آل الشیخ کے کلام کے لیے مکمل مقالے پڑھیں۔

March 19, 2016 | الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, الشیخ احمد بن یحیی النجمی, الشیخ صالح آل الشیخ, الشیخ عبدالسلام بن برجس, الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com