menu close menu

تصویر کشی کا فتنہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے کلام سے استدلال کرنا

The Fitnah of photography and trying to justify it by Shaykh Ibn Uthaimeen's (rahimaullaah) viewpoint

تصویر کشی کا فتنہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے کلام سے استدلال کرنا   

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ الآجری۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آجکل جو فتنے عام ہیں ان ہی میں تصویر کشی کا فتنہ اور اس کی کثرت ہے۔ ان لوگوں میں بعض شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کے تصویر کشی کے جواز والے فتوے کو دلیل بنارہے ہوتے ہیں، حالانکہ فی الواقع شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس حکم کو معلق رکھا ہے اس طور پر کہ اگر اس سے غرض مباح وجائز ہو تو یہ مباح ہوگا بصورت دیگر اگر اس سے غرض حرام اور فضولیات ہو تو اس کا حکم بھی حرام اور ممنوع ہوگا جو کہ وسائل کی تحریم کے باب میں سے ہے۔ چناچہ آپ رحمہ اللہ ریاض الصالحین کی شرح 1/1789 میں فرماتے ہیں:

یہ مباح ہے لیکن اگر اس سے غرض حرام ہو تو یہ جائز نہیں وسائل کی تحریم کے باب میں سے۔ البتہ اگر کوئی مباح غرض ہو جیسے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے یا شناختی کارڈ یا ان جیسی ضروریات کے لیے اگر تصویر لی جائے تو جائز ہوگی۔ یہ ہے ہماری رائے اس مسئلے کے تعلق سے، لیکن فی زمانہ لوگ اس تصویر کے فتنے میں بہت زیادہ مبتلا ہيں اور یہ ہرچیز میں ہی موجود ہے۔لیکن انسان پر واجب ہے کہ وہ جانے، تحقیق کرے اور تمیز کرے اس میں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے اور اس میں جس کی حرمت نہيں آئی۔ ہم اللہ کے بندوں پر بلاوجہ تنگی نہيں ڈالنا چاہتے اور ساتھ ہی انہيں اس چیز میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے جو اللہ تعالی نے حرام قرار دی ہے، جیسا کہ ذی روح کی تصویر کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ‘‘([1])

(جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی تو بروز قیامت اسے اس میں روح پھونکنے کا پابند بنایا جائے گا، حالانکہ وہ کبھی بھی اس میں روح نہيں پھونک سکے گا)۔

اسی طرح سے اپنے جریدے ’’المسلمون‘‘ کو بروز جمعہ 29/11/1410ھ شمارہ 281 میں دیے گئے انٹرویو میں کیمرے کی تصویر پر بات کرنے کے بعد واضح طور پر فرمایا کہ:

لیکن یہ بات مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اس تصویر سے مقصود کیا ہے؟

اگر اس سے کوئی مباح چیز مقصود ہے تو یہ عمل مباح ہوگا اس مقصود کے مباح ہونے کی وجہ سے، اور اگر اس سے مقصود کوئی غیرمباح (ناجائز) عمل ہو تو یہ حرام ہوگی۔ اس لیے نہيں کہ یہ محض تصویر ہے بلکہ اس لیے کہ اس سے مقصود حرام چیز ہے۔

سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصویر کے تعلق سے  کون سے مباح اغراض ومقاصد ہیں  اور کون سے حرام؟

جواب: مباح اغراض یہ ہيں کہ کسی چیز کے ثبوت کے لیے تصویر درکار ہو جیسے کسی کی شناخت کے لیے، یا ٹریفک حادثات وجرائم، یا کسی کام کی نگرانی وانتظام کے لیے  کہ کسی سے یہ طلب کیا جائے اور اسے ثابت کرنے کے لیے اسے تصویر  کا سہارا لینا پڑے۔

ناجائز اغراض کی مثال یادگار کے لیے تصاویر لینا جیسے دوستوں کی، شادی بیاہ کی تقریبات کی یا اس جیسی کیونکہ اس صورت میں تصویروں کو بلاضرورت رکھا جانا لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔ کیونکہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ بے شک فرشتے اس گھر میں داخل نہيں ہوتے جس میں تصویر ہو۔ اور انہی ناجائز تصویروں میں سے کسی کی فوت شدہ محبوب ہستی کی تصویر جیسے ماں باپ کی یا بھائی کی جسے وہ وقتاً فوقتاً دیکھا رہتا ہے، کیونکہ اس طور پر تو اس کا اس پر غم تازہ ہوجاتا ہے، اور اس کی وجہ  سے میت کے ساتھ دل بہت زیادہ جڑا رہتا ہے۔

اسی طرح سے ناجائز تصاویر کی مثال نفسانی اور جنسی لذت کی خاطر تصاویر دیکھنا، کیونکہ یہ انسان کو فحاشی کی طرف لے جاتی ہیں۔

یہ کچھ مثالیں ہیں اس قاعدے کی جو ابھی ہم نے ذکر کیا، یہ بطور حصر نہيں (کہ ہم نے ساری جائز وناجائز صورتیں بیان کردی ہوں بلکہ بطور مثال ہے جس پر باقی کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے) لیکن جسے اللہ تعالی نے فہم دیا ہے تو وہ عنقریب باقی تصاویر پر بھی یہ قاعدہ منطبق کرسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہم اللہ تعالی سے تمام لوگوں کے لیے ہدایت اور اس کام کی توفیق طلب کرتے ہيں جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے۔

شیخ رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔

لہذا ہم شیخ رحمہ اللہ کے سابقہ کلام میں یہ بات پاتے ہيں کہ شیخ نے اس لیے ہرگز اجازت نہيں دی ہے کہ بلاوجہ یاددگار وغیرہ کے لیے ان تصاویر کو رکھا جائے حالانکہ آجکل سب سے زیادہ اسی غرض ومقصود کے لیے یہ تصاویر عام ہیں۔ واللہ المستعان۔

(تیار کردہ: ابو عبداللہ وائل اللیبی)

 


[1] صحیح مسلم 2113۔

 

 

February 27, 2017 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com