menu close menu

تروایح میں ختمِ قرآن کے موقع پر کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرنا – فتوی کمیٹی، سعودی عرب

Distributing sweets, drinks and edibles after completion of Quran in Taraweeh – Fatwaa Committee, Saudi Arabia

تروایح میں ختمِ قرآن کے موقع پر کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرنا   

علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى اللجنة الدائمة > المجموعة الأولى > المجلد الثاني (العقيدة 2) > البدع > بدع قراءة القرآن > حكم توزيع المأكولات والمشروبات عند ختم القرآن۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فتویٰ رقم 2740:

سوال:علماء کرام مندرجہ ذیل مسائل میں شریعت کا کیا حکم ہے:

1- کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  قیام رمضان میں ختم قرآن کریم کے موقع پر کچھ کھانے پینے کی اشیاء  و میٹھی چیزیں تقسیم فرمائی تھیں؟ یا آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے یا تابعین و تبع تابعین وسلف صالحین میں سے کسی نے؟

اگر یہ بات خیر القرون میں ثابت ہے تو ہمیں اس کی طرف رہنمائی کیجئے کتاب کے صفحے، جلد اور طبع کے ساتھ۔ اور اگر یہ ثابت نہيں ہے  تو پھر ہمیں دلیل کی روشنی میں بتلائیں کہ کیا یہ عمل اہتمام کے ساتھ کرنا جائز ہے ساتھ میں کرنے والے کا اعتقاد ہو کہ یہ کھانے ، پینے کی چیزیں اور حلوہ جات تبرکات میں سے کوئی تبرک ہيں؟

جواب: جہاں تک ہمیں علم ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت نہيں ناہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، اور نہ ہی تابعین و آئمہ سلف میں سے  کہ جب وہ قیام رمضان میں قرآن  مجید ختم کرتے تو یہ کھانے پینےکی اشیاء اور حلوہ جات و مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوں اوراس  کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہوں۔ بلکہ یہ دین میں نیا کام اور بدعت ہے اس طور پر کہ اسے ایک عبادت کے بعد کیا جاتا ہے جس سے عین ممکن ہے کہ یہ (عبادت ہی) اس کی وجہ سے کی جاتی ہو اور اس کے وقت کی مناسبت سے اس کا وقت رکھا جاتا ہو۔ اور دین میں ہر بدعت گمراہی ہے، کیونکہ اس سے شریعت  کی تکمیل پر اتہمام لازم آتا ہے(یعنی گویا کہ دین مکمل نہیں)، جبکہ اللہ تعالی کا تو فرمان ہے کہ:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا﴾ (المائدۃ: 3)

 (آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا)

اور  اس لیے کہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون، فقلنا: يا رسول الله، كأنها موعظة مودع فأوصنا، فقال: أوصيكم بتقوى الله، وبالسمع والطاعة، وإن تأمر عليكم عبد، فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي، تمسكوا بها، وعضو ا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة ‘‘([1])

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک وعظ فرمایا جس سے دل دہل گئے اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، پس ہم نے کہا لگتا ہے کہ گویا یہ کسی الوداع کہنے والے کا وعظ ہے تو آپ ہمیں کوئی وصیت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور(حکومت کی بات) سننے اور اطاعت کرنے کی اگرچہ تم پر کوئی  غلام ہی کیوں نہ حکومت کرے، کیونکہ بے شک میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔ تو تمہیں چاہیے کہ  میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے رہو اور اسے اپنے جبڑوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لو، اور (دین میں) نئے نئے کاموں سے بچو کیونکہ بلاشبہ (دین میں) ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت  گمراہی ہے)۔

اور مالک بن انس رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ فرمایا:

’’جس نے  دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو اس کا گمان ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا﴾ (المائدۃ: 3)

 (آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے

 پر رضامند ہوگیا)([2])

لہذا جو اس دن دین نہيں تھا تو وہ آج بھی دین نہيں ہوسکتا۔اھ

لیکن اگر کبھی کبھار ایسا ہوجائے بنا کسی پابندی و باقاعدگی سے اہتمام کے تو اس میں کوئی حرج نہيں۔

وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإِفتاء

عضو                                 عضو              نائب رئيس اللجنة                    الرئيس

عبد الله بن قعود            عبد الله بن غديان         عبد الرزاق عفيفي           عبد العزيز بن عبد الله بن باز

 


[1] سنن الترمذي العلم (2676) ، سنن ابن ماجه المقدمة (44) ، مسند أحمد بن حنبل (4/126) ، سنن الدارمي  (95)۔

[2] اس کے علاوہ امام صاحب نے یہ آیت بھی ذکر فرمائی کہ: ﴿يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ﴾(المائدۃ: 67) (اے رسول ! پہنچا دو جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا)  (توحید خالص ڈاٹ کام)

June 14, 2018 | فتوی کمیٹی - سعودی عرب, قرآن وتفسیر, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com